Print this page

خمس کے متعلق اہل سنت کی دلیل

مرداد 01, 1393 451
Rate this item
(0 votes)

علماء اہل سنت کہتےہیں :”‌غنمتم “ سے مراد غنائم جنگی ہی ہے کیونکہ اس سے قبل کی آیتیں جنگ کے متعلق ہیں اگر ” غنمتم “ کے معنی

مطلق غنیمت ہوں ۔ یعنی ہر قسم کا فائدہ ، تو ان آیات کا آپس میں کوئی ربط نہیں رہتا ۔لہٰذا مذکورہ آیات کے باہمی ارتباط کی بقا کےلئے ضروری ہے کہ ”‌غنمتم “ کے معنی غنائم جنگی ہوں ۔
جواب : اس شبہہ کا جواب روشن ہے ، مذکورہ آیات کے بے ربط ہونے کا اندیشہ اسی وقت متصورہے جب شیعہ یہ کہیں کہ لفظ ”‌غنمتم “ جنگی غنائم کو شامل نھیں ہے ۔ شیعہ یہ نھیںکہتے بلکہ ان کا یہ کہنا ہے کہ ”‌غنمتم “ جنگی غنائم کے شمول کے ساتھ ساتھ دوسرے غنائم کو بھی شامل ہے ۔لہٰذا آیات کے بے ربط ہونے کا خوف بے بنیادہے ۔
دوسرا اختلاف : تقسیم خمس
خواہ ”‌غنمتم “ عام منفعت پر دلالت کرتا ہو یا فقط جنگی منافع پر ،بہر کیف ہر دو مذھب کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ خمس ( 5/1 ) کو دوبارہ مختلف حصوں میں تقسیم ہونا چاھئے ، لیکن حصوں کی تعداد میں اختلاف ہے ۔
علمائے شیعہ کے نظریہ کے مطابق خمس کو چھہ (6) حصوں میں تقسیم ھونا چاھئے ۔
1۔ سھم خدا ۔2۔ سھم پیغمبر ۔3۔ سھم ذو القربیٰ ۔4۔ سھم یتیم ۔5۔ سھم مسکین ۔6۔ سھم مسافر ۔
لیکن علمائے اہل سنت خمس کو فقط 5 حصوں میں تقسیم کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ سھم خدا کے منکرہیں ۔
علمائے شیعہ کی دلیل
آیت شریفہ :”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فان للّہ خمسہ و للرسول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
علمائے شیعہ کہتے ہیں آیت شریفہ میں صراحت کے ساتھ اللہ کا نام آیا ہے ” فان للہ “۔ خمس پانے والوں میں اللہ کا نام سر فہرست ہے ۔ پھرہم کیوں اسکے حصہ کا انکار کریں ۔ اتنی واضح اور روشن دلیل ہوتے ہوئے آخر کیا وجہ ہے کہ اہل سنت سھم خدا کے منکرہیں اور اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں !
علماء اہل سنت کی دلیل
علماء اہل سنت کہتے ہیں کہ ظھور آیت کے مطابق ایک حصہ خدا کا ہے اور اسے چاہئے ،تو کیا خدا مال خرچ کرتا ہے کہ اسے دینا چاھئے !!!
رسول کو دینا صحیح ہے ،بہرحال وہ بھی انسان ہیں ان کو ضرورت پڑ سکتی ہے وہی حکم ذو القربیٰ و غیرہ کا ہے ۔ لیکن خدائے بے نیاز کو کچھ دینا بے معنی ولغو ہے اور جب خدا کو دینا معقول نھیں ہے تو اسکے لئے حصہ بنانا بھی فضول ہے ۔ لہٰذا خمس کو چھ(6) حصوں کے بجائے صرف پانچ (5) حصوں میں تقسیم کرنا چاھئے ۔
اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب خد اکو اپنا حصہ لینا نھیں تھا تو پھر خمس پانے والوں کی فہرست میں سب سے پہلے اسکا نام کیوں ھے ؟ اسکا جواب یہ دیتے ہیں کہ آیت شریفہ میں اللہ کا نام اسکی تعظیم و احترام کے لئے آیاہے ورنہ خداوند کو اسکی ضرورت نھیں ہے ۔

Login to post comments