×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

انسان کے لئے قرآن کی عظمت اور ضرورت

خرداد 31, 1393 516

اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی کتاب قرآن مجید میں انسان کے  زندگی گزارنے کے

تمام رہنما اصول بتا دئے ہیں - یہ کتاب انسان کے لئے ایک مکمل دستور الحیات ہے جس میں انسان کی ہدایت کے لئے ہر موضوع  پر بحث کی گئی ہے - گویا قرآنِ حکیم کا بنیادی مقصد انسان کے فکر ونظر اور عمل وکردارکی صحیح سمت متعین کرنا ہے- قرآن نے اللہ پر ایمان، اْس کی وحدانیت کے اقرار ، رسالت کی ضرورت واہمیت ، قیامت اور حشر ونشر کے واقع ہونے کی معقولیت اور دوسرے اعتقادی امور کو باور کرانے کے لئے اس تمام کائنات ہی کو ایک بڑی نشانی اورواضح دلیل کے طور پرپیش کیا ہے - واقعی جو بھی انسان بغیر کسی تعصب ،زمین ، آسمان ، چاند،سورج ، ستارے اور اس تمام کہکشانی نظام پر غوروفکر کرے گا وہ ضرور ان میں کائنات کی عظیم الشان نشانیوں کو دیکھے گا -
علامہ اقبال نے بھی خطبات میں مدلل طور پر قرآن حکیم کی عملی اور عقلی نوعیت کی طرف اشارہ کرکے قرآنی آیات بینات ہی کے حوالے سے بے شمار نشانیوں کی نشاندہی کی ہے-اسی لئے عقل وتدبر رکھنے والے لوگ قرآنی آیات مبارکہ کے مطابق ہمیشہ ان نشانیوں کو دیکھ کر بے ساختہ پکاراْٹھتے ہیں -
 ترجمہ: اے ہمارے رب! آپ نے یہ ساری کائنات فضول پیدا نہیں کی ہے -
علامہ اقبال اپنی فکر کے مطابق اس آیت کی توضیح کرتے ہوئے خطبات میں بیان کرتے ہیں کہ دنیا میں وسعت اور بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے بلکہ ہم کائنات میں اہم تبدیلیاں بھی دیکھتے رہتے ہیں اور لیل ونہار کی حرکت کے ساتھ ہم زمانہ کا خاموش اْتار چڑھاؤ کا بھی مشاہدہ کرتے رہتے ہیں - یہ سب اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں ہیں -اسی قرآنی حقیت کو اْجاگر کرنے کے لئے علامہ نے اپنے بلیغ شاعرانہ پیرائے میں بھی روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے کے عنوان سے کہا ہے
کھول آنکھ ،زمیں دیکھ ، فلک دیکھ ،فضا دیکھ!
مشرق سے اْبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
اس جلوہ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ!
ایام جدائی کے ستم دیکھ ، جفا دیکھ!
بے تاب نہ ہو ،معرکہ بیم و رجا دیکھ!
ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل ، یہ گٹھائیں!
یہ گنبد افلاک ، یہ خاموش فضائیں
یہ کوہ ، یہ صحرا ، یہ سمندر ، یہ ہوائیں

Login to post comments