×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اعمال كے مجسم ہونے اور اس كی حقیقت

تیر 25, 1393 484

قیامت كے مسائل میں سے ایك اہم مسئلہ عمل، افكار، اوصاف اور كردار كا مجسم ہونا ہے یہ بات اس وقت سمجھ میں آئے گی جب اس مقدمہ پر غور

كریں گے ۔ اور وہ ہے ”‌عوالم وجود كا تطابق “عوالم ہستی خدائے سبحان كے ذات سے ایك خاص نظام كے تحت (جو اسی كے اسماء كے مظہر ہیں) نشو و نما پاتے ہیں اور اسی كے آثار و مظہر ہیں ۔
سب سے پہلا عالم ”‌عالم تجرد و جبروت“ ہے جو بلند مرتبہ اور خدائے سبحان سے قریب ہے اس عالم سے جو جتنا قریب ہوگا اتنا ہی عدم و نستی سے دور رہے گا ۔ اسی وجہ سے اس كو ”‌عالم جبروت“ كہا گیا ہے ۔ یعنی وہ عالم ہے جس میں ساری چیزوں (جو عوالم دیگر میں نہیں پائی جاتی ہیں) قرب خداوندی كی بناء پر مطلق كمال، مظہر الہی اور خداداد صلاحتیوں سے منزل كمال پر پہونچی ہوئی ہیں ۔
دوسرا عالم ”‌ عالم مثال یا ملكوت “ ہے جو عالم تجرد سے نشوونما اور دوسرے مرتبہ پر ہے ۔
یہ عالم تجرد كے لحاظ سے سب سے پست، اور یہاں كی مخلوقات قدر ومنزلت كے اعتبار سے ”‌عالم برزخ“ كی طرح بعض بعض پر فوقیت ركھتی ہیں اور ایك دوسرے كی وجہ سے نشوونما پاتی ہیں ۔
تیسرا عالم ”‌عالم جسم یا عالم مادی“ ہے جو كو ”‌عالم ناسوت“ اور قرآن كے رو سے ”‌شہادت“ بھی كہا گیا ہے یہ عالم برزخ كے بعد ہے اور اسی سے نشوونما پاتا ہے جو بہت پست اور خدائے سبحان سے دور ہے ۔ درحقیقت عالم جسم و مادہ محدود، اور مثالی حقائق كا مظہر ہے ۔ جو اس میں جلوہ نما ہوتا ہے ۔ اس ترتیب كے لحاظ سے جو چیز عالم مادہ میں پائی جاتی ہے وہی عالم مثال میں موجود ہے لیكن ان دونوں میں فرق صرف اتنا ہے كہ ان كے قوانین، اور احكام جدا جدا ہیں ۔
اسی طرح جو كچھ عالم مثال میں پایا جاتا ہے بلكل وہی چیز عالم تجرد میں بھی پائی جاتی ہے لیكن اس كے قوانین اسی سے مخصوص ہیں جس طرح عالم تجرد میں ساری چیزیں موجود ہیں عالم ۔”‌ اسماء حسنی “ میں بھی پائی جاتی ہیں لیكن اس كے قوانین اسی عالم سے مخصوص ہیں جو حقائق عالم مادہ میں پائے جاتے ہیں عالم (مثال، تجرد) اور عالم اسماء حسنی میں بھی كامل طور پر پائی جاتی ہے ۔ پس جو چیز وہاں پائی جارہی ہیں وہی چیز یہاں بھی موجود ہے ۔ عالم مثال كا مادے كی ساری كیفیتوں كو لینے كے باوجود عالم برزخ سے مشابہت ركھنا اور عالم تجرد كا ہر چیز سے بے نیاز ہو كر عالم اسماء كے قوانین سے مشابہ ہونا حقیقت پر مبنی ہے ۔ اس كی مثال پانی ہے لیكن اس دنیا كے پانی میں اور وہاں كے پانی میں آسمان زمین كا فرق ہے اور سب كے ذائقے بھی الگ الگ ہیں ۔ اس پانی كو سب لوگ نہیں پی سكتے ہیں اور نہ ہی دوسرے عالم میں جاسكتا ہے ۔ لیكن اس پانی كا اس دنیا سے اسی طرح ربط ہے جس طرح آگ كا رشتہ مٹی سے ۔ اور پانی كا آگ سے ۔ عوالم ہستی كے مطالبقت كی بنیاد پر انسان بارگاہ خداوندی میں جانے كے بعد اپنے اعمال، كردار اور عقائد كو عوالم دیگر میں شكل و صورت میں دیكھ سكتا ہے ۔ خواہ وہ اچھے اعمال، اور عقائد ہوں یا برے ۔
جب آپ نے ان مطالب كو سمجھ لیا ہے تو جو كچھ انسان اس عالم میں انجام دیتا ہے وہ عوالم دیگر میں ہے یعنی جو كچھ بیان كرتا ہے سب كچھ اس عالم میں ثبت اور لكھ دیا جاتا ہے ۔
اگر ہم نے اچھے امور اور نیك چیزوں سے ارتباط ركھا تو در حقیقت یہ ساری خصوصیتیں اور ہماری روح (عالم ہستی كی مطابقت كے قانون پر) دیگر عوالم تجرد، برزخ اور اسماء كے موافق ہے ۔ البتہ ہماری اس دنیا كی یہی خوبی ہے كہ وہ دیگر عوالم كے قوانین، دستورات اور احكام كے معیار پر ہے ۔ پس ہماری نیكی بھی بالكل وہاں كی طرح ہے چونكہ جسم و روح دونوں ایك دنیا كے ہیں تو پھر عوالم دیگر كے قوانین و دستورات كے مطابق ہوں گے ۔
مثال كے طور پر ایك شخص سخاوت كرتا ہے یہ صفت عوالم دیگر (برزخ)، تجرد، نیز اسماء میں پائی جاتی ہے ان میں كا ہر ایك كے نزدیك ”‌ سخاوت “ ہے مگر یہ كہ قوانین و دستورات كے مطابق ہو یا اگر كسی شخص میں بری عادت اور برا ہے تو یہ چیز برزخ اور عوالم دیگر میں بھی پائی جاتی ہے ۔ لیكن اسی صورت میں جب كہ اس كے قوانین اور معیار پر صحیح اتررہی ہو ۔ غور طلب بات ہے كہ ہمارے اندر اچھے اور برے اعمال، كردار اور عقیدے سب پائے جارہے ہیں اور اس سے كوئی بھی مستثنی نہیں ہے یعنی اس دنیا میں برزخی، تجردی، اسمائی اوصاف، اعمال، كردار اور عقیدے پائے جاتے ہیں لیكن ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ۔ بعبارت دیگر ۔ اس دنیا میں دنیاوی شكل میں ہمارے لئے مشہور ہے اور حجاب اٹھ جانے كے بعد ہم اس كو برزخی صورت میں دیكھ سكتے ہیں ۔
جب روح عالم برزخ میں میں جاتی ہے تو اس كا جانا ہی درحقیقت اعمال، كردار، عقائد اور رفتار سے پردہ ہٹنا ہے جو پہلی منزل اور عوالم باطن سے دوبارہ ملاقات ہے ۔
مثال كے طور پر اس دنیا میں سخاوت كے آثار ہم سے پوشیدہ ہیں لیكن جب مرنے كے بعد دوسرے عالم میں پہونچیں گے تو اس كی ساری خوبیاں نظروں كے سامنے آجائیں گی ۔
یا جو شخص براكردار والا تھا اس دنیا میں اس بری صفت سے غافل تھا اور ہر وقت اسی كی غن میں تھا اور جو خواہشات كہتی تھیں اسی كو انجام دیتا تھا اور ذرہ برابر بری عادت سے منھ نہیں موڑا اور جو دل میں آیا اس كو انجام دیا ۔ یہ بے احتیاطی اس بات كی واقعیت ہے كہ وہ حقیقت سے كوسوں دور رہا ہے ۔ لیكن اس دنیا سے بڑھ كر دیگر عوالم ہیں جو ہماری ہر چیز پر نظر ركھے ہوئے ہیں ۔ لیكن ہم ان كو دیكھنے سے عاجز ہیں ۔
جب روح پرواز كرجائے گی تو یہی بدخلقی مختلف صورتوں میں نظر آنے لگے گی ۔ مثال كے طور پر كتا، سانپ، یا بچھو كی صورت میں دیكھے گا ۔

Login to post comments