×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام سجاد (علیہ السلام) کا خطبہ مدینہ منورہ میں

مرداد 06, 1393 522

امام سجاد (علیہ السلام) اور سیدہ زینب (ع) کے خطبوں نے یزید کی حکومت کو شدید خطرات سے دوچار کردیا تھا چنانچہ اس نے

عبیداللہ بن زیاد کو قصور وار ٹہراتے ہوئے کہا کہ اگر میں کربلا میں ہوتا ہرگز ایسا نہ ہونے دیتا! لیکن اگر یزید سچا تھا اور قصور ابن زیاد کا تھا تو اسیران آل محمد (ص) کو شام کیوں لے جایا گیا؟ تفاخر کی مجلس کا اہتمام کیوں کیاگیا؟ کفر آمیز اشعار کہہ کر خدا، رسول اور قرآن کا انکار کیوں کیا گیا؟ یزید نے ابن زیاد کو ہٹانے اور سزا دینے کے بجائے اس کو اپنے حرم میں اپنے ساتھ کیوں بٹھایا اور اس کو تحفے تحائف کیوں دیئے؟ اور اہل بیت (ع) کو شام میں قید کیوں گیا؟
چنانچہ حقیقت یہی ہے کہ اس کو اور اموی حکومت کو عوام کی طرف سے شدید خطرات لاحق ہوئے تھے اور خطرے کے باعث اس نے اسیران آل رسول (ص) کو عزت و احترام کے ساتھ مدینہ روانہ کیا اور جب امام (ع) مدینہ پہنچے اور بشیر بن جذلم کے توسط سے اہل مدینہ کو اپنے آنے کی اطلاع دی تو لوگ باب الفسطاط کے قریب آپ (ع) کے پاس پہنچے اور آہ و فریاد اور ماتم و عزا کی کیفیت ہر سو طاری ہوئی اور آپ (ع) نے لوگوں سے فرمایا خاموش ہوجاؤ اور پھر انہیں خطبہ دیا اور حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا:
میں بڑی دشواریوں، زمانے کی تکالیف اور آسیبوں اور آزار اور ناخوشگوار حوادث اور دلخراش اور جان سوز بلاؤں اور رنج آور اور نابود کردینے والے مصائب پر اس (خدا) کا شکر ادا کرتا ہوں۔
اے لوگو! خداوند متعال نے ہمیں عظیم مصائب اور آزمائشوں میں مبتلا کیا اور اسلام میں عظیم دراڑیں پڑیں، ابو عبداللہ الحسین (ع) اور ان کے خاندان کو قتل کیا گیا اور ان کے حرم کو قید کیا گیا اور ان کا سر شہروں میں پھرایا گیا اور یہ مصیبت بے مثل ہے۔
اے لوگو! تم میں سے کون ان کی شہادت کے بعد خوش ہوسکتا ہے؟! کونسا دل ہے جو ان کے لئے محزون نہ ہو؟! کونسی آنکھ ہے جو اپنے آنسو ضبط کرسکے؟! مضبوط بنیادوں پر استوار سات آسمان ان کی شہادت پر روئے، سمندر اپنی امواج کے ساتھ اور آسمانوں اپنے ستونوں کے ساتھ اور زمین چاروں طرف سے، درختوں کی ٹہنیاں، مچھلیاں اور سمندروں کی لہریں اور مقرب فرشتے اور آسمانوں کے باشندے ان پر روئے۔
اے لوگو! ہمیں بےگھر، منتشر اور اپنے وطن سے دور کیا گیا، گویا ہم ترک اور کابل کے فرزند تھے، کسی جرم یا ناپسندیدہ عمل کا ارتکاب کئے بغیر، ہمارے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا، حتی ہم نے اپنے سابقہ بزرگوار بزرگوں کے بارے میں ایسا کچھ نہیں سنا۔ "یہ دھوکا اور فریب ہی ہے"۔
خدا کی قسم! اگر رسول خدا (ص) [مسلمانوں کو ہمارے حق میں] ان سفارشات کے بجائے ہمارے خلاف جنگ کا حکم دیتے پھر بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے تھے "بے شک ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں"۔ (1)۔ (2)
حوالہ جات:
1۔ سورہ بقرہ (2) آیت 156۔
2۔ اللهوف،ص 84. بحارالانوار ج 45 صفحہ 147 و 148۔ سید عبدالرزاق مقرم، مقتل الحسین، ص 276۔

Login to post comments