×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روزہ جبلتوں پر قابو پانے کا ذریعہ

مرداد 01, 1393 519

انسان کو روزے کے دوران ـ بھوک اور پیاس کے باوجود کھانے، پینے اور دوسری لذتوں ـ منجملہ جنسی لذات ـ سے پرہیز کرنا پڑتا ہے اور ثابت

کرنا پڑتا ہے کہ وہ حیوانات کی طرح اصطبل اور پانی اور گھاس کا اسیر نہیں ہے؛ وہ اپنے نفس کی زمام اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے اور ہویٰ و ہوس، نفسانی خواہشات اور شہوتوں پر غلبہ پاسکتا ہے اور یہ امر اس بات کا باعث بنتا ہے کہ انسان کی جبلتیں اس کے اپنے قابو میں آجائیں اور علاوہ ازیں وہ ان سے استفادہ کرنے میں اعتدال کے مرحلے میں پہنچے۔ خلاصہ یہ کہ روزہ انسان کو حیوانوں کی سطح سے بلندی اور ارتقاء بخشتا ہے اور فرشتوں کی منزل تک ترقی دیتا ہے۔
تقوٰی اور پرہیزگاری ایک مسلمان کی اخلاقی اسلامی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس اعلیٰ صفت کے حصول کے لئے بہترین عبادت "روزہ" ہے۔ قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے:
"اے ایمان لانے والو! تم پر لکھ دیا گیا ہے روزہ رکھنا‘ جس طرح لکھا گیا تھا ان پر جو تم سے پہلے تھے شاید تم پرہیزگار ہو جاؤ"۔ (1)
یعنى، روزے کا بنیادی ہدف بھی اور نتیجہ بھی خدا کے حرام کردہ اعمال و افعال سے "تقوٰی" (پرہیز و اجتناب) ہے۔
جب رسول اللہ (ص)، نے خطبہ "شعبانیہ" میں ماہ رمضان اور روزے کے فضائل بیان فرمائے تو امیرالمومنین (ع) نے پوچھا: اس مہینے میں بہترین عمل کونسا ہے؟ اور رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "الورع عن محارم اللَّه"(2)؛ "گناہ اور نافرمانی اور محارم الٰہی سے اجتناب"۔ لہذا روزہ گناہ کے سامنے دیوار کھڑی کرنا اور نافرمان نفس کی سرکوبی کا عامل ہے۔ انسان اس حکم الہٰی پر عمل کرکے تقوی اور پرہیزگاری کی روح کو اپنے وجود میں بخوبی زندہ کرتا ہے؛ کیونکہ روزے کے ذریعے نفس کی اصلاح و تربیت زیادہ آسان ہوجاتی ہے؛ کیونکہ بھوک اور روزے کی دوسری محرومیاں، حیوانی جبلتوں اور نفسانی خواہشات کے سرکش شعلوں کو بجھا دیتا ہے۔
پیٹ بھرنے سے بہت سی ناہنجاریوں اور شہوتوں کو تحریک ملتی ہے، حرام میں غوطہ وری کے اسباب فراہم ہوتے ہیں اور نفس میں باطل خواہشات جنم لیتی ہیں؛ جیسا کہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہے:
"میں اپنے بعد تین چیزوں کے حوالے سے اپنی امت کے لئے فکرمند ہوں: علم و معرفت کے بعد گمراہی، فتنوں کی بھول بھلیاں اور شکم و شہوت"۔  (3)؛
اگر پیٹ کے عفیف اور پاکیزہ ہو اور ضرورت کے مطابق کھانے پینے پر اکتفا اور قناعت کرے اور حرام و شبہے سے پرہیز کرے، بے شک دامن بھی عفیف ہوگا اور شہوت کے لحاظ سے بھی پاکدامنی حاصل ہوگی۔ سے زیادہ شکم سیری شہوت کے سلسلے میں تمہارے لئے فکرمند ہوں"۔ ان دو اعضاء کی عفت و پاکیزگی معنوی و روحانی نشاط اور دل و باطن کے خلوص کے لئے ماحول فراہم کرے گی۔
حوالہ جات:
1۔ سورہ بقره (2)، آیت 183۔
2۔ عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 266۔
3۔ بحارالانوار، ج 1، ص 368۔

Login to post comments