×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ورزش میں اخلاق کی کیا حیثیت ہے

تیر 27, 1393 494

دین اسلام ہمیشہ ایک کامل اور عالمی دین ہونے کی حیثیت سے زندگی کے تمام پہلوؤں پر دھیان دیتا ہے اور دنیا و آخرت کی ترقی کی تمام

راہوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ جسمانی تندرستی کی قدر و قیمت بھی اسلام کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ جوکھیل  انسان کے لئے مفید ہیں اسلام ان کی تائید کرتا ہے۔
وہ تمام چیزیں جو عمومی اخلاق میں پائی جاتی ہیں اور ورزش کے میدانوں میں عملی ہو سکتی ہیں ، ان پر عمل ہونا چاہئے ۔ بعض وہ اخلاقی فرائض جنھیں ایک کھلاڑی کو کھیل کے میدان میں برتنا چاہئے وہ یہ ہیں:
* اپنے نفس سے جہاد کرنا
* درگزر کرنا
* جوانمردی سے مقابلہ کرنا
جسم و روح کی سلامتی ایسے امور ہیں جن کی انسان کو ہمیشہ ضرورت رہی ہے ۔ دین اسلام ایک کامل اور عالمی دین ہونے کی بنا پر ایک صحت مند زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں رہنمائی کرتا ہے اور دنیا و آخرت کی ترقی کی تمام راہوں کو مدنظر رکھتا ہے، تندرستی کی قدر بیان کرتا ہےاور صحت کی حفاظت کو لازمی جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورزش کو بھی اسلام نے ایک ضروری چیز قرار دیا ہے۔
 کھیل لوگوں کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لاکھوں انسان اس میں مصروف رہتے ہیں اور اس سے بھی کہیں زیادہ لوگ کھیلوں کے مختلف پروگراموں کے تماشائی اور طرفدار ہیں۔ کھیل بعض حالات میں باہمی تعلقات کا باعث بنتے ہیں اور اس میں رائج اچھائیاں اور برائیاں قوموں میں رائج اچھائیوں اور برائیوں کو ظاہری کرتی ہیں۔[1]
ورزشی اخلاق، اخلاق کے ان عملی موضوعات میں سے ہیں جو اخلاقی مسائل، رویّوں اور سیاستوں کو ناپنے میں ہماری مدد کرتے ہیں جو فنون، ٹیکنالوجی اور حکومت وغیرہ سے مربوط  ہوتی ہیں۔[2]
بعض لوگ ورزش کو معمولی جسمانی مہارت سمجھتے ہیں جو عام طور پر تفریح، مقابلہ، ذاتی مہارت کے حصول یا اس جیسے مقاصد کے حصول کے لئے کی جاتی ہے۔
بعض ان سے بھی اہم موضوعات جو کھیلوں کے ضابطۂ اخلاق میں آتے ہیں وہ ورزش کی قدر و قیمت، جواں مردی سے  باہمی مقابلہ، منصفانہ کھیل، دھوکہ بازی سے پرہیز، طاقت افزا دواؤں کے استعمال سے باز رہنا ، تماشائیوں کا اخلاق، کوچ اور کھلاڑیوں کے درمیان اخلاقی روابط و غیرہ  ہیں ۔[3]
جوالہ جات :
[1]. ر.ک: جمعی از نویسندگان، اخلاق کاربردی، ص 429، نشر پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامی، چاپ دوم، 1388ش.
[2]. همان، ص 23.
[3]. ر.ک: همان، ص 80 و 417 – 420.

Login to post comments