×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فاطمہ (س) فاطمہ (س) ہیں

تیر 26, 1393 453

مگر حضرت فاطمہ (س) خود اتنی عظمتوں اور فضیلتوں کی مالکہ ہیں کہ پروردگار عالم ملائکہ کے سامنے ان کی نسبت سے اہل بیت علیہم السلام

کا تعارف فرماتا ہے۔ هم فاطمة و ابوها و بعلها و بنوها. یعنی فاطمہ (س) کے باپ رسول (ص)، فاطمہ (س) کے شوہر امام علی (ع)، فاطمہ کے بیٹے امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) ہیں۔ اس عقیدہ و نظریہ کے مطابق ایرانی مفکر و دانشور مرحوم ڈاکٹر علی شریعتی کا کہنا ہے کہ حضرت فاطمہ (س) کو صرف کسی عظیم ہستی کی نسبت سے محترم و معززمت جانو بلکہ فاطمہ (س) کی ذات والا صفات سے سمجھو۔ کیونکہ فاطمہ (س) فاطمہ (س) ہیں۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ سماج و معاشرہ کی اصلاح و تطہیر و تعمیر و ترقی کے لیے تعلیم یافتہ، نیک اور مہذب خواتین کی بڑی ضرورت ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے سماج میں یہ کج فکری، خام خیالی اور گمراہی عام تھی کہ لڑکی باپ کے لیے باعث ننگ و عار سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے لڑکی کو پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کردیا کرتے تھے۔ مگر فاطمہ زہرا (س) کی آمد شریف سے عربوں کی سوچ میں ایسی بڑی نمایان تبدیلی آئی کہ قیامت تک کے لیے ہر انسان یہ ماننے پر مجبور ہوگیا کہ واقعا اگر ایک لڑکی نیک، تعلیم یافتہ، اور حسن اخلاق و عمل سے آراستہ ہو تو نہ صرف اپنے والدین، خاندان بلکہ پورے قوم و قبیلہ اور ملک و ملت کے لیے باعث عز و افتخار بھی ہوا کرتی ہے۔ شاید ان ہی وجوہات کے سبب پیغمبر اسلام (س) نے اس وقت تک اصلاح معاشرہ اور حکام شریعت کی تبلیغ کا کام شروع نہیں کیا جب تک فاطمہ (س) سن بلوغ کو نہیں پہنچیں۔ لہذا اصلاح معاشرہ کے لیے اعلی تعلیم یافتہ اور بلند کردار خواتین کے بغیر کامیابی نا ممکن ہے۔ و ما علینا الا البلاغ۔

Login to post comments