×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت مہدی (عج) کے ظہور کی نشانیاں

تیر 27, 1393 424

حضرت مہدی (عج) اس وقت قیام فرمائیں گے جب پوری دنیا میں ظلم اور فساد چھایا ہوا ہو گا ۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مہدی (عج)

کے ظہور کے وقت ساری حکومتوں کی بنیادیں کمزور ہو جائیں گی اور یہی بات طاقتوروں کے بیچ لڑائیوں اور تنازعات کا باعث بنے گی ۔
اکثر مذاہب میں حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے لیے مختلف نشانیاں اور واقعات بیان کیے گئے ہیں ، لیکن ان سب میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ: اسی دوران قتل و غارت اور خونریزی عروج پر ہو گی ۔ بعض مذاہب میں اس بات پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور بعض مذاہب میں قدرے کم ۔
عیسائیت میں بھی ایک بڑی جنگ کے بارے میں ذکر ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں دو تہائی سے زیادہ لوگ مارے جائیں گے اور بہت کم  لوگ زندہ باقی بچیں گے ۔ دیگر مذاہب میں بھی پیش گوئی ہو چکی ہے کہ جب حضرت امام مہدی (عج) کا ظہور ہو گا تو بہت زیادہ جنگیں ہونگی ۔
لیکن حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے بارے میں اصل حقیقت بالآخر کیا ہے ؟
ظالم طاقتوں کے مقابلے میں حضرت مھدی عج کے پیروکاروں کی کامیابی کا طریقہ
کچھ لوگوں نے بعض احادیث کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت مہدی (عج) کے قیام کے دوران بہت بڑی لڑائیاں شروع ہوجائیں گی جس میں بہت سارے لوگ مارے جائیں گے اور باقی لوگ بھی موت کے ڈر کے مارے حکومت کے فرمانبردار ہوجائیں گے۔ اس نقطہ نظر سے ایسا لگتا ہے کہ حضرت مہدی (عج) کی حکومت خشونت اور جنگ کے ساتھ قائم ہو گی۔
 کیا حضرت مہدی کی عالمی حکومت تلوار اور قدرت کے زور پر استوارہو گی ؟
اس بات پرہمیں امام صادق (ع) کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرنا چاہیے۔ امام صادق (ع) نے باطل قوت کے زوال اور حضرت مہدی کی حاکمیت کے بارے میں یوں فرمایا ہے:
 "اس وقت ظالم کی طاقت اور ظلم و جبر کا محور اس قدر ایک دوسرے سے نبرآزما ہوں گے کہ ان کی طاقت اور قوّت زائل ہو جائے گی اور باطنی طور پر وہ اس حد تک خراب ہو جائیں گے کہ ان کی استقامت باقی نہیں رہے گی۔ اس وقت تم لوگ اپنے ہوش و حواس کو بروئے کار لاتے ہوئے ایمان ، منطق و ہر طرح سے آگاہ ہونے کی بنا پر ان ظاہری اور باطنی طور پر فرسودہ قوّتوں پر غلبہ حاصل کر لو گے اور یہ کامیابی  منطق اور اجتماعی سنتوں کی بنیاد پر ہے کہ جو اسلام اور الہی قوانین میں موجود ہیں ۔" (بحارالانوار، ج 52، ص 254)
کیا حضرت مہدی (عج) کی حکومت کی کامیابی کے لیے معجزے کی ضرورت ہے؟
حضرت مہدی (عج) کی حکومت کی کامیابی کے لیے کوئی غیبی قوت یا معجزے کی ضرورت نہیں ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مہدی (عج) کا قیام، دنیا کے موجودہ معاشرتی نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے وجود میں آئے گا اور اس کے لئے انہیں کسی غیبی طاقت کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اللہ تعالی کی چاہت سے سب کچھ طبیعی اور تقدیر کے مطابق ہو گا " ابی الله ان یجری الامور الا باسبابها" اسی لیے امام زمان (عج) کا قیام بھی اسی تقدیر کی بنا پر اور دنیا کے متداول طرز سے ہی وقوع پذیر ہوگا جس میں خدا کی واضح مدد شامل ہو گی ۔
ثانیا، اگر یہ طے کر لیا جاتا کہ اس کامیابی میں غیبی قدرت اور معجزے سے کام لیا جائے گا تو کوئی بھی اس قدرت کا مقابلہ نہیں کر پاتا اور ایسی صورت میں اس کی تاخیر کے لیے کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بےشک ایک ایسے انقلاب سے کچھ ظالموں اور طاقتوروں کو نفرت ہو گی اور وہ  اس بنا پر حضرت مہدی (عج) سے مقابلہ اور اس کی مخالفت کریں گے جس کی وجہ سے جنگ و جدل کا خطرہ بھی موجود ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان جنگوں میں لوگوں کی کثیر تعداد ماری جائے گی۔ خاص طور پر کہ جب حضرت مہدی (عج) آئیں گے تو عقلمند لوگوں کو اپنی طرف راغب کریں گے اور دین کے حقائق  سےانہیں روشناس کرائیں گے اور دنیا میں علم و دانش کو پھلائیں گے۔
تیسری بات یہ کہ ایسی صورت میں حضرت مہدی (عج) کو 313 مددگاروں کی کوئی ضرورت نہیں تھی چنانچہ بعض روایات اور احادیث میں حضرت مہدی (عج) کے قیام میں تاخیر کی ایک وجہ ان کے اعلان کردہ ساتھیوں کی عدم موجودگی بیان کی جاتی ہے۔
چہارم یہ کہ عدل کی حکومت کی بنیاد رکھنے کے لئے کسی معجزے کی ضرورت ہو گی یہ مسئلہ اس بات کو بیان کرتا ہے کہ عدل کی حکومت بس معجزے سے قائم ہو گی اور احکام الہی معجزے کے بغیر پوری دنیا میں عدل و انصاف قائم نہیں کر پائیں گے جو کہ دین سے ایک بہت غلط قسم کا مفہوم اخذ کیا گیا ہے۔
پنجم یہ کہ بنیادی طور پر روایات کے مضامین اور عقلی دلائل سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے لیے کسی معجزے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اگرچہ ہمیشہ خدا کی نعمتوں سے مستفید ہونا چاہیے لیکن حکومت عدل کو قائم کرنے کے لیے حضرت مہدی (عج) کوکسی بھی قسم کے معجزے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Login to post comments