×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فتح یزید کیسے شکست میں تبدیل ہوئی

تیر 25, 1393 393

یہ کوفہ ہے، یزید کی منفی تبلیغات کی وجہ سے لوگ اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ معاذاللہ، دشمنان اسلام کے بچے کھچے افراد کواسیرکرکے

لایا جا رہا ہے، لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ دشمن کوکربلا میں فوج یزید نے قتل کردیا ہے، خوشی کا سماں ہے، ابن زیاد نے اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں دربارکوسجا رکھا ہے، ابن زیاد کا خیال یہ تھا کہ ان کے سامنے وہ لوگ ہیں جن کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے علاوہ کچھ باقی نہیں بچا ہے، لیکن کوفہ کے بازار میں جب حسین (ع) کی بہن اوربیٹے نے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق لوگوں پرحقیقت کو روشن کیا تب جاکے ابن زیاد کواحساس ہوا کہ روح حسین (ع) اس کی بہن اوربیٹے کے جسم میں دوڑ رہی ہے اوراب بھی فریاد دے رہی ہے ”‌لااعطیکم بیدی اعطاء الذلیل“ اب بھی حسین نعرہ دے رہے ہیں کہ ”‌مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ہے“۔
انقلاب حسین (ع) کا پہلا مرحلہ یعنی خون و شہادت کہ شہداء نے انجام دیا اورانقلاب حسین (ع) کا دوسرا مرحلہ یعنی شہیدوں کا پیغام پہنچانا امام سجاد (ع) اورزینب (س) کی ذمہ داری ہے، بازارکوفہ کے اس مجمع پر یہ واضح کرنا ہے کہ جو قتل کیے گئے ہیں وہ کوئی اورنہیں اسی پیغمبرکی ذریت ہے جن کا لوگ کلمہ پڑھتے ہیں اور جو لوگ اسیر کیے گیے ہیں وہ بھی نبی کی ذریت ہیں، امام سجاد (ع) کواس مجمع کے سامنے واضح کرنا ہے کہ حسین نواسہ رسول (ص) شہید کئے گئے ہیں، ابن زیاد اور یزید کے مظالم بیان کرنا اوران کے چہرے سے نقاب اتارنا امام سجاد (ع) کی ذمہ داری ہے، امام نے کوفہ کے اس مجمع کویہ احساس بھی دلانا ہے کہ تم لوگوں نے جس امام کودعوت دی تھی کربلا میں اس کو یک وتنہا کیوں چھوڑا، جب قافلہ اس بازارمیں پہونچا تو پہلے علی کی بیٹی اور پھرامام سجاد (ع) نے خون حسین (ع) کا پیغام پہونچایا، آپ نے مجمع سے مخاطب ہوکرایک قدرتمند اورآزاد انسان کی طرح خاموش رہنے کو کہا اور فرمایا لوگوں! خاموش رہو، اس قیدی کی آواز سن کرسب لوگ خاموش اور پھرآپ فرماتے ہیں:
”‌لوگو! جوکوئی مجھے پہچانتا ہے پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا ہے وہ جان لے کہ میں علی فرزند حسین ابن علی ابن ابی طالب (ع) ہوں، میں اس کا بیٹا ہوں جس کی حرمت کو پامال کریا اور جس کا مال وسرمایہ لوٹا گیا ہے، اور جس کی اولاد کواسیرکیا گیا ہے، میں اس کا بیٹا ہوں جس کا نہرفرات کے کنارے سرتن سے جدا کیاگیا ہے، جب کہ نہ اس نے کسی پرظلم کیاتھا اورنہ ہی کسی کودھوکا دیاتھا… اے لوگوں، کیا تم نے ان کی بیعت نہیں کی؟ کیا تم وہی نہیں ہوجنہوں نے ان کے ساتھ خیانت کی؟ تم کتنے بدخصلت اور بدکردار ہو؟
اے لوگو! اگررسول خدا (ص) تم سے کہیں: تم نے میرے بچوں کوقتل کیا، میری حرمت کا پامال کیا، تم لوگ میری امت نہیں ہو! تم کس منہ سے ان کا سامنا کرو گے؟
امام کے اس مختصرمگر دردمند اور دلسوزکلام نے مجمع میں کہرام برپا کیا ہرطرف سے نالہ وشیون کی صدا بلند ہونے لگی، لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے لوگو ہم سب ہلاک ہوئے۔
اور یوں وہ مجمع جو تماشا دیکھنے آیا تھا یزیداورابن زیاد کا بغض وکینہ اوران کے ساتھ نفرت لے کر وہاں سے واپس گیا، اور تبلیغات سوء کی وجہ سے پھیلنے والی اندھیری گھٹنے لگی۔
تحریر: غلام حسین متو

Login to post comments