×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

دہشت گردی کی تعریف

مرداد 03, 1393 1560

لغت میں دہشت گردی،دہشت گردی کا شمار ان الفاظ میں ہوتا ہے جن کی اصل مغربی لغت میں پائی جاتی ہے لہذا اس وجہ سے اہل لغت کی

قدیم کتابوں میں یہ لفظ نہیں ملتا ، لیکن معاصرکے بعض لغت دانوں نے اس لفظ کو اپنی لغات میں بیان کیا ہے ، منجملہ لغت نامہ دہخدا نے ”‌دہشت گردی“ کی تعریف میں لکھا ہے : ”‌ٹرور“ Terreur سے ماخوذ ہے جس کے معنی فارسی میں اسلحہ کے ذریعہ سیاسی قتل کے رائج ہوگئے ہیں اورآج عربی لفظ ”‌اھراق“ کو ٹرور کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہیں ، فرانسیسی لغت میں یہ لفظ خوف و وحشت کے معنی میں آیا ہے اور دہشت گردی کی حکومت اس انقلابی حکومت کے اصول میں سے ہے جو کہ ژیروندوں  (31 مئی 1973 سے 1974 تک)کی حکومت کے ساقط ہونے کے بعد فرانس میں مستقر ہوئی اور اس نے بہت سے لوگوں کو سیاسی پھانسی پر چڑھایا(2) ۔
اس لغت میں دہشت گردی کی تعریف میں بیان ہوا ہے : ”‌ اصل حکومت یعنی وحشت و فشار جو کہ فرانس (1993 سے 1994 تک)کی حکومت کے قوانین میں سے ایک قانون ہے ۔ فارسی زبان میں یہ کلمہ ایسی اصل پر اطلاق ہوتا ہے جس میں سیاسی قتل اور ٹرور سے دفاع ہوتا ہے (3) ۔
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ لغت کی کتابوں میں اس لفظ کے اصطلاحی معنی کی طرف بھی توجہ کی گئی ہے اور اس لفظ کے بہتر معنی کو درک کرنے کے لئے اس کے اصطلاحی مفہوم سے متعلق بحث کرنے پر مجبور ہیں البتہ اہل لغت کی کتابوں میں لفظ ٹرور پایا جاتا ہے لیکن یہ لفظ دہشت گردی کے مساوی نہیں ہے اور ان میں کچھ فرق پایا جاتا ہے جن کی طرف بعد میں آنے والی بحثوں میں اشارہ کیا جائے گا ۔
حوالہ جات:
2۔  علاکبر دہخدا، لغتنامہ دہخدا، تہران، دانشکدہ ادبیات دانشگاہ تہران، 1343، ج 15، ص 636.۔
3۔  گذشتہ حوالہ ، ص 636۔
”‌دہشت گردی“ کے جامع تعریف پیش کرنے میں اس قدر اختلافات ہیں کہ گویا ہر بیان کرنے والے کے ذہن میں اس سے متعلق بہت سی تعریفیں موجود ہیں ، بعض معاصرین مورخین نے دہشت گردی کی مختلف تعاریف بیان کی ہیں لیکن انہوں نے ان تمام تعاریف کو کسی ایک تعریف میں جمع کرنا مشکل کا م سمجھا اس لئے انہوں نے اپنی طرف سے ایک جدید تعریف بیان کی ہے (4) ۔
یہاں پر ضروری ہے کہ بعض موجود تعاریف کو بیان کیا جائے جن میں کسی ایک خاص نکتہ کی طرف توجہ کی گئی ہے تاکہ ان تعاریف کے ذریعہ سے اس کے اشتراک و افتراق کی طرف توجہ کی جائے :
الف :  بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ دہشت گردی ایک آیڈیولوجی نہیں ہے بلکہ ایک عمل اور کارکردگی ہے (5) یعنی دہشت گردی ایک ایسا عمل ہے جس میں کچھ گروہ اور حزبوں کے مختلف افراد ممکن ہے کہ ہمیشہ یا کبھی کبھی ان کے ساتھ لڑتے رہیںاور دہشت گردی کے کام انجام دیں، کبھی یہ عمل وقتی طور پر ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی جاری ومستمر رہتا ہے ، جبکہ ممکن ہے کہ یہ کبھی مختلف صورتیں اختیار کرلے ۔ اس بناء پر دہشت گردی ایک سیاسی سخت آمیز رفتار ہے ۔
ب :  دہشت گردی عبارت ہے : حکومتی اور غیرحکومتی افراد کی کارکردگی جس میں وہ کوشش کرتے ہیں کہ خشونت آمیز فنون کے ذریعہ اپنے سیاسی اہداف تک پہنچ سکیں (6) ۔
ج :  المعجم الوسیط میںبیان شدہ تعریف کے مطابق دہشت گرد ،وہ لوگ ہیں جو اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے بربریت اور سخت لہجے سے کام لیتے ہیں (7) ۔
د :  دہشت گردی عبارت ہے : کسی حکومت یا معاشرہ پرفشار دینے اور سیاسی یا اجتماعی تغیر و تبدل کےلئے بربریت کے ذریعہ سیاسی استفادہ کرنا (8) ۔
ھ :  علوم سیاسی کی لغت میں دہشت گردی کی دو تعریف بیان ہوئی ہیں : ایک تعریف کی بناء پر دہشت گردی اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں شدید اور سخت کام جیسے قتل عمدی، بمباری، کسی کو اوپر سے نیچے گرادینا وغیرہ انجام دئیے جاتے ہیں اور وہ ادعا کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کام سیاسی اہداف کو صحیح کرنے کیلئے انجام دئیے ہیں ۔ دوسری تعریف کے مطابق دہشت گردی یعنی سیاسی اہداف کو پورا کرنے کے لئے خشونت اور تہدید آمیز وسائل سے استفادہ کرنا (9) ۔
و :  نوام چامسکی ”‌دہشت گردی“ کی تعریف میں لکھتا ہے :  دہشت گردی زبردستی کرنے والوں کا ایک وسیلہ ہے جس کے ذریعہ وہ عام آدمیوں کو ہدف قرار دیتے ہیں یا اس کے ذریعہ سیاسی اور مذہبی اہداف کو پورا کرتے ہیں (10) ۔
ز :  جن لوگوں کا ہدف داخلی حقوق سے متعلق بحث کرنا ہوتا ہے وہ دہشت گردی کی اس طرح تعریف کرتے ہیں :
ملک کے خلاف ، کسی خاص اشخاص ، اصناف ، معین طبقات یا پورے ملک کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے لئے مجرمانہ کام انجام دینا۔
ح :  بعض لوگوں کی نظر میں دہشت گردی کا مفہوم یہ ہے : اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے انسانوں کو قتل کرنااور لوگوں کے درمیان خوف و وحشت ایجاد کرنا ، یا کسی حکومت کو گرا کر اس کی باگ ڈور سنبھالنا یا اس کو دوسروں کے حوالہ کرنا۔
حوالہ جات:
4۔  حسن واع1 تروریسمو ریشہ یابی تروریسم و اہداف آمریکا از لشکرکشی بہ جہان اسلام، تہران، سروش، 1380، ص 27 / جیمز دردریان و دیگران، گذشتہ حوالہ، ص 20 / احمد حسین یعقوب، حکم النبی و اہل البیتہ(علیہم السلام)علی الارھاب و الارھابیین، لبنان، الدار الاسلامیہ، 1423 ق، ص 57 / کمال حماد، الارھاب و المقاوم فی ضو ء القانون الدولی العام، بیروت، مجد، 1423، ص 23 / سالم البھنساوی، التطرف و الارھاب ف منظور الاسلام و الدول، دارالوفا، 1423 ق، ص 46 / حسین عبدالحمید احمد رشوان، التطرف و الارھاب من منظور علم الاجتماع، دارالمعرف الجامعی، 1997م، ص 41 / امل یازجی و محمد عزیز شکری، الارھاب الدولی و النظام العالمی الراہن، دمشق، دارالفکر / بیروت، دارالفکر المعاصر، 1423 ق، ص 61.۔
5. Lenard Weinberg and Ami pedahzur, Political Parties and Terrorist Groups (New York and London: Routledge, 2003), p 3.
6. Jack C. Plano & Roy Olton, The International Relations Dictionary (USA: Longman, 1988) p 201.
7۔   ابراہیم انیس و دیگران، المعجم الوسیط، چ دوم، بیروت، دارالامواج، 1410 ق، ج 1، ص 376.۔
8. David Robertson, A Dictionary of Modern Politics(London: British Library Cataloguing in Publication Data, 1993) p 458.
9. Kush Satyendra, Dictionary of Political Science, (New Delhi: K.S. PAPERBACKS) P 674.
10۔  غلام حسین ہادویان، مفہوم تروریسم و موضع حقوق اسلامی نسب بہ آن، فصلنامہ مصباح، تہران، دانشکدہ و پژوہشکدہ علوم انسانی دانشگاہ امام حسین(علیہ السلام)، ش 45 (بہار 1382)، ص 33.۔
دہشت گردی کی گذشتہ تعریفات سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی یعنی غیر قانونی طریقوں اور سے بغیر سوچے سمجھے ہوئے کسی سیاسی قدرت کو متاثر کرنے کے لئے خوف اور وحشت ایجاد کرنا ۔ اگر چہ مذکورہ تعریفات کو بیان کرتے ہوئے ہمارا اعتماد اس بات پر ہے کہ یہ تمام تعریفیں کسی مشخص مصادیق کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرسکتیں اور یہ اسی طرح دہشت گردی کی تعریفات میں مشکل ایجاد کرتی ہے اس بناء پر دہشت گردی کے اہم عناصر یہ ہیں:
1۔  خوف اور وحشت ایجاد کرنا ۔
2۔  غیر قابل توقع اور بغیر پیش بینی کے کام انجام دینا
3۔  غیر قانونی ہونا ۔
4۔  سیاسی ہدف کو مدنظر رکھنا ۔
دہشت گردی کی تعریف بیان کرنے اور مغرب والوں کی تعریف کو جدا کرنے کے بعد اب ہم یہ بیان کریں گے کہ کیا اسلام میں دہشت گردی کی ایسی تعریف بیان ہوئی ہے یا نہیں؟ اور کیا اسلام بھی دہشت گردی سے جنگ کرنے کے لئے کسی تدبیر کو بروئے کار لایا ہے یا نہیں؟
یقینا ”‌دہشت گردی“ کی اصطلاح ، ایک جدید اصطلاح ہے جس کے متلعق صدر اسلام میں کوئی بحث نہیں ہوئی ہے، لیکن آیات، روایات اور فقہاء کی عبارت میں کچھ ایسی تعبیرات ملتی ہیںجو اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ اسلام نے انسان کی زندگی کے ایسے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اسلامی متون میں ایسی عبارتیں موجود ہیں جو دہشت گردی کے مفہوم سے نزدیک ہیں ،اس حصہ میں کچھ مفاہیم کی طرف اشارہ کریں گے تاکہ محققین مفصل بحث کرنے کے لئے اپنی تحقیق و جستجو کو آگے بڑھاسکیں ۔
قرآن کریم میں ایک بہت اہم مفہوم ”‌ارھاب“ ہے جس کی بناء پر بعض لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اسلام پر دہشت گردی کا حکم لگائیں، اگر چہ قرآن کریم میں لفظ ”‌ارھاب“ یا ارھابیون“ نہیں آیا ہے لیکن اس کے مشتقات ، مختلف صیغوں میں بیان ہوئے ہیں ۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ”‌ارھاب“ یا ”‌ارھابیون“ کا کوئی ایک صیغہ بھی عصر حاضر میں سیاست اس کے اس لفظ کے معنی میں نہیں ہے اور اس کے معنی ان دونوں سے کاملا مختلف ہیں۔  اس بناء پر جو لوگ ان آیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے دہشت گردانہ اعمال کی توجیہ کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے اور نیز جو لوگ قرآن کریم میں اس طرح کی آیات کا بہانہ کرتے ہوئے دین اسلام کو دہشت گردی سے متہم کرتے ہیں وہ لوگ بھی غلطی سے کام لیتے ہیں ۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کی بعض آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
1۔  یا بَنی اِسْرائیلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِیَ الَّتی اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَ اَوْفُوا بِعَہْدی اُوفِ بِعَہْدِکُمْ وَ اِیَّایَ فَارْہَبُون“۔ اے بنی اسرائیل ہماری نعمتوں کو یاد کرو جو ہم نے تم پر نازل کی ہیں اور ہمارے عہد کو پورا کرو ہم تمہارے عہد کو پورا کریں گے اور ہم سے ڈرتے رہو۔(سورہ بقرہ ،آیت 40) ۔ اس آیت میں ”‌فارھبون “ کے معنی خوف و ہراس کے بیان ہوئے ہیں ۔
2۔  ”‌قالَ اَلْقُوا فَلَمَّا اَلْقَوْا سَحَرُوا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْہَبُوہُمْ وَ جاوُ بِسِحْرٍ عَظیمٍ“۔ موسٰی علیہ السّلامنے کہا کہ تم ابتدا کرو ۔ان لوگوں نے رسیاں پھینکیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوفزدہ کردیا اور بہت بڑے جادو کا مظاہرہ کیا(سورہ اعراف، آیت 116) ۔ یہاں پر بھی ”‌ استرھبوھم“ کے معنی یہ ہیں کہ جادوگر ، لوگوں کو خوف و ہراس میں ڈالتے تھے ۔
3۔  ”‌وَ لَمَّا سَکَتَ عَنْ مُوسَی الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْواحَ وَ فی نُسْخَتِہا ہُدیً وَ رَحْمَةٌ لِلَّذینَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ یَرْہَبُون“ ۔ اس کے بعد جب موسٰی کا غّصہ ٹھنڈا پڑگیا تو انہوں نے تختیوں کو اٹھالیا اور اس کے نسخہ میں ہدایت اور رحمت کی باتیں تھیں ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرنے والے تھے(سورہ ، اعراف، آیت 154) ۔اس آیت میں بھی ”‌یرھبون “ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور اس وجہ سے وہ گناہ نہیں گرتے ہیں اور جو کچھ ان الواح میں لکھا ہے اس پر عمل کرتے ہیں ۔
4۔  ”‌ وَ اَعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَ مِنْ رِباطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللَّہِ وَ عَدُوَّکُمْ وَ آخَرینَ مِنْ دُونِہِمْ لا تَعْلَمُونَہُمُ اللَّہُ یَعْلَمُہُمْ وَ ما تُنْفِقُوا مِنْ شَیْء ٍ فی سَبیلِ اللَّہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لا تُظْلَمُونَ“ ۔ اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن ۔اپنے دشمن اور ان کے علاوہ جن کو تم نہیں جانتے ہو اور اللہ جانتا ہے سب کو خوفزدہ کردو اور جو کچھ بھی راہ ہخدا میں خرچ کرو گے سب پورا پورا ملے گا اور تم پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا (سورہ انفال، آیت 60) ۔یہاں پر ”‌ترھبون“ سے مراد یہ ہے کہ خدا کے دشمنوں کو اپنے آمادہ ہونے اور اپنی طاقت کے ذریعہ ڈراو تاکہ وہ تم لوگوں پر حملہ کی جرائت نہ کرسکیں ۔
5۔  ”‌ وَ قالَ اللَّہُ لا تَتَّخِذُوا ِلہَیْنِ اثْنَیْنِ اِنَّما ہُوَ اِلہٌ واحِدٌ فَاِیَّایَ فَارْہَبُون“ ۔  اور اللہ نے کہہ دیا ہے کہ خبردار دو خدا نہ بناؤ کہ اللہ صرف خدائے واحد ہے لہذا مجھ ہی سے ڈرو ۔(سورہ نحل، آیت 51) ۔ یہاں پر ”‌فارھبون“ کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے عذاب سے ڈرواور کسی سے خوف کا احساس تک نہ کرو۔
6۔  ”‌ فَاسْتَجَبْنا لَہُ وَ وَہَبْنا لَہُ یَحْیی وَ اَصْلَحْنا لَہُ زَوْجَہُ اِنَّہُمْ کانُوا یُسارِعُونَ فِی الْخَیْراتِ وَ یَدْعُونَنا رَغَباً وَ رَہَباً وَ کانُوا لَنا خاشِعینَ“ ۔ تو ہم نے ان کی دعا کو بھی قبول کرلیا اور انہیں یحیٰی علیہ السّلام جیسا فرزند عطا کردیا اور ان کی زوجہ کو صالحہ بنادیا کہ یہ تمام وہ تھے جو نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے تھے اور رغبت اور خوف کے ہر عالم میں ہم ہی کو پکارنے والے تھے اور ہماری بارگاہ میں گڑ گڑا کر الِتجا کرنے والے بندے تھے ۔  (سورہ انبیاء ، آیت 90) ۔اس آیت میں ”‌رغبت “ سے مراد ، ثواب کی طرف رغبت پیدا کرنا ہے اور ”‌ رھبہ“ بھی عذاب سے ڈرنے کے معنی میں ہے ۔
7۔  ”‌ اسْلُکْ یَدَکَ فی جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضاء َ مِنْ غَیْرِ سُوء ٍ وَ اضْمُمْ اِلَیْکَ جَناحَکَ مِنَ الرَّہْبِ فَذانِکَ بُرْہانانِ مِنْ رَبِّکَ اِلی فِرْعَوْنَ وَ مَلاَئِہِ اِنَّہُمْ کانُوا قَوْماً فاسِقین“ ۔  ذرا اپنے ہاتھ کو گریبان میں داخل کرو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید اور چمکدار بن کر برآمد ہوگا اور خوف سے اپنے بازوۆں کو اپنی طرف سمیٹ لو ۔ تمہارے لئے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف یہ دو دلیلیں ہیں کہ یہ لوگ سب فاسق اور بدکار ہیں ۔(سورہ قصص، آیت 32) ۔
ثُمَّ قَفَّیْنا عَلی آثارِہِمْ بِرُسُلِنا وَ قَفَّیْنا بِعیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَ آتَیْناہُ الْاِنْجیلَ وَ جَعَلْنا فی قُلُوبِ الَّذینَ اتَّبَعُوہُ رَاْفَةً وَ رَحْمَةً وَ رَہْبانِیَّةً ابْتَدَعُوہا ما کَتَبْناہا عَلَیْہِمْ اِلاَّ ابْتِغاء َ رِضْوانِ اللَّہِ فَما رَعَوْہا حَقَّ رِعایَتِہا فَآتَیْنَا الَّذینَ آمَنُوا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ وَ کَثیرٌ مِنْہُمْ فاسِقُونَ
پھر ہم نے ان ہی کے نقش قدم پر دوسرے رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسٰی علیہ السّلام بن مریم علیہ السّلام کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کردی اور ان کا اتباع کرنے والوں کے دلوں میں مہربانی اور محبت قرار دے دی اور جس رہبانیت کو ان لوگوں نے ازخود ایجاد کرلیا تھا اور اس سے رضائے خدا کے طلبگار تھے اسے ہم نے ان کے اوپر فرض نہیں قرار دیا تھا اور انہوں نے خود بھی اس کی مکمل پاسداری نہیں کی تو ہم نے ان میں سے واقعا ایمان لانے والوں کو اجر عطا کردیا اور ان میں سے بہت سے تو بالکل فاسق اور بدکردار تھے ۔ (سورہ حدید، آیت 27) ۔یہاں پر بھی ”‌رھب“ کے معنی خوف و ہراس کے ہیں ۔
9۔  لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَہْبَةً فی صُدُورِہِمْ مِنَ اللَّہِ ذلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لا یَفْقَہُونَ ۔مسلمانوں ان کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ تمہارا خوف ہے اس لئے کہ یہ قوم سمجھدار نہیں ہے ۔(سورہ حشر ، آیت 13) ۔یہاںپر بھی ”‌رھبہ“ سے مراد خوف ہے اور مراد یہ ہے کہ منافقوں کے دلوں میں خدا وندعالم سے زیادہ تمہارا خوف ہے ۔
مندرجہ بالا تمام آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں ”‌ارھاب“کے لغوی معنی بیان ہوئے ہیں اور کسی بھی صورت میں ان سے عصر حاضر کے اصطلاحی معنی مراد نہیں ہیں، اسی طرح مذکورہ آیات کا مطالعہ کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں ”‌رھب“ کے مشتقات کے معنی منفی نہیں ہیں لیکن آج کے زمانہ میں ”‌ ارھاب“ کے جواصطلاحی معنی بیان ہوتے ہیں ان میں منفی معنی موجود ہیں ۔
لیکن دہشت گردی کی بحث میں ہمیں اپنی توجہ کو ان آیات کی طرف مبذول کرنا چاہئے جن میں انسان کی جان ، مال او ر آبرو کی حفاظت کے بارے میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس بات اس چیز کی حکایت کرتی ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے ،مگر یہ کسی خاص جگہ پر اسلام نے کسی کے خون بہانے کی اجازت دی ہو۔ نمونہ کے لئے اس آیة کریمہ ”‌ ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)(سورہ اعراف ، آیت 151)کی بنیاد پر تمام انسانوں کی جانیں محتر م ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔ صرف جن جگہوں پر شارع مقدس نے استثناء کیا ہے وہاں پر محدود افراد کے قتل کا اقدام کیا جاسکتا ہے ۔
اسی طرح اس بات سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے کہ قرآن کریم میں مفسد فی الارض اور محارب جو کہ دوسروں کی جان اور مال کو خطرہ میں ڈالتے ہیں ،کے لئے بہت سخت احکام بیان ہوئے ہیں ، اسی بات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام ہمیشہ دہشت گردی سے پرہیز کرتا ہے اور اسلام کے عظیم قوانین پر عمل کرنے سے معاشرہ کو دہشت گردی سے چھٹکارا ملتا ہے ، جو کچھ قرآن مجید میں آیا ہے اس سے زیادہ بربریت جائز نہیں ہے اور بہت آسانی سے کسی کی جان اور مال کو خطرہ میں نہیں ڈالا جاسکتا ہے ۔
مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّما قَتَلَ النَّاسَ جَمیعاً وَ مَنْ اَحْیاہا فَکَاَنَّما اَحْیَا النَّاسَ جَمیعا(سورہ مائدہ ، آیت 32) ۔  جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔
صرف دو گروہوں کو قتل کرنا جائز سمجھا گیا ہے : کسی کو قتل کرنے کے بدلے میں قتل کرنا اور زمین پر فساد پھیلانے والے کو قتل کرنا ۔ لہذا ان دونوں کے علاوہ کسی بے گناہ کا قتل کرنا جائز نہیں ہے اس آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ جواسلام اور قرآن کے نام پر دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں وہ جائز نہیں ہیں، اور قرآن کریم کی آیات سے غلط استفادہ کرنے کی وجہ سے ایسے حکم صادر ہوتے ہیں ۔(ختم شد)

Login to post comments