×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآن جیسا کلام لانا ناممکن ہے

مرداد 01, 1393 508

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اورمشرکین کو قرآن کا مثل لانے کا چیلنج دیا تھا،پھر یہ چیلنج دس سورتوںتک محدود کر دیا گیا ،حتٰی کہ صرف

ایک ہی سورت کا مثل لانے کا چیلنج دے دیا گیا مگرنزول قرآن کے آغاز سے لے کر چودہ صدیاں گزر گئی ہیں مگر کوئی شخص قرآن مجید کی سی ایک صورت بھی تخلیق نہیں کرسکا جس میں کلام الٰہی کا سا حسن ،بلاغت ،شان،حکیمانہ قوانین ،صحیح معلومات ،سچی پیشگوئیاں اور دیگر کامل خصوصیات ہوں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم کی چھوٹی سے چھوٹی سورت ’’الکوثر‘ہے جس میں فقط دس الفاظ ہیں مگر کوئی اس وقت اس چیلنج کاجواب دے سکا نہ بعد میں۔
بعض کفار عرب جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے ،انہوں نے اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کی تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے ہیں(نعوذباللہ)مگر وہ ایسا کرنے میںناکام رہے۔ان میں ایک مسیلمہ کذاب بھی تھا جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری دنوںمیں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔اس نے قرآن مجید کی بعض سورتوں کی نقل کرنے کی بھونڈی کوشش کی ،مثلاً:
(( اَلْفِیْلُ، وَمَا الْفِیْلُ ،وَمَا اءَدْرٰکَ مَاالْفَیْلُ،لَہُ ذَنَب دَبِیلوَّ خُرْطُوْم طَوِیْل))
’’ ہاتھی ہے،اور ہاتھی کیا ہے،اور تم کیا سمجھے کہ ہاتھی کیا ہے۔اس کی ایک موٹی دم ہے اورلمبی سونڈ ہے۔‘‘
مسیلمہ نے ترنم کی خوش آہنگی میں لاجواب اور حکمت ومعانی سے بھرپور سورة العادیات کی طرز میں بھی فضول طبع آزمائی کی اور’’مینڈکی ‘‘پر چند بے معنی فافیہ دار جملے بھی گھڑے مگر ’’چہ نسبت خاک راباعالم پاک !‘‘ وہ سراسر احمقانہ کلام تھا جو اس نام نہاد پیغمبر پر شیطان نے نازل کیا تھا ۔ مسیلمہ کذاب بعد میں اپنے جھوٹے کلام اور باطل اعمال کے ساتھ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو کر جہنم کا ایندھن بن گیا ۔
عبداللہ بن مقفّع عربی کا ایک بڑا فصیح وبلیغ ادیب تھا ۔اس نے جب قرآن کا چیلنج پڑھا تو اس کے ہم پلہ کوئی ادبی کاوش پیش کرنے کی سوچی ۔اس نے بہت مغز ماری کی لیکن جب سرراہ ایک بچے کے منہ سے یہ آیت سنی :
(وَقِیْل یٰاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَ کِ وَیٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ)
’’ اور کہا گیا : اے زمین !اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان !تھم جا‘‘
تو وہ پکار اٹھا :
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام الٰہی ہے اوراس کی نظیر پیش کرنا ممکن ہی نہیں '۔‘‘

Login to post comments