×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ہمسفر کے حقوق

بهمن 17, 1392 399

حضرت علی علیہ السلام

کی حکومت کے زمانے میں ایک غیرمسلم شخص راستے میں جناب امیر کا ہمسفر ہوگیا وہ آپ کونہيں پہچانتا تھا اس نے جناب امیر سے سوال کیا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں حضرت نے فرمایا : کوفہ ۔ جب دونوں ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں سے دو راستے الگ الگ ہو جاتے ہیں تو وہ غیرمسلم شخص دوسرے راستے کی جانب چل پڑا حضرت نے کچھ دور تک اس کا ساتھ دیا اس نے حضرت سے کہا کہ آپ تو کوفہ جا رہے تھے کیوں اس راستے پر آ رہے ہيں کیا آپ کو نہیں معلوم کہ کوفہ کا راستہ ادھر سے نہيں جاتا ؟ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا مجھے معلوم ہے لیکن ہمارے پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ اچھی رفاقت و دوستی یہ ہے کہ دوست کا کچھ دور تک ساتھ دیا جائے اور کچھ دور تک اسے رخصت کیا جائے میں اسی لئے تیرے ساتھ یہاں تک آیا ہوں ۔ اس غیرمسلم شخص نے کہا کہ جو لوگ بھی دین اسلام کے پیروی کر رہے ہيں وہ اس دین کی اخلاقی تعلیمات کے گرویدہ ہوگئے ہيں اوراب میں آپ کو گواہ بنا رہا ہوں کہ میں بھی اسلام قبول کر رہا ہوں ۔

وہ شخص وہیں حضرت ‏علی علیہ السلام کے ہمراہ کوفہ آیا اور کوفہ پہنچنے کے بعد اسے یہ معلوم ہوا کہ آپ ہی امیرالمومنین ہیں اور پھر اس نے آپ کے حضور کلمہ شہادت زبان پر جاری کیا ۔

Last modified on سه شنبه, 23 ارديبهشت 1393 14:24
Login to post comments