×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

انتظار قرآن کی نگاہ میں

مرداد 04, 1393 537

جس قدر ظہور کو قریب تر سمجھیں گے ہمارا انتظار شدید تر ہوگا چنانچہ فرض کرنا چاہئے کہ امام عصر (عج) کا ظہور بہت قریب ہے اور دیکھ لیں کہ

اس مختصر سی مدت میں انتظار کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہے اور پھر ان لوازمات کو فراہم کرنے کی کوشش کریں۔
جب ہم ظہور کو قریب تر فرض کریں گے تو دیکھ لیں گے کہ ہمارے اعتقادات ایک منتظر پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر ہمیں کوئی خبر دے کہ امام زمانہ (عج) کل ظہور کررہے ہیں اور خبر بھی درست ہو تو "ہم باقیماندہ فرصت" میں کیا کریں گے؟ ہر شخص جو باضمیر ہے وہ خود ہی اس سوال کا جواب دے۔
بےشک اس ایک روز کے دوران ہمارا دل امام زمانہ (عج) کے نام و یاد سے مالامال ہوگا۔ اور کوئی اور چیز ہمارے ذہن کو مصروف نہیں کرے گی۔ اور پھر ہم اس دوران کوئی بھی ایسا کام نہیں کریں گے جو خدا اور امام زمانہ (عج) کی ناراضگی کا سبب بنتا ہو اور اگر ہم سے گناہ سرزد ہوا ہو تو پوری قوت کو صرف کرکے توجہ کریں گے اور نقائص کا ازالہ کریں گے؛ اگر ہم نے کسی کی حق تلفی کی ہے تو تلافی کرنے اور معافی لینے کی کوشش کرتے ہیں؛ اگر ہم نے امام (عج) کے ساتھ کوئی عہد کیا ہے اور اس پر عمل نہیں کرسکے ہیں تو اس مختصر وقت میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس عرصے میں ہمار عبادت میں اخلاص کا عنصر نمایاں ہوتا ہے؛ ہماری نماز ماضی سے مختلف ہوگی اور حضور قلب و خشوع کے ساتھ نماز ادا کریں کے؛ محال ہے کہ ہم اس تھوڑی سے مدت میں اپنا وقت کسی دنیاوی مسئلے میں صرف کریں بلکہ ہمیں افسوس ہوگا کہ یہ مختصر عرصہ مباح امور میں صرف کریں۔  
ہم اس مختصر مدت سے اللہ کی رضا اور امام (عج) کی خوشنودی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے؛ ہماری فکرمندی یہ ہوگی کہ مبادا امام (عج) تشریف لائیں اور ہمیں توجہ نہ دیں یا خدا ناخواستہ ہمیں دیکھ کر ہم سے بےرخی برتیں لہذا اپنے آپ کو امام (عج) کے استقبال کے لائق بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہماری آخری آرزو یہ ہوگی کہ اپنے امام (عج) کی خوشنودی پر مبنی مسکراہٹ کا مشاہد کریں اور امام (عج) سے مخاطب ہوکر فرمائیں: احسنتم! بارک اللہ! میری غیر موجودگی میں تم نے اپنی ذمہ داری خوب نبھائی۔ میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
علاوہ ازیں، ہم ان کی نصرت اور ان کے مشن کے لئے کام کرنے کے لئے اذن پانے کے منتظر ہونگے؛ دل ہی دل میں کہیں گے: جن کا برسوں سے انتظار کیا تھا بہت جلد آنے والے ہیں، اور کتنے خوشگوار ہونگے وہ لمحات!
جو کچھ ہم نے ان کی نصرت کے لئے فراہم کیا ہے اٹھا کر لائیں گے وہ حالات اپنے وجود میں اکٹھے کریں گے جن کی برکت سے امام (عج) سے جاملنا ممکن ہے؛ خدا کا شکر کریں گے کہ ہم زندہ اور صحتمند ہیں اور انشاء اللہ ایک روز بعد اپنے مالی وسائل، اپنی آبرو، زندگی اور اپنی پوری ہستی جان سے عزیز تر محبوب کے قدموں میں نثار کریں گے۔
اور اس کے بعد دوسرے مومنین کو بھی استقبال و نصرت کے لئے تیار کرنے کا اہتمام کریں گے۔ اگر بعض لوگ تیار نہ ہوں تو شفقت کے ساتھ انہیں ہم خیال بنانے کی کوشش کریں گے تا کہ وہ اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں؛ کیونکہ ہمیں افسوس ہوگا کہ امام (عج) کے ظہور کے وقت مۆمنین میں سے بعض کہیں چھپ جائیں اور دانستہ یا نادانستہ طور پر اس خورشید عالمتاب کی روشنی اور حیات بخش حرارت سے محروم ہوجائیں۔
انتظار محبوب کا ایک پہلو یہی ہے کہ ہم اکیلے نہ رہیں بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ ملائیں اور دوسروں کو بھی ان اوصاف سے متصف کریں جو مقصود و مطلوب رب متعال اور امام عصر (عج) ہیں۔ اور انہیں اکٹھا کرکے اپنے اندر کا انتظار کا عنصر ان تک پہنچائیں اور ان سے کہہ دیں کہ آؤ لاکھوں بار شکر ادا کریں کہ ان دعاؤں کا دور ایک روز بعد اختتام پذیر ہونے والا ہے:
"اے امام زمانہ! کیا ہمارا آج کا دن آپ کے حوالے سے کل تک پہنچے گا کہ ہم اپنی آرزو تک پہنچیں؟ ہم کس وقت آپ کے پر آب سرچشمے تک پہنچیں گے کہ سیراب ہوجائیں؟ کس وقت ہم آپ کے وجود شریف کے چشمے کے پانی سے بہرہ مند ہونگے، کہ ہماری پیاس طویل ہوچکی ہے؟ وہ وقت کب ہوگا جب آپ ہمیں دیکھیں گے اور ہم آپ کے جمال کا دیدار کریں گے جب آپ نے فتح کا پرچم لہرایا ہوگا؟ وہ وقت کب ہوگا جب آپ ہمیں دیکھیں گے کہ آپ کے گرد حلقہ تشکیل دے کر بیٹھے ہونگے اور آپ سب کی قیادت و امامت کررہے ہونکے جب آپ نے پوری زمین کو عدل سے مالامال کیا ہوگا؟۔۔۔ اور وہ وقت آئے گا "جب ہم کہیں گے "الحمد للہ رب العالمین"۔  (1) ایسی الحمد للہ جو ہم نے اس سے پہلے کبھی نہ کہی ہوئی ہوگی اور ایک روز بعد ہم اس عبادت کی برکت سے فلاح یافتہ ہونگے۔
جو کچھ کہا گیا اس فرض پر استوار ہے کہ ہمیں یقین ہو کہ امام (عج) 24 گھنٹے بعد تشریف لا رہے ہیں۔ اگر وقت کا یہ دورانیہ زیادہ طویل تصور کریں گے تو ہمارے انتظار کا رنگ پھیکا ہوگا اور انتظار کی شدت کم ہوگی۔
مثلاً اگر یہ دورانیہ ایک دن کے بجائے ایک ہفتہ ہوگا تو ہمارے حالات وہی ایک دن والے ہونگے لیکن بےچینی کم ہوگی اور جذبہ اتنا شدید نہ ہوگا۔ مثال کے طور ایک دن بعد امام (عج) کے ظہور کی توقع تھی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ "ہم نہیں سوسکیں گے"، لیکن ایک ہفتے کی مدت میں وہ وجد و ہیجان نہ ہوگا؛ اس ایک دن کا ایک لمحہ بھی شاید ہم بیہودہ اعمال میں صرف نہ کرتے لیکن ایک ہفتے کی مدت میں شاید ہم بعض لمحات بیہودہ بھی صرف کریں۔
اب اگر ہم انتظار کی مدت کو ایک مہینہ تصور کریں تو جذبات اور وجد و ہیجان میں مزید کمی آئے گی؛ پورا وقت امام (عج) کے استقبال کی تیاری میں صرف نہیں کریں گے اور مادی اور دنیاوی امور کا اہتمام بھی کریں گے، دوسروں کے تلف شدہ حقوق کی تلافی کی کوشش میں لیت و لعل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے اور عبادات میں خشوع و خضوع کا ایک دن اور ایک ہفتے والی صورت حال نہ ہوگی۔
پس ہم جس قدر ظہور کو دور سمجھیں گے ان آثار و نشانیوں کا رنگ زیادہ پھیکا ہوگا اور جب ایک مہینے کے بجائے ایک سال کی مدت فرض کریں گے تو ہم میں یہ آثار کم ہی نمودار ہونگے۔ مومنین کی غفلت اس صورت میں زیادہ ہوگی اور بسا اوقات ہم کئی کئی دن، ہفتے اور مہینے غفلت میں گذاریں گے اور نقصان بھی محسوس نہیں کریں گے اور ہمارا جذبہ ٹھنڈا پڑ جائے گا اور انتظار کی وہ شدت نہ رہے گی اور ایک حقیقی منتظر کی مانند فرائض نہ نبھائیں گے۔
اگر ہم انتظارِ فَرَج کو قابل احساس بنانا چاہیں تو ہمیں اپنے آپ کو اس فرضی صورت حال میں تصور کرنا ہوگا تا کہ اس کے لوازمات ہمارے لئے محسوس تر ہوں گے اور انتظار کے عملی اثرات کو اپنے اندر دیکھ لیں گے۔
کریں تو کیا کریں؟
اس حالت کو معرض وجود میں لانے کے لئے اس اعتقاد میں راسخ ہونا چاہئے کہ امام زمانہ کا ظہور و فَرَج کا وقت کوئی بھی ہوسکتا ہے؛ ہر صبح و شام ظہور کا امکان ہے اور ہر لمحے ندائے امام (عج) سنائی دینے کا امکان ہے چنانچہ بہتر ہے کہ ہم حقیقی منتظر بننے کے لئے فرض اول کو ہی مطمع نظر رکھیں اور بس۔

Last modified on شنبه, 04 مرداد 1393 12:42
Login to post comments