×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خالص عبادت کیسی ہونی چاہئے ؟

تیر 21, 1393 515

اللہ نے انسان کی رہنمائی کے لئے اس زمین پر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسان کو ایک منظم معاشرتی سانچے

میں ڈھالیں اور انسان کے افکار و گفتار اور رویوں کو درست کریں ۔
روایات میں پڑھتے ہیں کہ امام نے اس شخص پر تنقید کی جس نے دعا میں اپنی طرف سے عبارت کا اضافہ کیا ا«یا مقلّب القلوب و الابصار» ا
اور فرمایا کہ
صحیح دعا وہی ہے جسے اس کی اصل عبارت میں پڑھا جائے جیسا کہ اسے بیان کیا گیا ۔
«یا مقلّب القلوب»،
نہ ایک کلمہ کم اور نہ ایک کلمہ زیادہ اور اس میں خود سے کچھ شامل نہیں کرنا چاہئے ۔
 اس لئے سورہ حجرات میں اللہ تعالی نے مومنین کو حکم دیا ہے کہ کسی بھی کام میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے مت بڑھو ۔
«لاتقدّموا بین یدى اللّه و رسوله» ( سورہ حجرات آیت نمبر 1 )
1 ۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو ۔
بہترین عبادت کون سی ہے ؟
بہترین عبادت وہ ہے جو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف حاصل کر لے ۔ اس میں اس بات کی اہمیت نہیں ہوتی کہ وہ کس انداز میں عبادت کی گئی اور وہ کونسی عبادت ہے اور عبادت کرنے والا کون ہے یا کس جگہ پر عبادت کی گئی اور اس عبادت کو کس وقت انجام دیا گیا بلکہ جو چیز عبادت میں اہمیت کی حامل ہے وہ یہی ہے کہ اس عبادت کو اللہ کے حضور قبولیت کا شرف حاصل ہو جائے ۔
قرآن میں ہمیں یہ واضح ذکر ملتا ہے کہ گذشتہ ادوار میں انبیاء کرام نے کس طرح اپنے ہاتھوں سے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور وہ بھی شدید گرمی میں لیکن یہ سب کچھ انہوں نے اس لئے کیا تاکہ وہ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کر سکیں ۔
جی ہاں ، کسی بلب کا بڑا یا چھوٹا ہونا اہمیت کا حامل نہیں ہوتا ہے ، اس میں جس چیز کی اہمیت ہوتی ہے وہ اس بلب کا بجلی سے وصل ہونا ہوتا ہے تاکہ برقی رو سے اس بلب میں روشنی ممکن ہو سکے ۔ ایسا بڑا بلب جو بجلی  سے وصل ہی نہ ہو تو کیسے روشن ہو گا اور کیسے روشنی دے پائے گا اور وہ چھوٹا بلب جو بجلی سے وصل ہو وہی روشنی دینے کے قابل ہو گا ۔

Login to post comments