Print this page

شہیدوں کے پاکیزہ جسم کے ساتھ ؟

بهمن 17, 1392 394
Rate this item
(0 votes)

جنگ کے خاتمہ

اور میدان جنگ کے خالی ہو جانے کے بعد قریش کی اوباش عورتیں اور مشرکین کے سپاہی، شہیدوں کے پاکیزہ اجسام کی رف بڑھے اور اپنے انتقام کی آگ کو بجھانے کے لیے انہوں نے لرزا دینے والے مظالم کئے، شہیدوں کے طاہر جسم کو مثلہ کر دیا، ابوسفیان کی بیوی ہند، ان کی عورتوں کی پیشرو تھی اور اس نے جناب حمزہ اور تمام شہیدوں کے اعضا کاٹ کر گلوبند اور دست بند بنالیا تھا۔ جب ہند جناب حمزہ کے جسد اطہر کے پاس پہنچی تو اس نے ان کے سینہ کو چاک کرکے ان کا جگر نکال کر دانت سے چبانا چاہا لیکن اس کو چبا نہ سکی آخر میں اس نے زمین پر پھینک دیا۔

اس بدترین جرم کے ارتکاب کے بعد وہ ”ہند جگر خوار“ کے نام سے مشہور ہوگئی۔

بجز حنظلہ جن کا باپ (ابوعامر) سپاہ مشرکین میں تھا، تمام شہیدوں کے جسم کو مثلہ کر دیا گیا۔ (سیرة حلبی ج۲ ص ۲۴۴)

طرفین کے نقصانات کا تخمینہ

جنگ احد میں مسلمانوں کی طرف سے ستر آدمیوں نے جام شہادت نوش فرمایا اس میں سے چار افراد ہاجرین اور بقیہ انصار میں سے تھے۔ تقریباً ستر افراد زخمی ہوئے۔ مشرکین میں سے ۲۲ سے ۲۶ افراد تک ہلاک ہوئے جن میں آدھے افراد شمشیر علی علیہ السلام سے قتل ہوئے تھے۔ (ارشاد مفید ص۴۳)

مفہوم شہادت

منافقین مدینہ میں سے ”قرمان“ نامی ایک شخص جب رسول خدا کے سامنے آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ”جہنمی ہے۔“

جب جنگ احد چھڑی تو قرمان لشکر اسلام سے روگردانی کرکے عبداللہ بن ابی اور دیگر منافقین سے جاملا۔ جب وہ مدینہ آیا تو عورتوں نے اس کی سرزنش کی اس کو غیرت محسوس ہوئی اور وہ اسلحہ سج کر احد کی طرف روانہ ہوا اس نے مردانہ وار جنگ کی اور نہایت شجاعت اور دلیری کے ساتھ چند مشرکین کو قتل اور زخمی کیا۔ جنگ کے آخری لمحات میں بہت زیادہ زخمی ہو کر میدانِ جنگ میں زمین پر گر پڑا مسلمان اس کی طرف دوڑے اور کہا۔ شہادت تمہیں مبارک ہو۔ اس نے کہا کہ میں کیوں خوش ہوں؟ میں نے صرف اپنے قبیلہ کے شرف کے لیے جنگ کی ہے اگر میرا قبیلہ نہ ہوتا تو میں جنگ نہ کرتا۔ زخموں کے درد کو اس سے زیادہ تحمل نہ کرسکا۔ لہٰذا ترکش سے ایک تیر نکال کے اس نے خودکشی کرلی۔ (مغازی ج۱ ص ۲۲۳، ۲۲۴)

Last modified on چهارشنبه, 24 ارديبهشت 1393 10:39
Login to post comments