×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

انقلاب حسینی کی پیغام رسانی

تیر 21, 1393 411

انقلاب حسینی کے دو باب ہیں : ایک جنگ وجہاد اور شہادت ۔ دوسرا ان شہادتوں کا پیغام لوگوں تک پہنچانا۔ اب قیام امام حسین (ع) کے

پیغامات طبیعی طورپر مختلف ملکوں تک پہچانے کیلئے کئی سا ل لگ جاتا؛ جس کی دلیل یہ ہے کہ مدینہ والوں کو اہلبیت (ع) کے وارد ہونے سے پہلے واقعہ کربلا کا پتہ تک نہ تھا ۔ اس طرح بنی امیہ کہ تمام وسائل و ذرایع اپنی اختیار میں تھیں ۔ سارے ممالک اور سارے عوام کو اپنے غلط پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی حقانیت اور امام حسین (ع) کو باغی ثابت کرسکتا تھا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی پوری طاقت استعمال کی کہ اپنی جنایت اور ظلم وبربریت کو چھپائے اور اپنے مخالفین کو بے دین، دنیا پرست، قدرت طلب، فسادی کے طور پر پہچنوایا جائے۔ چنانچہ زیاد نے حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف جھوٹے گواہ تیار کرکے ان پر کفر کا فتوی جاری کیا ۔ اسی طرح ابن زیاد اور یزید نے امام حسین (ع) اور انکے ساتھیوں کے خلاف سوء تبلیغات شروع کرکے امام (ع) کو دین اسلام سے خارج ، حکومت اسلا می سے بغاوت اور معاشرے میں فساد پیدا کرنے والے معرفی کرنا چاہا اور قیام حسینی (ع) کو بے رنگ اور کم اہمیت بنانا چاہا ۔
لیکن اہلبیت کی اسیری اور زینب کبری (س) کے ایک خطبے نے ان کے سارے مکروہ عزائم کو خاک میں ملا دیا ؛ اور پوری دنیا پرواضح کردیا؛ کہ یزید اور اس کے حمایت کرنے والے راہ ضلالت اور گمراہی پر ہیں ۔ اور جو کچھ ادعی کر رہے ہیں وہ سب جھوٹ پر مبنی ہے ۔
 اور بالکل مختصر دنوں میں ان کے سالہا سال کی کوششوں کو نابود کردیا ۔ اور امام حسین (ع) کی مظلومیت، عدالت خواہی، حق طلبی، دین اسلام کی پاسداری اور ظلم ستیزی کو چند ہی دنوں میں بہت سارے شہروں اور ملکوں پر واضح کردیا۔ یزید اس عمل کے ذریعے لوگوں کو خوف اور وحشت میں ڈالنا چاہتا تھا تاکہ حکومت کے خلاف کوئی سر اٹھانے کی جرات نہ کر سکے۔ لیکن تھوڑی ہی مدت کے بعد انقلاب حسینی نے مسلمانوں میں ظالم حکومتوں کے خلاف قیام کرنے کی جرات پیدا کی ۔
چنانچہ اسیران اہلبیت (ع) شام سے واپسی سے پہلے ہی شامیوں نے یزید اور آل یزید پر لعن طعن کرنا شروع کیا ۔ اور خود یزید بھی مجبور ہوا کہ ان کیلئے اپنے شہیدوں پر ماتم اور گریہ کرنے کیلئے گھر خالی کرنا پڑا۔
 یہاں سے معلوم ہوتا ہے فاتح کون تھا اور مغلوب کون؟ کیونکہ جیتے اور ہارنے کا فیصلہ جنگ وجدال کے بعد نتیجہ اور ہدف کو دیکھنا ہوتا ہے ۔ ظاہرہے کہ امام حسین (ع) کا ہدف اسلام کو بچانا تھا اور بچ گیا ۔ اور فاتح وہ ہے جس کی بات منوائی جائے وہ غالب اور جس پر بات کو تحمیل کیا جائے اور اپنے کئے ہوئے اعمال کو کسی دوسرے کے اوپر ڈالے جیسا کہ یزید نے کہا کہ امام حسین (ع) کو میں نےنہیں بلکہ عبید اللہ ابن زیاد نے شہید کیا ہے، وہ مغلوب ہے ۔
عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع: قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ وَ قَدْ قُتِلَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیْهِمْ اسْتَقْبَلَهُ إِبْرَاهِیمُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّهِ وَ قَالَ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ مَنْ غَلَبَ وَ هُوَ یُغَطِّی رَأْسَهُ وَ هُوَ فِی الْمَحْمِلِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ مَنْ غَلَبَ وَ دَخَلَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَأَذِّنْ ثُمَّ أَقِمْ۔
امام صادق(ع) روایت کرتے ہیں کہ امام زین العابدین (ع) نے فرمایا : جب شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہورہے تھے تو ابراہیم بن طلحہ بن عبید اللہ میرے نزدیک آیا اور مذاق کرتے ہوئے کہا : کون جیت گیا؟
امام سجاد (ع) نے فرمایا : اگر جاننا چاہتے ہو کہ کون جیتے ہیں؛ تو نماز کا وقت آنے دو اور اذان و اقامت کہنے دو ، معلوم ہوجائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ ۔1۔
یزید کا ہدف اسلام کو مٹانا تھا ۔اور امام حسین (ع) کا ہدف اسلام کا بچانا تھا ۔ اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے تمام ادیان اور مذاہب پر دین مبین اسلام غالب اور معزز اور ہر دل عزیز نظر آرہا ہے ۔ خصوصا انقلاب اسلامی کے بعد اسلام حقیقی سے لوگ آشنا اوراس کی طرف مائل ہورہے ہیں ۔اور یہ سب زینب کبری (س)کی مرہون منت ہے :
شبیر کا پیغام نہ بڑھتا کبھی آگے
کی ہوتی نہ عابد نے اگر راہ نمائی
زینب کے کھلے بالوں نے سایہ کیا حق پر
عابد کے بندھے ہاتھوں نے کی عقد گشائی ۔2۔
حوالہ جات:
1 ۔ بحار ج45ص 177،ح27۔
2 ۔ پیام اعظمی، والقلم

Login to post comments