×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

انتظار مہدی (عج) کی عظمت

مرداد 03, 1393 487

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:{انتظارالفَرَج بالصبر عبادة}۔  (1)صبر و استقامت كے ساتھ فَرَج و فراخی كا انتظار، عبادت ہے۔

{افضل اعمال امتی انتظارفَرَج اللّه عزوجل}۔ (2)
میری امت كا برترین اور بالاترین عمل خدا كی جانب سے فَرَج و فراخی كا انتظار ہے۔
{افضل اعمال امتی انتظار الفَرَج من اللّه عزوجل}۔ (3)
میری امت كا بالاترین عمل یہ ہے كہ خدا كی جانب سے فَرَج و فراخی كا انتظار كرے۔
{افضل العبادة انتظار الفَرَج}۔ (4)
"بہترین عبادت انتظارِ فَرَج بہترین عبادت ہے"۔
امیرالمومنین (علیہ السلام نے فرمایا:
{انتظروا الفَرَج ولا تیأسوا من روح اللّه، فان احب الاعمال الى اللّه عزوجل انتظار الفَرَج}۔ (5)
فَرَج اور فراخی كے منتظر رہو اور خدا كی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤكیونكہ خداوند عزّ و جلّ كے نزدیك محبوبترین اور پسندیدہ ترین عمل انتظارِ فَرَج ہے۔
{افضل عبادة المۆمن انتظار فَرَج اللّه}۔ (6)
مومن كی بہترین عبادت، خدا كی جانب سے فراخی كا انتظار ہے۔
امام زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا:
{انتظار الفَرَج من اعظم الفَرَج}۔ (7)
"فَرَج و فراخی كا انتظار خود عظیم ترین فراخی ہے"۔
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
{من دین الائمة الورع والعفة والصلاح۔۔۔ وانتظار الفَرَج بالصبر}۔ (8)
پارسائى، پاكدامنى، درستكاری اور صبر كے ساته فَرَج اور فراخی كا انتظار ائمہ كے دین كا حصہ ہیں۔
{المنتظر للثانی عشركالشاهر سیفه بین یدی رسول اللّه (ص) یذب عنه}۔ (9)
"جو شخص بارہویں امام (عج) كا چشم براہ اور منتظر ہوگا وہ اس شخص كی مانند ہے جس نے تلوار سونت كر رسول اللہ (ص) كی ركاب میں جہاد كرتے ہوئے آپ (ص) كی ذات بابركات كا دفاع كیا ہو"۔
{من مات منتظرا لهذا الامر كان كمن كان مع القائم فی فسطاطه، لا بل كان بمنزلة الضارب بین یدی رسول اللّه (ص) بالسیف}۔ (10)
"جو شخص اس امر (ظہور امام مہدی (عج) كا انتظار كرتا ہوا مرجائے، وہ اس شخص كی مانند ہے جو حضرت قائم (عج) كے ساتھ آپ (عج) كے خیمے میں حاضر ہو؛ نہیں بلكہ [اس سے بھی بالاتر] وہ اس شخص كی مانند ہے جو رسول اللہ (ص) كی ركاب میں فریضۂ جہاد انجام دیتا ہے"۔
امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے فرمایا:
5۔ الامام الكاظم (ع):
{انتظار الفَرَج من الفَرَج}۔ (11)
"فَرَج و فراخی كا انتظار فراخی كی علامت ہے"۔
حوالہ جات:
1۔ الدعوات للراوندى: 41 / 101۔ بحارالانوار ج 52 ص 145۔
2۔ بحارالانوار ج 52 ص 122۔  
3۔ بحارالانوار ج 52 ص 128۔  
4۔ بحارالانوار ج 52 ص 125۔  
5۔ بحارالانوار ج 52 ص 123۔
6۔ أحمد بن محمد بن خالد البرقی، المحاسن: ج 1 ص 291۔ بحار الانوار ج 52 ص 131۔
7۔ بحارالانوار ج 52 ص 122۔
8۔ بحارالانوار ج 52 ص 122۔
9۔ بحارالانوار ج 52 ص 129۔
10۔ بحارالانوار ج 52 ص 146۔
11۔ الغیبة للطوسى: 459 / 471۔

Login to post comments