×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآن کی حقانيت اور معجزات واضح ہيں

خرداد 20, 1393 685

اللہ تعالی نے  انسان کی رہنمائی کے ليۓ ايک لاکھ چوبيس ہزار انبياء مبعوث فرماۓ جنہوں نے اللہ کے احکامات کو انسان تک پہنچايا - يہ پيغمبر

اللہ کے خاص بندے تھے جن کو اللہ تعالی نے مختلف معجزوں سے نوازا - -حضرت عيسيٰ ابراہيم عليہ السلام کو يہ معجزہ عطا کيا کہ وہ ان پر آگ کے شعلے ٹھنڈے ہوگئے-حضرت موسيٰ عليہ السلام کا معجزہ ان کا عصا ( لاٹھی ) جو کہ ضرورت کے مطابق مختلف اشکال ميں ڈھل جاتی تھي- حضرت عيسيٰ عليہ السلام کی پيدائش ايک معجزہ ہے -حضرت عيسيٰ السلام اللہ کے حکم سے کوڑھيوں کو شفا،اندھوں کو بينائی عطا کرتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ کے حکم سے زندہ کرتے تھے- حضرت نوح (ع) کی کشتی ايک معجزہ تھي- حضرت صالح عليہ السلام کی اونٹنی ايک معجزہ تھي. حضرت يونس عليہ السلام کا مچھلی کے پيٹ ميں زندہ رہنا ايک معجزہ تھا- الغرض انبياء کرام کو اللہ تعاليٰ نے مختلف معجزے عطا کيے  - معجزے کا لفظ عجز سے نکلا ہے- معجزہ دراصل ايسی خلاف عقل اور خلاف واقعہ بات کو کہا جاتا ہے کہ انسانی عقل جس کی کوئی توجيہہ پيش کرنے سے عاجز آ جائے- يہ چيز معجزہ کہلاتی ہے- اللہ تعاليٰ نے انبياء کرام کو معجزے عطا کئے تاکہ ان کے ذريعے گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لايا جائے- پيغمبروں کو ان معجزات کے عطا کرنے کا مقصد يہ تھا کہ دنيا ميں موجود اھل عقل ان کی نبوت کی حقانيت اور صداقت پر ايمان لے آئيں- مثال کے طور پر حضرت موسی کو اللہ تعالی نے خاص معجزے عطا کيۓ - اس دور ميں جادو کا بڑا زور تھا اور لوگ جادو سے بےحد متاثر ہوا کرتے تھے- فرعون کے حکم پر بڑے بڑے جادوگر جب فرعون کے دربار ميں جادو کے مقابلے ميں شريک ہوئے اور موسيٰ نے ان سب کے جادو کو شکست فاش دے دی تو وہ سمجھ گئے کہ يہ جادو نہيں بلکہ اللہ کی طاقت ہے، چنانچہ وہ بے ساختہ پکار اُٹھے: (قَالُوْا اٰمَنَّابِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ - رَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ) '' کہنے لگے ہم رب العالمين پرايمان لے آئے،جو موسٰی اور ہارون کا پروردگارہے '' اسی طرح حضرت عيسيٰ کے زمانے ميں طب کا بڑا زور تھا چنانچہ اسی مناسبت سے اللہ تعاليٰ نے عيسيٰ کو وہ معجزات ديے کہ دنيائے طب حير ان وپريشان ہوکر رہ گئي- آپ نے اللہ کريم کے حکم سے لا علاج مريضوں کو شفا ياب کيا 'مردوں کو زندہ کيا'مادر زاد اندھوں اور کوڑھ کے مرض ميں مبتلا مريضوں کو تندرست کيا، تاہم يہ حقيقت ہے کہ آج ان ميں سے کوئی بھی معجزہ باقی نہيں جس کو آج کا انسان پرکھ سکے- نبی مہربان صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم کو بھی اللہ تعاليٰ نے کئی معجزے عطا کيئے، واقعہ معراج ايک معجزہ ہے کيوں کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم ايک ہی رات ميں مکہ سے مسجد اقصيٰ اور پھر وہاں سے ساتوں آسمان، يہاں تک کہ سدرۃ المنتہيٰ کہ جہاں جانے سے فرشتوں کے بھی پر جلتے ہيں، وہاں تک پہنچ جانا، جنت اور دوزخ کی سير کرنا اور اسکے بعد دوبارہ زمين پر آنا اور وہ بھی اتنے مختصر وقت ميں کہ دروازے کی کنڈی ابھی تک ہل رہی تھی اور آپ صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم کا بستر بھی گرم تھا- اسی طرح انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کرنا اور پھر جوڑ دينا، دودھ کے ايک پيالے سے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعين کو سير ہوکر پينا، ہجرت کے وقت مشرکين کے سامنے سے نکلنا ليکن ان کو آپ صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم نظر نہ آئے-اس کے علاوہ قرآن کريم بھی ايک ايسا معجزاتی کلام ہے جو اللہ تعاليٰ کی طرف نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم کو عطا کيا گيا- قرآن پاک دنيا ميں سب سے زيادہ پڑھی جانی والی کتاب ہے جو کہ ايک معجزہ ہے- قرآن پاک دنيا کی واحد کتاب ہے جو بيک وقت کروڑوں لوگوں کو مکمل طور پر حفظ ہے، يہ بجائے خود ايک معجزہ ہے- پھر جيسا کہ قرآن پاک ميں ہی اللہ تعاليٰ نے فرمايا کہ يہ قرآن پاک قيامت تک محفوظ رہے گا تو ساڑھے چودہ سو سال کے بعد بھی قرآن پاک کے ايک زير زبر پيش ميں کوئی فرق نہيں آيا ہے- يہ بھی ايک معجزہ ہے- اس کے علاوہ يہ قرآن پاک کا اعجاز ہے کہ غير مسلم جب اس کلام کو سنتے تھے تو ان کے دل کی دنيا بدل جاتی تھی اور وہ آپ صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم پر ايمان لے آتے تھے-اسی لئے بعد ميں مشرکين مکہ اور قريش کے سرداروں نے يہ فيصلہ کيا کہ کسی کو قرآن سننے نہ ديا جائے اسی لئے حج کے زمانے ميں، ميلوں ميں اور مختلف تجارتی قافلوں کی آمد پر مشرکين کے نمائندے جا کر ان سے کہتے تھے کہ ديکھو جب تم شہر ميں آنا تو محمد (صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم) کی باتوں ميں نہ آنا، وہ جادوگر ہيں (نعوذ باللہ ) ان کے پاس ايک ايسا کلام ہے جو اس کو سنتا ہے تو پھر اپنے دين سے پھر جاتا ہے-
يہ معجزات ان انبياء کرام کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہوگئے اور ان کا ذکر ہميں صرف آسمانی صحائف يا تاريخی کتابوں ميں ہی ملتا ہے، اس حوالے سے اللہ تعاليٰ نے اپنے آخری رسول حضر ت محمد صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کو قرآن مجيد کی صورت ميں جو معجزہ عطا کيا تھا وہ 1400 سال سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی نہ صرف اپنی اصلی حالت ميں موجود ہے بلکہ آج کے جديد سائنسی دور ميں بھی اپنا لوہا منوا رہا ہے- قرآن مجيد جس دور ميں نازل ہوا وہ فصاحت و بلاغت اورمنطق و حکمت کا دور تھا چنانچہ جب اسے فصيح وبليغ ادبيوں ' عالموں اور شاعروں کے سامنے پيش کيا گيا تو وہ بے ساختہ پکا ر اُٹھے کہ: '' خدا کی قسم يہ محمدصلی اللہ عليہ وسلم کا کلام نہيں ہے '' قرآن مجيد ايسی فصيح وبليغ زبان ميں نازل ہوا جس کی نظير پيش کرنے سے انسان قاصر تھے،قاصر ہيں اور قاصر رہيں گے!مثلاًقرآن مجيد نے جب اپنی فصاحت وبلاغت کا دعويٰ کيا تو عربوں نے انتہائی غورفکر کے بعد تين الفاظ پر اعتراض کيا کہ وہ عربی محاورے کے خلاف ہيں- يہ الفاظ کُبَّار،ہُذُوًااور عُجَاب تھے-معاملہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کے سامنے پيش ہوا- آپ نے معترضين کے مشورے سے ايک بوڑھے شخص کو منصف بنايا- جبب وہ شخص آيا اور بيٹھنے لگا توآپ صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم نے فرمايا :'' ادھر بيٹھ جائيں ''-وہ اس طرف بيٹھنے لگا تو آپ نے فرمايا :'' اُدھر بيٹھ جائيں''-جب وہ اُدھر بيٹھنے لگا تو پھر اشارہ کرکے فرمايا :''اِدھر بيٹھ جائيں ''-اس پر اس شخص کو غصہ آ گيا اور اس نے کہا : (( اءَنَا شَيْخ کُبَّار اءَتَتَّخِذُنِی ھُذُوًا ھٰذَا شَيئ عُجَاب )) '' ميں نہايت بوڑھا ہوں -کيا آپ مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہيں؟يہ بڑی عجيب بات ہے ''- يوں اس نے تينوں الفاظ تين جملوں ميں کہہ ڈالے-اس پر معترضين اپنا سا منہ لے کر رہ گئے- ايک دوسرا واقعہ کے بارے ميں مصری عالم علامہ طنطاوی لکھتے ہيں کہ وہ ايک مجلس ميں اپنے جرمن مستشرق دوستوں کے ساتھ بيٹھے تھے -مستشرقين نےان سے پوچھا :کيا آپ يہ سمجھتے ہيں کہ قرآن جيسی فصيح وبليغ عربی ميں کبھی کسی نے گفتگو کی ہے نہ کوئی ايسی زبان لکھ سکا ہے -علامہ طنطاوی نے کہا :'ہاں ميرا ايمان ہے کہ قرآن جيسی فصيح و بليغ عربی ميںکسی نے کبھی گفتگو کی ہے نہ ايسی زبان لکھی ہے''-انھوں نے مثال مانگی تو علامہ نے ايک جملہ ديا کہ اس کا عربی ميں ترجمہ کريں: ''جہنم بہت وسيع ہے '' جرمن مستشرقين سب عربی کے فاضل تھے ،انہوں نے بہت زور مارا-جہنم واسعة ،جہنم وسيعة جيسے جملے بنائے مگر بات نہ بنی اورعاجز آ گئے تو علامہ طنطاوی نے کہا : ''لو اب سنو قرآن کيا کہتا ہے'': (( يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّذِيْدٍ)) '' جس دن ہم دوزخ سے کہيں گے : کيا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی :کيا کچھ اور بھی ہے ؟'' اس پر جرمن مستشرقين اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوۓ اور قرآن کے اعجاز بيان پر مارے حيرت کے اپنی چھاتياں پيٹنے لگے- قرآن مجيد ميں اللہ تعاليٰ نے اہل کتاب اورمشرکين کو قرآن کا مثل لانے کا چيلنج ديا تھا،پھر يہ چيلنج دس سورتوں تک محدود کرديا گيا ، حتٰی کہ صرف ايک ہی سورت کا مثل لانے کا چيلنج دے ديا گيا مگرنزول قرآن کے آغاز سے لے کر چودہ صدياں گزر گئی ہيں مگر کوئی شخص قرآن مجيد کی سی ايک صورت بھی تخليق نہيں کرسکا جس ميں کلام الٰہی کا سا حسن، بلاغت، شان، حکيمانہ قوانين ، صحيح معلومات ، سچی پيشگوئياں اور ديگر کامل خصوصيات ہوں-
يہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن کريم کی چھوٹی سے چھوٹی سورت ''الکوثر'ہے جس ميں فقط دس الفاظ ہيں مگر کوئی اس وقت اس چيلنج کاجواب دے سکا نہ بعد ميں- بعض کفار عرب جو صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم کے دشمن تھے ،انہوں نے اس چيلنج کا جواب دينے کی کوشش کی تاکہ يہ ثابت کرسکيں کہ محمد صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم جھوٹے ہيں(نعوذباللہ)مگر وہ ايسا کرنے ميں ناکام  رہے- ان ميں ايک مسيلمہ کذاب بھی تھا جس نے محمد صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم کی حيات مبارکہ کے آخری دنوں ميں نبوت کا جھوٹا دعويٰ کيا -اس نے قرآن مجيد کی بعض سورتوں کی نقل کرنے کی بھونڈی کوشش کی ،مثلاً: (( اَلْفِيْلُ، وَمَا الْفِيْلُ ،وَمَا اءَدْرٰکَ مَاالْفَيْلُ،لَہُ ذَنَب دَبِيلوَّ خُرْطُوْم طَوِيْل)) '' ہاتھی ہے،اور ہاتھی کيا ہے،اور تم کياسمجھے کہ ہاتھی کياہے-اس کی ايک موٹی دم ہے اورلمبی سونڈ ہے''- مسيلمہ نے ترنم کی خوش آہنگی ميں لاجواب اور حکمت ومعانی سے بھرپور سورة العاديات کی طرز ميں بھی فضول طبع آزمائی کی اور ''مينڈکی ''پر چند بے معنی فافيہ دار جملے بھی گھڑے مگر ''چہ نسبت خاک راباعالم پاک !'' وہ سراسر احمقانہ کلام تھا جو اس نام نہاد پيغمبر پر شيطان نے نازل کيا تھا - مسيلمہ کذاب اپنے جھوٹے کلام اور باطل اعمال کے ساتھ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو کر جہنم کا ايندھن بن گيا - عبداللہ بن مقفّع عربی کا ايک بڑا فصيح وبليغ اديب تھا -اس نے جب قرآن کا چيلنج پڑھاتو اس کے ہم پلہ کوئی ادبی کاوش پيش کرنے کی سوچی -اس نے بہت مغز ماری کی ليکن جب سرراہ ايک بچے کے منہ سے يہ آيت سنی : (وَقِيْل يٰاَرْضُ ابْلَعِيْ مَآءَ کِ وَيٰسَمَآءُ اَقْلِعِيْ) '' اور کہا گيا : اے زمين !اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان !تھم جا'' تو وہ پکار اٹھا : ''ميں گواہی ديتا ہوں کہ يہ کلام الٰہی ہے اورا س کی نظير پيش کرنا ممکن ہی نہيں '' چناچہ يہ کفار کی بدبختی تھی کہ يہ سب کچھ جاننے کے باوجود وہ اپنی ضد اور مادی فوائد کے لالچ ميں اسلام کی دولت سے محروم رہے- حضور صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم چونکہ اللہ تعاليٰ کے آخری نبی تھے جن کی نبوت قيامت تک قائم رہے گی ' چنانچہ ان کو معجزہ بھی ايسا ديا گيا جو قيامت تک رہے گا اور اس کو نہ صرف آج بلکہ قيامت تک ہر دور ميں پرکھا جا سکتا ہے- يہ حقيقت ہے کہ جوں جوں زمانے نے ترقی کی ہے ويسے ہی قرآن مجيد کی حقانيت واضح ہوتی چلی گئی ہے، تمام مفسرين نے اپنے اپنے زمانے کے علم اور ترقی کے اعتبار سے قرآن مجيد کو سمجھا اور اس کی تفسير لکھی کيونکہ علم اللہ تعاليٰ کی دين ہے وہ انسان کو جس قدر چاہتا ہے کسی چيز کے بارے ميں علم عطا فرماتا ہے'جيسے کہ فرمان باری تعاليٰ ہے: ( وَلاَيُحِيطُوْنَ بِشَيْئٍ مِّنْ عِلْمِہ اِلَّابِمَا شَآءَ ) '' وہ اس کی معلومات ميں سے کسی چيز پر دسترس حاصل نہيں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا ديتا ہے )'' سابقہ مفسرين کی تفسير اور موجودہ جديد سائنس کی تحقيق سے نبی کريم صلی اللہ عليہ وآلہ  وسلم کا وہ فرمان يا د آ جاتا ہے - ''قرآ ن ہی حبل اللہ المتين يعنی اللہ سے تعلق کا مضبوط وسيلہ ہے اور محکم نصيحت نامہ ہے اور وہی صراط مستقيم ہے - وہی وہ حق مبين ہے جس کے اتباع سے خيالات کجی سے محفوظ رہتے ہيں اور زبانيں اس کو گڑبڑ نہيں کرسکتيں(يعنی جس طرح اگلی کتابوں ميں زبانوں کی راہ سے تحريف داخل ہوگئی اور محرفين نے کچھ کا کچھ پڑھ کے اس کو محرف کرديا اس طرح قرآن ميں کوئی تحريف نہيں ہو سکے گی ،اللہ تعاليٰ نے تا قيامت اس کے محفوظ رہنے کا انتظام فرما ديا ہے )اور علم والے کبھی اس کے علم سے سير نہيں ہوں گے (يعنی قرآن ميں تدبر کا عمل اور حقائق ومعارف کی تلاش کا سلسلہ ہميشہ ہميشہ جاری رہے گا اور کبھی ايسا وقت نہيں آئے گا کہ قرآن کا علم حاصل کرنے والے محسوس کريں کہ ہم نے علم قرآن پر پورا عبور حاصل کر ليا ہے اور اب ہمارے حاصل کرنے کے ليے کچھ باقی نہيں رہا بلکہ قرآن کے طالبين علم کا حال ہميشہ يہ رہے گا کہ وہ علم قرآن ميں جتنے آگے بڑھتے رہيں گے اتنی ہی ان کی طلب ترقی کرتی رہے گی اور ان کا احساس يہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے حاصل کيا ہے وہ اس کے مقابلہ ميں کچھ بھی نہيں جو ابھی ہم کو حاصل نہيں ہوا ہے ) اور وہ قرآن کثرت مَزَاوَلَتْ سے کبھی پرانا نہيں ہو گا (يعنی جس طرح دنيا کی دوسری کتابوں کا حال ہے کہ بار بار پڑھنے کے بعد ان کے پڑھنے ميں آدمی کو لطف نہيں آتا، قرآن مجيد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہ جتنا پڑھا جائے گا اورجتنا اس ميں تفکر وتدبر کيا جائے گا اتنا ہی اس کے لطف و لذت ميں اضافہ ہوگا) او ر اس کے عجائب (يعنی اس کے دقيق ولطيف حقائق و معارف) کبھی ختم نہيں ہوں گے--
بے شک قرآن سائنس کی کتاب نہيں ہے ،مگر کئی سائنسی حقائق جو اس کی آيا ت ميں بعض مقامات پر انتہائی جامع اور کہيں اشارةً بيان کيے گئے ہيں - صر ف بيسويں صدی کی ٹيکنالوجی اور سائنسی علوم کے فروغ کی مدد ہی سے ان کا مفہوم (کسی حد تک)  واضح ہو سکا ہے- قرا ن حکيم کے نزول کے وقت ان کے اصل معانی متعين کرنا ناممکن تھا 'يہ مزيد ايک ثبوت ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے- قرآن حکيم کو بطور ايک سائنسی معجزہ ' سمجھنے کے ليے ہميں نزول ِ قرآن کے وقت کی سائنسی حالت پر نگاہ ڈالنی ہو گي- ساتويں صدی عيسوی ميں جب قرآن کا نزول ہوا، عرب معاشرے ميں سائنسی معلومات کے حوالے سے بہت سارے توہماتی اور بے بنياد خيالات رائج تھے- ٹيکنالوجی اتنی ترقی يافتہ نہيں تھی کہ يہ لوگ کائنات اور قدرت کے اسرار کو  پرکھ سکيں لہٰذا عرب اپنے آباۆ اجداد سے وراثت ميں ملے قصے کہانيوں پر يقين رکھتے تھے- مثال کے طور پر ان کا خيال تھا کہ زمين ہموار ہے اور اس کے دونوں کناروں پر اونچے پہاڑ واقع ہيں-  يہ خيال کيا جاتا تھا کہ يہ پہاڑ  ايسے ستون ہيں جنھوں نے آسمان کے قبے يا گنبد کو تھاما ہو ا ہے- قرآن کے نزول کے ساتھ ہی عرب معاشرے کے ان تمام توہماتی خيالات کا قلع قمع ہو گيا- سورة الر عد کی آيت 2 ميں کہا گيا: ( اَللّٰہُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَِيْرَعَمَدٍ تَرَوْنَھَا…) ''اللہ وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغير آسمان جيسا کہ تم ديکھتے ہو (اتنے) اُونچے بنائے....'' اس آيت نے اس خيال کی نفی کر دی کہ آسمان پہاڑوں کی وجہ سے بلند ی پر قائم ہيں- قرآن اس وقت نازل ہوا جب لوگ فلکيات (Astronomy) طبيعيات (Physics) يا حياتيات (Biology) کے متعلق بہت کم جانتے تھے-  يہ وہ مضامين ہيں جن سے کائنات کی تخليق، انسان کی تخليق، فضا کی ساخت، زمين پر زندگی کو ممکن بنانے والے نازک تناسب جيسے موضوعات کے بارے ميں بنيادی معلومات ملتی ہيں- انسان کے ليے کائنات اور زندگی کی تخليق کے بارے ميں صحيح معلومات کا واحد ذريعہ ''مذہب'' ہے تاہم جب ہم مذہب کا لفظ استعمال کرتے ہيں - اس وقت ہمارا اشارہ قرآن مجيد کی طرف ہوتا ہے جو صحيح ترين ماخذِ علم ِکائنات و انسان ہے-ديگر مذاہب کی آسمانی کتب اب وہ حيثيت نہيں رکھتيں جو انہيں اپنے زمانہء نزول ميں حاصل تھيں- کيونکہ ان ميں تحريف کردی گئی ہے- اور اس بات کی بھی خبر اللہ تعاليٰ نے اپنے ''فرقان حميد '' ميں دے دی ہے جس کی تصديق آج سائنس نے بھی کردی ہے کيونکہ بائبل جو توريت اور انجيل کا مجموعہ ہے' ميں بيان کی گئی کئی باتيں سائنس کی رُو سے غلط ثابت ہوچکی ہيں- اس ليے يہ بات بھی قرآن مجيد کی حقانيت پر دلالت کرتی ہے- انجيل و توريت کے برعکس قرآن مجيد يقينی طور پر کلام اللہ ہے اور ہر قسم کے تضاد سے بالکل منزہ و مبّرا ہے- اللہ نے يہ کتاب خالصتا  ًاپنے بندوں کی ہدايت کے ليے اتاری ہے اور رہتی دنيا تک اس کی حفاظت کی ذمہ دار بھی خود اسی کی ذات ہے- چنانچہ سورةالحجرميں ارشاد ہوتا ہے (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنِّا لَہ لَحٰفِظُوْن) ''يہ ذکر(يعنی قرآن مجيد) ہم نے اتارا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہيں''-
اللہ تعاليٰ کا فرمان ہے کہ قرآن اس کی آخری وحی ہے'اس ليے اس کی حفاظت کا اس نے خود ذمہ ليا ہے لہٰذا سائنس کی تيز رفتار اور انسانيت کے ليے منفعت بخش ترقی اسی وقت ممکن ہے جب وہ قرآن سے رہنمائی حاصل کرے اورخالق ِ کائنات کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہے- اگر اس راستے کی الٹی سمت پر چلنے کی کوشش کی گئی تو سائنس دان وقت اور وسائل دونوں کو برباد کرنے کے مرتکب ہوں گے- جس طرح دنيا کے دوسرے شعبوں ميں ترقی وبہتری کے ليے ہم ايک صحيح سمت ميں آگے بڑھتے اور منصوبے بناتے ہيں اور ان کے بارے ميں بھی ہميں قرآن سے رہنمائی ملتی ہے ويسے ہی سائنس کے شعبے کے ليے بھی صحيح راہ وہی ہے جسے رب العالمين اور احکم الحاکمين نے صحيح کہا ہے- اور قرآن مجيد ميں اس سمت کا تعين کر ديا گيا ہے جيسا کہ سورة بنی اسرائيل ميں فرمايا گيا ہے: (اِنَّّ ہٰذَا الْقُرْآنَ يَھْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ) ''حقيقت يہ ہے کہ قرآ ن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سيدھی ہے ''- اميد ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعدعوام الناس کو اس حقيقت کا ادراک ہو جائے گا کہ قرآن مجيد واقعتا اللہ تعاليٰ کا ہی کلام ہے، يہ کسی انسان کی بات نہيں تھی کہ وہ کائنات کے اُن اسرار و رموز کو 1400سال پہلے ٹھيک ٹھيک ويسے ہی بيان کر دے جيسے جديد سائنس نے اس کے نزول کے بعد دريافت کيے ہيں- قرآن مجيد کا يہ اعجاز باورکراتا ہے کہ يہ ہرزمانے کے ليے مشعل راہ ہے- آج بھی جو ہو ابراہيم کا ايماں پيدا آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستان پيدا

Last modified on چهارشنبه, 21 خرداد 1393 09:46
Login to post comments