×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امت کا علاج قرآن پاک ( حصّہ دوّم )

بهمن 25, 1392 575

مسلم حکمرانوں

ايک طرف امت کے روشن مستقبل کي خاطر قرآني تعليمات سے مستفيد ہوں تو دوسري طرف وہ اسلامي تاريخ کے صحراؤ ں ميں غور و فکر کي گھڑ دوڑ ميں حصہ ليں تاکہ انکے من کي تاريکي خدائي تعليمات کے نور سے روشن ہوجائے- اسلام کي ديدہ زيب تاريخ ساز ہسٹري کي ايک جھلک پيش ہے-

حضرت جعفر بن طيار حضرت  کے چچا زاد بھائي اور حضرت علي شير خدا کے بھائي تھے- مہمان نوازي اور زي احتياج و تنگدست لوگوں کي مدد کرنا انکے پسنديدہ امور تھے انہيں جب پتہ چلتا کہ شہر ميں فلاں شخص کے گھر مفلوک الحالي نے ڈيرے ڈال رکھے ہيں تو وہ فوري طور پر سامان ليکر وہاں پہنچ جاتے ہجرت حبشہ کے موقع پر کفار نے نجاشي کو ورغلانے اور بھڑکانے کي سازش تيار کي تھي تب يہ حضرت جعفر طيار تھے جنہوں نے اسلام کي روشني ميں امت مسلم امہ کے عقيدے اور نظرئيے کي تشريح کي تھي-آپ عظيم مجاہد تھے غزوہ موتہ ميں شہادت پائي- حضرت محمد  نے آپکے بچوں حضرت عبداللہ بن جعفر عون بن جعفر اور محمد بن جعفر کو بلايا پيار کيا اور انکے لئے خصوصي دعا کي-يہ آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي دعا اور بچوں سے دلي لگاؤ کا اثر تھا کہ جب و جوان تھے انکي ساري عادتيں جعفر بن طيار سے مشابہہ تھيں-

حضرت علي عليہ السلام  کے دور خلافت ميں ايک تاجر عبداللہ بن طيار کي خدمت ميں حاضر ہوا کہ وہ اجنبي ہے دربار خلافت ميں رسائي نہيں رکھتا اسي لئے ميري سفارش کي جائے آپ نے تفصيلي طور پر تاجر کے مسئلے پر غور کيا کہ کيا اس سفارش سے کسي دوسرے کي حق تلفي نہيں ہوگي- يقين آنے پر تاجر کو دربار بھجوا ديا- تاجر کي الجھن سلجھن ميں بدل گئي- تاجر آپکا شکريہ ادا کرنے آيا تو نذرانے کي مد ميں عبداللہ بن جعفر  طيار چاليس ہزار درہم دينے کي کوشش کي آپ نے فوري طور پر منہ دوسري طرف موڑ ليا اور وہ الفاظ کہے جو تاريخ اسلام کے ماتھے پر کندن ہوگئے- عبداللہ بن جعفر نے فرمايا ہم ال ہاشم اپني نيکي فروخت نہيں کرتے- کيا پاکستان ميں ايسا کوئي کردار ہے جو عبداللہ بن جعفر کي طرح سفارش کرکے عيدي لينے سے انکار کر دے؟ مسلمانوں اور انکے شاہي مہاراجوں بادشاہوں اور حکمرانوں کا اسلامي فرض ہے کہ وہ مغربي تہذيب و ثقافت اور وائٹ ہاوس سے ڈکٹيشن لينے کي بجائے قران پاک ميں خدائي ہدايات کي روشني ميں امور سلطنت کے لئے قرآن پاک سے رجوع کريں - کيا اسلامي مملکت پاکستان ميں اسلامي نظام  بندوبست لازم نہيں؟ کيا يہاں قرآن پاک کو بطور آئين پاکستان کا درجہ دے دينا چاہيے؟

Last modified on شنبه, 13 ارديبهشت 1393 13:42
Login to post comments