×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت فاطمہ زہراء، اسوہ کامل

تیر 27, 1393 494

حضرت فاطمہ زہرا 20 جمادی الاخری بعثت رسول اکرم کے پانچویں سال مکہ میں پیدا ہوئیں۔ حضرت فاطمہ (س) نے ایسے زمانے میں صحن حیات

میں قدم رکھا جب قریش کی جہالت عروج پر تھی۔ ان کی ولادت سے قبل جناب خدیجہ (س) کے بطن سے رسول خدا (ص) کے دو بیٹے پیدا ہوئے تھے۔ لیکن دونوں زمانہ طفولیت میں ہی انتقال کر گئے۔ دشمنان پیغمبر (ص) خوشیاں منا رہے تھے۔ دشمنوں کی شماتت جاری تھی کہ پیغمبر اسلام (ص) کے گھر میں ہونے والے تولد نو کی خبر مکہ میں پھیل گئی۔ یہ جان کر کہ نوزائیدہ دختر ہے زیادہ خوشیاں منانے لگے۔ البتہ پیغمبر اسلام (ص) راضی اور شاکر تھے کہ امین وحی حضرت جبرئیل سورہ کوثر لے کر نازل ہوئے۔ جس میں بشارت دی گئی تھی کہ " بے شک ہم نے تمہیں کوثر (کثرت اولاد) عطا کیا ہے۔ پس آپ کا دشمن ہی ابتر (نسل بریدہ) رہے گا۔"
عورت کی شخصیت نے فاطمہ (س) کے وجود میں سربلندی حاصل کی اور عورت کی فضیلت قرآن کریم کی زینت بنی۔
جناب فاطمہ (س) کی ولادت ہوئی تو کفار و مشرکین مکہ رسول خدا (ص) کے جانی دشمن تھے۔ وہ سازشوں کے جال پیغمبر اسلام کے خلاف پھیلا رہے تھے۔ حضرت فاطمہ زہرا (س) ابھی پانچ برس کی ہی تھیں کہ پیغمبر اسلام (ص) کے مشن میں دو عظیم مددگار یعنی حضرت خدیجہ (س) اور حضرت ابوطالب دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے انتقال سے دشمنوں کے حوصلے بڑھ گئے اور مظالم میں اضافہ ہوا۔
ادھر اندرون خانہ جناب خدیجہ (س) کی نمائندہ حضرت فاطمہ (س) تھیں جو پیغمبر اسلام (ص) کی مونس و غمخوار تھیں اور رنج و غم میں ڈھارس رے رہی تھیں۔ ان خدمات کی وجہ سے پیغمبر انہیں پارہ جگر اور ام ابیہا (یعنی باپ کی ماں) کہا کرتے تھے۔ فاطمہ زہرا (س) بھی اپنے بابا جان کی خدمت و نصرت اسی طرح کرتی تھیں جیسے ایک ماں اپنے فرزند کی کرتی ہے۔

Login to post comments