×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ماہ رمضان میں اور نزول قرآن

مرداد 01, 1393 486

5۔ بعض دیگر شیعہ علماء (منجملہ ملامحسن فیض کاشانی (6) اور ابوعبداللہ زنجانی (7)) نے کہا ہے: "نزول قرآن سے مراد، اس کے الفاظ کا نزول

نہیں بلکہ اس کے حقائق اور مفاہیم کا نزول ہے نیز نزول قرآن سے مراد رسول اللہ (ص) کے قلب پر نازل ہونا ہے اور روایات میں قلب رسول (ص) کو "بیت المعمور" قرار دیا گیا ہے"۔
علامہ طباطبائی (رح) "نزول دفعی اور نزول تدریجی" میں فرق کے قائل ہوکر کہتے ہیں: "تنزل" وہی تدریجی نزول ہے جو قرآن کے قطعات اور تفصیل کی صورت میں نزول پر مشتمل ہے۔ یہ رائے بعض قرآنی شواہد پر مبنی ہے؛ ارشاد ربانی ہے:
"وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مضبوط اتاری گئی ہیں، اور انہیں ایک صاحبِ علم و حکمت کی طرف سے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ (8)
علامہ طباطبائی (رح) دفعی نزول کی ضرورت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "قرآن کریم، ایک والا حقیقت، باطنی روح اور بسیط روح ہے؛ جس طرح کہ یہ الفاظ اور کلمات کی صورت میں تفصیل یافتہ اور جزء جزء حقیقت پر مشتمل ہے۔ اس بار قرآن کی وہی بسیط اور کلی روح، لوح محفوظ ـ جو کہ علم الہی کا ایک مرتبہ ہے ـ سے یکبارگی سے رسول اللہ (ص) کی جان و روح پر متجلّی ہوئی؛ کیونکہ جو معلم، مربّی، بشیر، نذیر اور رحمۃللعالمین ہو اس کو اپنی دعوت، آسمانی پیغام اور کتاب کے عناوین، بنیادی اغراض و اہداف سے کلی اور اجمالی طور پر واقف ہونا چاہئے اور عظیم الہی تعلیمات، آئین ہدایت، خلقت کے حقائق اور وجود کے اسرار سے سے آگہی پائے۔ (9)
چنانچہ دفعی نزول کا سبب اہداف، طریق کار، ہدایات و حقائق سے اجمالی آگہی کا حصول ہے اور ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اس غیبی علم و فیض سے بہرہ مند ہو؛ اگرچہ تدریجی اور واقعات و ضروریات کے تناسب سے، قرآن کا نزول پیغمبر اکرم (ص) کے قلب کی تحکیم و تثبیت میں بہت زیادہ مؤثر تھا؛ آیات الہی کے نزول کی ترتیب بنی نوعی انسان کی راہنمائی اور نمونہ ہائے عمل پیش کی تنزیل ایک اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل میں بہت زیادہ مفید اور کارساز تھی۔
مذکورہ نظریات میں علامہ طباطبائی کو علم کلام کی تائید حاصل ہے؛ لیکن قرآنی علوم کے بعض محققین ان کی دلائل کو کافی نہیں سمجھتے اور ان کی رائے یہ ہے کہ: جس چیز کو مسلّمہ طور پر قبول کیا جاسکتا ہے یہ ہے کہ قرآن تدریجاً نازل ہوا ہے اور ماہ مبارک رمضان کی فضیلت بھی اسی میں ہے کہ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے قرآن کی بعض آیات کا نزول اسی مہینے سے شروع ہوا۔ (10)
حوالہ جات:
6۔ تفسیر صافی، ج1، ص 41۔
7۔ تاریخ قرآن، ص 10۔
8۔ سورہ هود(11)، آیت 1۔
9۔ رجوع کریں:
 الف۔ المیزان، ج 2، صص 15 و 18، ج 18، ص 139، ج 14، صص 231 و 232۔
 ب۔  آیۃاللہ جوادی آملی، تفسیر موضوعى، صص 72۔ 74۔
10۔ آیۃاللہ معرفت، التمهید، ج 1، ص 101۔ 121۔

Login to post comments