×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت فاطمہ زہراء

تیر 27, 1393 405

ان کے بارے میں رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں: خدا نے سب سے بڑی نعمت جو تمہیں عطا کی وہ یہ ہے کہ مجھ سا باپ علی (ع) جیسا

شوہر اور حسن (ع) و حسین (ع) جیسے بیٹوں سے تمہیں نوازا ہے۔ جب قبر میں ان سے فرشتے پوچھیں گے: تمہارا رسول کون؟ کہیں گی: میرے والد۔ اور جب امامت کے بارے میں سوال ہوگا تو کہیں گی: میرے شوہر۔
آپ کا طرز زندگی مکمل طور پر نمونہ ہے۔ عبادت کے لحاظ سے امت میں بے نظیر ہیں، عبادت میں کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ (س) کے پیروں پر ورم آ جاتا تھا۔
رسول (ص) نے آپ سے یہ سوال کیا کہ عورت کے لیے بہترین کام کیا ہے؟ تو جواب دیا تھا: وہ کسی مرد کو نہ دیکھے اور کوئی مرد اسے نہ دیکھے۔ اس پر رسول (ص) نے اپنی بیٹی کی  پیشانی کو بوسہ دیا۔
باپ کے انتقال کے بعد کبھی آپ کو مسکراتے نہیں دیکھا گیا۔ صرف اس وقت تبسم کیا تھا جب آپ نے اس تابوت کو دیکھا جو آپ کی سفارش سے بنایا گیا تھا کہ اس سے آپ کا بدن نظر نہیں آ سکتا تھا۔ حضرت فاطمہ زہرا (س) نے والد کے بعد اپنے شوہر علی (ع) کے احقاق حق کے لیے بڑے کارنامے انجام دیے۔ کہا جا سکتا کہ آپ کی زندگی وفا کرتی تو کامیابی یقینی تھی۔
حضرت علی کے ہمراہ چالیس دن تک انصار و مہاجرین کے گھر جاتی اور ان سے تعاون و مدد کا تقاضا کرتی تھیں وہ کہتے تھے:
اے دختر رسول (ص)! ہم اس شخص ۔۔۔۔ ابوبکر کی بیعت کر چکے ہیں۔
تمہیں یہ کیسے گوارا ہوا کہ رسول (ص) کی میراث ان کے گھر سے نکال کر غیر کے گھر میں منتقل کر دی جائے؟
اے دختر رسول (ص) اگر آپ کے شوہر علی (ع)، ابوبکر سے پہلے ہمارے پاس آتے تو ہم ان کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے!

Login to post comments