×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اخلاص کے معنی

تیر 21, 1393 398

اخلاص سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے کام کو خدا کے لئے اور اپنی ذمہ داری و تکالیف کی انجام دہی کی خاطر انجام دے۔ جس کا نتیجہ یہ

ہوتا ہے کہ انسان نفسانی خواہشات ، مال و دولت کے حصول ، شہرت و عزت ، لالچ و حرص وغیرہ کے لئے کوئی کام نہیں کرتا ۔ اخلاص ایک ایسی صفت ہے کہ اگر اس کی بنیاد پر اقدام کیا جائے تو یہ تلوار کی طرح اپنے سامنے آنے والے ہر مانع کو دور کرتی جاتی ہے ۔
امام خمینی کے اندر یہ صفت کمال کی حد تک تھی ۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ اگر میرا کوئی عزیز ترین فرد بھی عدل و انصاف کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گا تو میں اس سے بھی چشم پوشی نہیں کروں گا اور ایسا کیا بھی ۔ حساس موقعوں پر وظیفہ کی انجام دہی کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو بھی احساس دلایا ۔ خلوت میں ، جلوت میں ، چھوٹا کام ہو یا بڑا ، آپ نے ہمیشہ اخلاص کو اپنی ذاتی زندگی میں اپنایا ۔ اور یہی وہ درس تھا جس کی بنا پر آپ کے شاگرد ، آپ کے چاہنے والے جوق در جوق سرحد پر دشمن سے جنگ کرنے دوڑے چلے جاتے تھے ۔ یہی وہ درس تھا جس کی بنیاد پر ایران میں معجز ہ نما اسلامی انقلاب نمودار ہوا ۔
ایک بزرگ اہل عرفان و سلوک اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں : اگر فرض کریں (بہ فرض محال )کہ رسول اکرم اپنے تمام امور کو ایک معین ہدف کے تحت انجام دیتے تھے اور آپ کا ہدف یہی ہوتا تھا کہ اپنے ان امور کو انجام کے مراحل تک پہنچا دیں اور پہنچا بھی دیا کرتے تھے مگر کسی اور شخص کی طرف سے یعنی کسی اور کے نام سے ۔ کیا اس صورت میں کہا جا سکتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے اس فعل سے راضی نہیں ہوتے تھے ؟ کیا یہ فرماتے تھے کہ یہ فعل چونکہ دوسرے کی طرف سے انجام دے رہا ہوں لہذا انجام نہیں دوں گا ؟ یا نہیں ، بلکہ آپ کا ہدف اپنے امور کی انجام دہی تھی اور بس ۔ قطع نظر اس سے کہ وہ فعل کس کے نام سے یا کس کی طرف سے انجام دیا جا رہا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ لکھنے والا صحیح ہے کیونکہ ایک مخلص شخص کی نگاہ میں کسی فعل کی انجام دہی اہم ہوتی ہے۔ اس کا ذہن ” من و تو “ سے ماوراء ہوتا ہے ۔ وہ اس بات سے بے پرواہ ہوتا ہے کہ اس فعل کا سہرا کس کے سر بندھے گا؟ ایسا شخص با اخلاص ہوتا ہے اور خدا پر کامل یقین رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا وند متعال یقینا اس کے فعل کا صلہ اس کو دے کر رہے گا کیونکہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے: ( ان جندنا لھم الغالبون ) خدا کے اس لشکر میں اکثر و بیشتر میدان جنگ میں شہید ہو جاتے ہیں اور ظاہری اعتبار سے ختم ہو جاتے ہیں لیکن خدا وند عالم فرماتا ہے ”‌ ان جندنا لھم الغالبون “ یعنی یہ لوگ مرنے کے بعد بھی غالب ہیں ۔
اخلاص: اہم ترین اسلحہ
اسلام میں اصلاح دنیا کے لئے اصل و اصیل ، خود نفس انسان کی اصلاح کو بتایا گیا ہے ۔ ہر مسئلے کی شروعات یہیں سے ہوتی ہے ۔ قرآن کریم اپنے قوی اور محکم بازوں سے اوراق تاریخ پلٹنے والی قوم سے فرماتا ہے: ”‌ قوا انفسکم “ ( سورہ تحریم / 6 ) ”‌ علیکم انفسکم “ ( سورہ مائدہ / 105 ) یعنی اپنا تزکیہ نفس کرو ، اپنے نفس کی اصلاح کرو ۔ ”‌ قد افلح من زکیٰ ھا “ ( سورہ شمس / 9 ) اگر صدر اسلام میں اسلامی معاشرہ انسانی نفوس کے تزکیہ سے شروع نہ ہوا ہوتا اور اس میں مناسب حد تک با اخلاص اور متقی افراد پیدا نہ ہو گئے ہوتے تو اسلام قطعاً اپنی بنیادیں مستحکم نہیں کر سکتا تھا ۔ یہی مخلص اور متقی اور سچے مسلمان تھے جن کی بنیاد پر اسلام دوسرے شرکائے مذاہب اور ممالک پر فاتح ہو کر تاریخ عالم میں اپنا نام ثبت کر سکا ہے ۔
ہمارا اسلامی انقلاب بھی اس اخلاص ، تقوی اور اپنے ذاتی اور مادی مفادات سے اوپر اٹھ کر الہی اہداف کی انجام دہی جیسے وظیفے اور ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے ہی رونما ہوا تھا ۔ ایران عراق جنگ کے دوران ہمارا یہی اسلحہ ہمارے لئے کار گر ثابت ہوا تھا ۔ ہمارے شہید ، ہمارے جنگی مجروحین اور ان کے شہادت کے عمیق جذبے نے ہی آج ہمیں اتنی بلندیاں اور مراتب عطا کئے ہیں ۔ ساری دنیا میں آج ہماری عزت اور شرف انھیں خدا دوست شہداء اور مجروحین کی بنیاد پر ہے اور بس ۔

Login to post comments