×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

پيغبر کي بيوي پر تہمت (حديث افک)

بهمن 22, 1392 612

رسول خدا جب سفر ميں

جانا چاہتے (حتيٰ جنگ کے ليے سفر ميں بھي) تھے تو اپي بيويوں کے درميان قرعہ نکالتے تھے جس کے نام قرعہ نکل آتا تھا اس بيوي کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے-

غزوہ بني مصطلق ميں جناب عائشہ کے نام قرعہ نکلا آپ انہيں اپنے ساتھ لے گئے- جنگ سے واپسي کے وقت جب مدينہ کے قريب پہنچے تو وہيں ٹھہر گئے اور آرام کرنے لگے- اسي اثنا ميں عائشہ اس بات کي طرف متوجہ ہوئيں کہ ان کا گلوبند گم ہوگيا ہے اس کو ڈھونڈنے کے ليے آپ خيمہ گاہ سے دور چلي گئيں جب واپس پلٹيں تو لشکر اسلام کا قافلہ وہاں سے کوچ کэکا تھا اور تنہا عائشہ رہ گئيں تھيں- ايک متقي اور ايک نيک شخص جس کا نام ”‌صفوان بن معطل” تھا وہ لشکر اسلام کے پيچھے پيچھے اطلاعات حاصل کرنے کے ليے چلا کرتے تھے- وہاں پہنچے اور عائشہ کو ديکھا کہ وہ وہاں تنہا ہيں- نہايت ادب سے وہ اونٹ سے نيچے اترے، اونٹ کو زمين پر بٹھايا اور خود دور کھڑے ہوگئے- يہاں تک کہ عائشہ اونٹ کي پشت پر سوار ہوگئيں انہوں نے اونٹ کي مہاсکڑي اور راستہ ميں ايک حرف بھي گفتگو کئے بغير ان کو مدينہ لے آئے- جب يہ لوگ مدينہ پہنچے تو منافقين نے عبداللہ بن ابي کي قيادت ميں صفوان اور عائشہ کے بارے ميں تہمتيں تراشيں- ناواقف ان تہمتوں کو لے اڑے مدينہ ميں تہمتوں اور افواہوں کا بازار گرم تھا، اور ہر آدمي ايک الگ بات کہتا تھا- عائشہ بيمار ہوگئيں اور اس تہمت کے غم ميں جو بے گناہي کے باوجود ان پر لگايا گيا تھا، روتي تھيں اور کسي وقت ان کو چين نہ تھا قريب تھا کہ اس موضوع پر فتنہ بсا ہو جائے کہ سورہ نور کي 11 سے 27 تک آيات نازل ہوئيں اور عائشہ کو يہ خوش خبري سنائي گئي کہ خدا تمہاري پاکيزگي پر گواہ ہے- (طبري ج2 ص 611)

پھر رسول خدا نے تہمت لگانے والوں پر حد جاري کي- جن لوگوں پر حد جاري کي گئي ان ميں حسان بن ثابت اور حمنہ کا نام نظر آتا ہے-

ابن اسحاق کہتا ہے کہ بعد ميں معلوم ہوا کہ صفوان بن معطل دراصل مردانگي ہي سے عاري تھا اور عورتوں کے ساتھ نزديکي نہيں کرسکتا تھا- يہ مرد پارسا کسي جنگ ميں شہيد ہوگيا-

Last modified on شنبه, 20 ارديبهشت 1393 10:27
Login to post comments