×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سید الشھدا کے لئے سوگواری ، کیوں ؟

تیر 21, 1393 417

اس دنیا میں کچھ قوانین ہیں جن کو اس کائنات کے خالق نے وضع کیا ہے ۔ وہ خالق جو عظیم  اور حکیم ہے جس نے اس دنیا میں کسی بھی

چیز کو نکما پیدا نہیں کیا ہے اور ہر چیز کے وجود آنے میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہے ۔
اس جہان کی جس چیز پر بھی آپ نظر دوڑائیں آپ کو خالق کائنات کی عظمت نظر آئے گی ۔ خدا نے جو اس جہان کے لئے جو بھی قوانین بنائے ہیں ان میں ذرا برابر بھی نقص نہیں ہے اور اس دنیا کے سائنسدان اور مفکر ان قوانین کی علت کو تجزیہ و تحلیل کرنے میں مصروف عمل ہیں اور ان قوانین کے پس پردہ وجوہات کو تلاش کر رہے ہیں ۔ انسان نے قدرت کے بعض پوشیدہ رازوں کے بارے میں کچھ آگاہی حاصل کی ہے مگر ابھی اس جہان کے بےشمار ایسے رموز ہیں جن کو جاننا ابھی باقی ہے اور جن تک پہنچنے میں انسان ابھی تک قاصر نظر آتا ہے ۔
دنیا میں ثابت ہو جانے والے قوانین میں ایک قانون ثقل ہے ۔ اس قانون کے ثابت ہو جانے میں کوئی شک باقی نہیں رہا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہے کہ پانی 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابلتا ہے ۔ یہ قوانین اور اصول ناقابل تغیر اور یقینی معلوم ہوتے ہیں ۔
جس طرح دنیا کا قدرتی نظام خدا تعالی کی طرف سے مرتب کردہ قوانین کی بنیاد پر وضع ہوا ہے ، اسی طرح حکیم و دانا خالق کائنات نے اس دنیا کی اہمیت کو بھی مشخص کر دیا ہے ۔
اس وجہ سے جس طرح ہم ان فارمولوں اور قوانین کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں جیسے پانی کا ایک سو ڈگری سینٹی گریڈ پر ابلنا اور نیوٹن کے قوانین وغیرہ ویسے ہی ہم دنیا کی اقدار سے بھی انکار نہیں کر سکتے ہیں ۔
  جب انسان امر و نہی الہی اور دنیا کے سب قوانین اور اقدار کے سامنے سر تسلیم خم ہو جاتا ہے تو اس عمل کو پرہیزگاری کہتے ہیں ، زہد یا عبادت کہتے ہیں ۔ خدا نے اپنے بندوں کو اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے ۔  اسی اطاعت کا نام عبادت ہے ۔ کبھی تو اس بندگی کو قبول کرنا آسان ہوتا ہے تو کبھی بہت مشکل ۔ مثال کے طور پر یہ کہ صبح کی نماز کو لازمی طور پر دو رکعت پڑھیں ۔ فجر کی نماز کا پڑھنا اطاعت ہے کیونکہ اس میں کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس موضوع کو مان لینا ایک آسان کام ہے ۔ عام طور پر کوئی بھی مسلمان انسان اس بات پر تنازعہ کھڑا نہیں کرتا کہ کیونکر نماز فجر لازمی طور پر دو رکعت ہی پڑھیں ۔
لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض امور میں اطاعت گزاری ذرا مشکل ہو جاتی ہے ۔ نمونے کے طور پر ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں ۔ عقل اس بات کو بڑی مشکل کے ساتھ قبول کرتی ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور اس کی قربانی کرے ۔ کس منطق کے تحت ایسے عمل کی وضاحت کی جا سکتی ہے ؟ اس بات کو کیسے کوئی مان سکتا ہے کہ برسوں کی دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں خدا کی طرف سے عطا ہونے والے بیٹے کو بڑے شوق سے کوئی ذبح کرے ؟ اس کا ایک ہی معقول جواب سامنے آتا ہے اور وہ یہی ہے کہ یہ مکمل طور پر خدا کی محبت سے سرشار ہو کر اطاعت گزاری کرتے ہوئے یہ عمل آسانی سے کیا گیا ۔
احکام فقہی کی اطاعت گزاری لازمی ہو جاتی ہے یعنی یہ ایسے احکامات ہیں کہ ہم ان کی حکمت کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور صرف اور صرف خدا کے حکم کی بنیاد پر ان کی اطاعت کرتے ہیں ۔
ایسے ہی امور میں ایک امر کہ جس کے بارے میں ہم مسلمانوں کو بہت تاکید اور نصیحت کی گئی ہے، وہ شھداء کے سالار و حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کی عزاداری ہے ۔ اس عظیم ھستی کے تقدس و احترام  کے پیش نظر ان کے مصائب اور مسائل پر آنسو بہانے پر ہمیں تاکید کی گئی ہے تاکہ ہم اس غم و اندوہ کو محسوس کر سکیں جو کربلا کے میدان میں آل رسول صلی اللہ علیہ ولہ وسلم کو برداشت کرنا پڑے ۔
روایات کے مطابق اس عظیم شھید کی یاد میں آنسو بہانے کا ثواب اتنا زیادہ ہے کہ اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
و من ذکر الحسین عنده فخرج من عینه من الدموع مقدار زباب کان ثوابه علی الله عز و جل و لم یرض له بدون الجنة.
یعنی جس کے نزدیک حضرت حسین بن علی علیہ السلام کا ذکر ہو اور اس کی آنکھوں سے مکھی کے پر کے برابر آنسو جاری ہو جائیں ۔ اس کا اجر خدا کے پاس ہے اور حق تعالی اس کے لئے جنت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہو گا ۔

Login to post comments