×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام سجاد (علیہ السلام) کا خطبہ شہر کوفہ میں

مرداد 06, 1393 622

بے شک امام سجاد (علیہ السلام) اور حضرت زینب کبری (علیہا السلام) اور خاندان رسالت کے دوسرے افراد کے خطبوں نے حقائق کو بےنقاب

کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا اور فرزند رسول حضرت سیدالشہداء (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد تحریک عاشورا کو دوام بخشنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ امام (ع) کے ابلاغ و تبلیغ  کے نتیجے میں بہت سے سوئے ہوئے ضمیر اور غفلت زدہ لوگ بیدار ہوئے؛ اہل بیت (ع) پر روا رکھے ہوئے مظالم سے باخبر ہوئے، ظالم اموی حکمرانوں کے چہرے بے نقاب ہوئے اور اہل بیت رسالت (ص) کے فضائل و مناقب کو عام کیا اور ائمہ اہل بیت (ع) بطور خاص اہل بیت رسول (ص) سے ناآشنا شامیوں کے درمیان، فرزندان و جانشینان رسول (ص) کے طور پر متعارف کرایا۔
امام سجاد (علیہ السلام) نے شہر کوفہ میں سادہ، اور سطحی فکر کے حامل، عہد شکن اور ہر ہوا اور آندھی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے کوفیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:
"اے لوگو! میں تمہیں خدا کی قسم دلاتا ہوں، بتاؤ! کہ کیا تم نے میرے والد کو خط نہیں لکھے اور ان سے بےوفائی نہیں کی؟ کیا تم نے ان کے ساتھ مضبوط عہد و پیمان منعقد نہیں کیا اور پھر ان کے خلاف نہیں لڑے اور انہیں شہید نہیں کیا؟ وائے ہو تم پ، کیا بھونڈے عمل کے مرتکب ہوئے تم! تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے چہرہ مبارک کی طرف کس طرح منہ اٹھا کر دیکھ سکو گے جب وہ تم سے فرما دیں: تم نے میرے فرزندوں کو قتل کیا، میرے احترام کو تباہ کیا پس تم میری امت سے نہیں ہو؟!،
ابھی امام (ع) کا خطبہ اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ لوگوں رو رو کر ایک دوسرے پر ملامت کرنے لگے؛ وہ اس بدقسمتی پر ـ جو انھوں نے خود ہی اپنے لئے چن لی تھی ـ افسوس کررہے تھے اور اشک ندامت بہارہے تھے۔ (1)  
کوفہ میں امام (ع) کے خطبے میں ذیل کے موضوعات کو مدنظر رکھا گیا ہے:
1۔ اپنا اور خاندان عصمت و طہارت اور اپنے والد اور جد امجد کا تعارف؛
2. کربلا میں روا رکھے جانے والے جرائم اور المیوں کو بے نقاب کرنا؛
3. کوفیوں کو یاد دلانا کہ انھوں نے سیدالشہداء (علیہ السلام) کو خطوط لکھے، آپ (ع) کو کوفہ آنے کی دعوت دی اور پھر امام حسین (ع) سے بے وفائی کی۔
حوالہ جات:
1۔ احتجاج طبرسی، ج 2، ص 32۔

Login to post comments