×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اچھی عبادت سے خدا خوش ہوتا ہے

تیر 20, 1393 396

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیا د رکھی اور اس کی دیواروں کو بلند کیا تو ان دونوں نے

اللہ کے حضور یہ دعا کی کہ اے اللہ ہماری اس مزدوری کو اپنے حضور قبول کرنا ۔
«و اذ یرفع ابراهیم القواعد من البیت و اسماعیل ربّنا تقبّل منّا» (بقره، 127)
ترجمہ : اور ( وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم و اسماعیل اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے،(دعا کر رہے تھے کہ) اے ہمارے رب! ہم سے (یہ عمل) قبول فرما۔
جی ہاں ، ہماری نظر میں نماز اور روزہ ہی عبادت ہے لیکن قرآن کی نظر میں کسی عمارت کی تعمیر میں کیا جانے والا ہو کام جو خدا کی رضا کے لئے ہو وہ بھی عبادت میں شمار ہو گا ۔
کیسے اور کس طرح سے سے عبادت کرنی چاہیئے ؟
عبادت کے دوران اس بات کا خیال رکھنا چاہئےکہ اس میں خرافات شامل نہ ہوں اور عبادت کو اللہ کی ذات کے لئے کرنا چاہئے ۔ عبادت میں میں دکھاوا انسان کو اللہ کے نزدیک رسوا کر دیتا ہے ۔ عبادت کے طریقے کو وحی کی روشنی سے ہی سیکھنا چاہیے ۔
حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے چاہا کہ ہمیں عبادت کا طریقہ بتایا جائے ۔
انسان کو دنیا میں رہنمائی کے لئے رہبر کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کوئی انسان خود کو ہر فن مولا سمجھ کر اپنے لئے آداب،رسوم ، تخیلات اور خواہشات مرتب کر لے اور ان کے مطابق اپنی زندگی کو گزارنا شروع کر دے تو خدشہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرہ افراتفری کا شکار ہو جائے اور پھر موسی کی قوم کی طرح کے حالات پیش آتے ہیں ۔ اس لئے انسان کو انبیاء کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنا کر ان پر عمل پیرا ہونا چاہئے تاکہ انسان کے کام کاج اور طور طریقوں سے خدا خوش ہو جائے اور ان کے روز مرہ کے کام بھی عبادت میں شمار ہونے لگیں ۔
اللہ نے انسان کی رہنمائی کے لئے اس زمین پر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسان کو ایک منظم معاشرتی سانچے میں ڈھالیں اور انسان کے افکار و گفتار اور رویوں کو درست کریں ۔

Login to post comments