×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عاشقان حسین علیہ السلام کے لئے انعام

تیر 21, 1393 344

اور اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ چھٹے امام حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :قیامت کے دن منادی کرنے والا آواز لگائے گا :

آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شیعیان کہاں ہیں ؟
اس کے بعد لوگوں میں سے لمبی گردنوں والے والے افراد اٹھیں گے جن کی تعداد حق تعالی کے سواء کسی کو بھی معلوم نہیں ہے ۔
اس کے بعد ندا لگائی جائے گی : قبر حسین علیہ السلام کے زائرین کہاں ہیں ؟
لوگوں کی بہت بڑی تعداد کھڑی ہو جائے گی ۔
اس کے بعد انہیں کہا جائے گا : جس کو بھی عزیر رکھتے ہو اس کا ہاتھ تھام لو اور اسے جنت میں لے جاؤ۔ اس کے بعد زائرین میں شامل ہر ایک شخص جس کو چاہے گا پکڑ کر جنت میں لے جائےگا ۔
بہر حال یہ وہ مخصوص انعام ہے جو اللہ تعالی نے اپنے ولی حضرت امام حسین علیہ السلام کو عطا فرمایا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام اور سوال باقی نہیں رہتا ہے کیونکہ خدا کی طرف سے کوئی کام بغیر حکمت سے نہیں ہوتا ہے اور یہ مسئلہ بھی اسی قاعدے میں شامل ہے ۔
جس طرح حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے وجود کو خدا کے لئے قربان کیا اور خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور اپنے خون کو بہانے اور اپنے ایک ایک عزیز کے ٹکڑے کروانے پر تیار ہو گئے ۔ خدا تعالی نے بھی فاطمہ کے لال حسین پر سب کچھ قربان کر دیا اور اس سے محبت و عشق کرنے والوں کے لئے نجات ، اس کے لئے اشک بہانے پر گناہوں کی بخشش اور اس کی قبر کی زیارت کو اپنے قرب کا وسیلہ قرار دیا ۔
آج نہ صرف لوگوں میں حسین علیہ السلام کی یاد اور نام زندہ ہے بلکہ ہر روز عاشقان حسین علیہ السلام کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے عزادار اس عمل کو شعار الھی جان کر زیادہ کوشش کر رہے ہیں ۔
یہاں ایک بہت ضروری بات جس کا خیال رکھا جانا بہت ضروری ہے وہ تقوی الہٰی ہے جسے ہر عاجز انسان کو اپنے دل و دماغ میں رکھنا چاہئے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ ہر کوئی جو چاہے کرتا پھرے اور گناہ اس کے وجود کا حصہ بن جائے اور وہ یہ سمجھتا پھرے کہ ایک بار یاحسین کہنے سے وہ بخشا جائےگا !
بلکہ بنیادی نقطہ جسے ذہن میں رکھنا چاہیے وہ تقوی الہی ہے ۔ ہر علم و عمل کی قبولی کا معیار تقوی اور پارسائی پر قائم ہے ۔ اسی طرح قرآن بھی اشارہ کرتا ہے کہ
انما یتقبل الله من المتقین.
اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے ۔
حوالہ جات :
بحار الانوار ۔ جلد 44۔ صفحه 285
علیرضا مهدوی

Last modified on شنبه, 21 تیر 1393 15:45
Login to post comments