×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ظہور و قیامت کا انتظار!

مرداد 03, 1393 475

بعض سوالات: کیا انتظار ظہور، انتظار قیامت سے متصادم نہیں ہے؟ قرآنی آیت کے مطابق قیامت کا انتظار سب پر واجب ہے، اگر ایسا ہے تو انتظار

مہدی آیت قرآنی سے مغایرت نہیں رکھتا؟
جواب:
قرآن میں قیامت کے انتظار پر دلالت کرنے والی آیت سورہ دخان کی دسویں آیت ہے جس میں فرمایا گیا ہے:
{فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَاء بِدُخَانٍ مُّبِینٍ}۔
"تو اس دن کے منتظر رہیے جب آسمان سے ایک نمایاں دھواں لائے گا"۔
اس آیت شریفہ میں ان لوگوں کو دھمکایا گیا ہے جو شک و تردد میں زندگی بسر کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو قیامت کا انتظار کرنا چاہئے بلکہ ایک قسم کی تہدید اور وعید ہے۔ کہ امر کے ایک معنی تہدید کے ہیں۔ (1)
جبکہ ہمیں حضرت مہدی (عج) کے انتظار کا حکم ہے اور انتظار فَرَج کو بہترین عمل قرار دیا گیا ہے۔
اب اگر انتظار ظہور کے حکم میں قیامت کا انتظار بھی شامل ہوتا تو اس میں کوئی حرج نہ ہوتا کیونکہ انتظار قیامت اور انتظار فَرَج کا حکم دونوں مطلوب اور پسندیدہ ہیں اور ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔ اور اگر مراد یہ ہے کہ ہمیں لقاء اللہ کا حکم ہوا ہے اور مومن کو لقاء اللہ کا انتظار ہے، یہ بات صحیح ہے اور حضرت مہدی (عج) کی حکومت کے انتظار کے منافی نہیں ہے اور انسان بیک وقت دونوں کا انتظار کرسکتا ہے اور دونوں کی جنس و نوع ایک ہی (اور الہی) ہے؛ گوکہ قیامت کا انتظار ظہور کے انتظار کے ساتھ ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ خدا کے بہت سے وعدوں نے ابھی تک عملی صورت اختیار نہیں کی ہے جن میں روئے زمین پر صالحین کی حکومت، (2) اور مستعفین کی حکومت، (3) کا قیام اور اسلام کا مکمل غلبہ (4)  جیسے وعدے شامل ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ تفسیر المیزان، علامه طباطبایی، ج 18، ص 136۔
2۔ سورہ انبیاء آیت 105۔
3۔ سورہ قصص آیت 5۔
4۔ سورہ فتح آیت 28۔

Login to post comments