×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

یاد خدا

مرداد 04, 1393 379

دین ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمارا مقصد و ہدف کیا ہونا چاہئیے ، ہمیں کس رخ پر عمل کرنا چاہئیے اور ہم کن وسائل سے اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں

اور صرف یہ بیان ہی نہیں کرتا ہے بلکہ قوت بھی، جو ہماری جدوجہد کے لئے از حد ضروری ہے، دین ہی انسان کو عطا کرتا ہے اور وہ اہم ترین توشہ راہ اور سامان جو ہماری گھٹڑی میں ہے یاد خدا ہے۔
چند چیزیں و روح انسان کے لئے ضروری ہیں وہ ’’ طلب (خواہش) ‘‘ امید اور ’’اطمینان ‘‘ہے۔طلب ( خواہش ) ، امید اور اطمینان وہ مضبوط و توانا پر ہے جن کے ذریعے انسان اپنی منزل کی طرف پرواز کرتا ہے اور ان کا مبدا و منبع یاد خدا ہے یاد خدا ہی کی وجہ سے انسان خواہش بھی رکھتا ہے ، اسے امید بھی ہوتی ہے اور اطمینان بھی۔یاد خدا ہمیں ہمارے مقصد کی طرف متوجہ کرتی ہے۔جو خدا تک پرواز ہے۔
خدا تک پرواز سے کیا مراد ہے؟ یعنی تمام خوبیوں اور کمالات تک پرواز ۔یاد خدا ہی کی وجہ سے ہم متوجہ رہتے ہیں کہ ہمیں کامل بننا ہے۔یاد خدا -۔ہماری اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہد کی حفاظت کرتی ہے کہ کہیں ہم کج ر وی کی طرف مائل ہو کر اپنے مقصد سے دور نہ ہوجائیں۔
یاد خدا راہیان کمال کو ان کے راستے اور وسیلے کے بارے میں ہوشیار کرتی ہے اور انہیں احساس رہتا ہے کہ وہ کدھر جارہے ہیں اور ان کا راستہ کون سا ہے؟ یاد خدا---۔ہمارے قلوب کو قوت ، تازگی اور اطمینان عطا کرتی ہے۔یاد خدا اس سلسلے میں بھی ہماری معاونت کرتی ہے کہ کہیں ہم دنیاوی جلووں اور ان کی ظاہری چمک دمک میں دل نہ لگا بیٹھیں اور نہ ہی زندگی کے مسائل اور نشیب و فراز ہماری راہ میں رکاوٹ بنیں۔
ایک اسلامی معاشرے میں ایک گروہ یا ایک مسلمان اگر یہ خواہش رکھتا ہے کہ میں اس راستے پر چلوں جو اسلام نے انسانوں کے کمال کے لئے مقرر کیا ہے ، ان اصول و قوانین پر عمل پیرا ہوں جن پر تمام پیغمبران نے عالم انسانیت کو عمل کرنے کی دعوت دی ۔
اس راستے کا مسافر بنوں جس میں رکاوٹیں اور مزاحمتیں نہ ہوں کہ ان سے گھبرا کر منزل پر پہنچنے سے قبل ہی واپس پلٹ آوںاور اس کی یہ بھی خواہش ہو کہ صراط مستقیم پر میرے قدم ثابت رہیں
تو خواہ وہ ایک گروہ ہو یا فرد واحد، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ خدا کو یاد رکھے اور اس کی یا سے کبھی منہ نہ موڑے اور اسی وجہ سے دین کی -۔جو انسانوں کو منزل کمال تک پہنچانے والے قوانین کا مجموعہ ہے ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ مختلف راستوں اور وسیلوں سے ایسے حالات پیدا کرے کہ ایک دیندار کے دل میں یاد الہی کا سورج ہمیشہ چمکتا دمکتا رہے اور اس کی روشنی سے اسکی روحانی دنیا ہمیشہ منور رہے۔
انہی اعمال میں سے جو دین نے ہم انسانوں کے کمال کے لئے ضروری قرار دئیے ہیں ایک عمل ایسا ہے جو یاد خدا سے لبریز اس کی نورانیت سے منور اور انسان کو یاد خدا کے دریا میں غرق کرنے والا ہے اور وہ عمل انسان کو بیدار اور اسے اس کی ذات سے آگاہ کرتا ہے۔وہ عمل شاخص یا علامت و نشانی کے مثل ہے کہ خدائی راستے پر چلنے والے اس شاخص یا علامت و نشانی کو دیکھتے ہوئے ’’ صراط مستقیم ‘‘ پر ثابت قدم اور انحرافات و گمراہی سے دور رہیں اور وہ عمل جو انسان کی زندگی میں سر اٹھانے والی دنیاوی غفلت سے ہر آن اور ہر لمحے بر سر پیکار ہے ’’ نماز‘‘ ہے۔

Login to post comments