×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سر بر محمل زدن حضرت زینب

مرداد 10, 1393 658

سوال:کیا یہ درست نہیں ہے کہ سیدہ زینب (س) نے اپنا سر محمل پہ مارا اور خون جاری ہوا؟جواب: یہ داستان کسی بھی شیعہ عالم،

مورخ یا محدث نے نقل نہیں کی ہے اور اس کا راوی «مسلم جصاص» نامی شخص ہے۔ اس شخص نے کہا ہے: میں شہر کوفہ کے مرکزی دروازے کے پاس کھڑا تھا ۔ جبکہ دروازہ زیر تعمیر تھا۔ کہ شور و غل کی آوازیں آنے لگیں؛ میں اسی جانب چلا گیا اور میں نے دیکھا کہ عاشورا کے قیدی کجاؤوں اور محملوں میں ہیں۔ جب یزیدیوں نے امام حسین (ع) کا سر مبارک نوک سناں پر اٹھایا؛ حضرت زینب سلام اللہ نے یہ حالت دیکھ کر شدت غم سے اپنا سر کجاوے کی لکڑی پر دے مارا اور خون آپ (س) کے مقنعے کے نیچے سے جاری ہوا اور آپ (س) اشکبار آنکھوں کے ساتھ اشعار پڑھ رہی تھیں۔۔۔۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ روایت سند کے لحاظ سے بہت ہی ضعیف ہے؛ یہ داستان «نور العین فی مشہد الحسین (ع)» نامی کتاب سے نقل ہوئی ہے اور اس کتاب کا مولف نامعلوم ہے اور صرف بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کتاب کے مولف کا نام ابراہیم بن محمد نیشابوری اسفراینی ہے جن کا مسلک اشعری ہے اور مذہب شافعی۔ اکثر علماء نے اس کتاب کے نامعتبر ہونے کی تصدیق کی ہے؛ جیسا کہ عالم بزرگوار جناب آیت اللہ حاج میرزا محمد ارباب (رحمة اللہ علیہ) نے نور العین نامی کتاب اور مسلم جصاص کی داستان کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔ (1) اسی طرح منتھی الآمال، سفینة البحار اور مفاتیح الجنان کے مولف محدث عظیم شیخ عباس قمی رحمة اللہ علیہ اس روایت کو نقل کرکے اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں: مسلم جصاص کے سوا کسی نے بھی نہیں کہا ہے کہ اونٹوں پر کجاوے تھے!۔۔۔ اس روایت کا منبع «منتخب طریحی» اور «نورالعین» نامی کتابیں ہیں اور دونوں کا حال اہل فن علماء کے نزدیک ظاہر و آشکار ہے۔ اور سرتوڑنے جیسے اعمال اور کتب میں متذکرہ اشعار پڑھنا بھی حضرت زینب (س) جیسی شخصیت سے بعید ہے کیونکہ بی‏بی سیدہ عقیلہ بنی ہاشم ہیں جو عالمہ ہیں مگر انہیں کسی نے پڑھایا نہیں اور نبوت کی سینے سے سیراب ہوئی ہیں اور مقام رضا و تسلیم کی بلندی پر فائز ہیں۔( 2)
حوالہ جات:
1۔ خدش: خَدَشَ جلده و وجهَه: مزقه۔ و الخَدْشُ: مزْقُ الجلد، قلّ أَو کثر۔ یقال: خدَشَت المرأَة وجهَها عند المصیبة۔ لسان‏العرب، ج 6، ص 292، فرہنگ معاصر عربی ۔ فارسی، آذرتاش آذرنوش، نشر نی، چاپ چهارم،1383۔
2۔ میرزا محمد ارباب، الاربعین الحسینیه، چاپ اسوه، ص232۔
سوال:
سیدہ زینب (س) کا سر محمل پر مارنے کا قصہ اور امام سجاد (ع) کی تقریر، وضاحت فرمائیں؟
جواب:
شہید اول کتاب "الفوائد" میں فرماتے ہیں: فعل معصوم میں کئی احتمالات ہیں؛ یا تو جو فعل وہ انجام دی رہے ہیں وہ "شرع مبین کا حکم ہے" اور یہ فعل ایسی ہی صورت میں ہمارے لئے دلیل اور حجت اور نمونۂ عمل ہے اور ایسی ہی صورت میں ہمیں معصوم کا فعل "شرعی قانون" کے عنوان سے قبول کرنا پڑے گا۔ کبھی ہوسکتا ہے کہ امام حالات کے پیش نظر کوئی فعل انجام دیتا ہے جو درحقیقت "حکم حکومتی" کے زمرے میں آتا ہے اور لازم العمل ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی فعل معصوم (ع) کا ذاتی اور شخصی عمل ہے یعنی مثلاً رسول اللہ (ص) نے ایک ہفتہ وار غذائی میزان ترتیب دی ہے کہ مثلا ہفتے کے روز ایک خاص قسم کی غذا تناول فرمائیں؛ ایک معصوم نے اپنا ذاتی اور گھریلو ٹائم ٹیبل اس طرح رکھا ہے تو میں بعنوان فقیہ ہفتے کے روز وہی غذا کھانا مستحب قرار نہیں دے سکتا۔ کیوں؟ کیوں کہ یہ شخصی اور ذاتی اعمال ہیں۔ خوب توجہ کریں! شہید اول کی رائے ہے۔ اگر یہ احتمال ہو کہ یہ ایک شخصی عمل تھا تو ایسی صورت میں یہ عمل شرعی حکم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
شہید اول کہتے ہیں کہ اگر ہم محسوس کریں کہ کوئی فعل معصوم (ع) کا ذاتی فعل ہے تو ہم اس کو شرعی حکم قرار نہیں دے سکتے۔
اب اس مسئلے میں اگر حضرت زینب (س) یا حضرت ابوالفضل العباس (ع) یا دیگر انصار و بنو ہاشم نے کوئی عمل انجام دیا ہو تو کیا ہم ان کے اعمال سے استناد کرسکتے ہیں؟ ایک مقام پر ان بزرگواروں کے سامنے امام حسین (ع) اور اولاد و انصار اہل بیت (ع) شہید ہوئے ہیں یا امام حسین (علیہ السلام) کا سر مبارک نوک سنان پر دکھائی دیا ہے اور ناخود آگاہی کی کیفیت سیدہ اور دیگر سیدانیوں پر طاری ہوئی ہے اور انہوں نے وہاں عزا و ماتم کی شدت میں جو کچھ کیا ہے کیا اس حالت میں سرزد ہونے والا کوئی عمل ہمارے لئے نمونۂ عمل ہے؟
سوال:
کیا سر کو محمل پر مارنا امام حسین (ع) کی وصیت کے منافی نہ تھی؟
جواب:
امام سجاد علیہ‏السلام فرماتے ہیں: شب عاشور، وہی شب جس کے دوسرے دن میرے والد ماجد شہید ہوئے، میں خیمے میں تھا اور پھوپھی زینب میری تیمارداری میں مصروف تھیں۔۔۔ امام حسین (ع) نے میری پھوپھی کو دلاسہ دیا۔ امام سجاد (ع) فرماتے ہیں: امام حسین علیہ‏السلام نے ثانی زہراء (س) کی طرف دیکھا اور فرمایا: ایسا نہ ہو کہ شیطان صبر اور بردباری کو آپ سے سلب کردے۔۔۔ بہن زینب! میں آپ کو قسم دیتا ہوں اور آپ سے چاہتا ہوں کہ میری قسم کو نظر انداز نہ کریں؛ جب میں شہید ہوجاؤں میرے لئے گریبان چاک مت کرنا، اپنی چہرے کو مت کھرچنا، اپنی صدا نوحے اور واویلا کے عنوان سے بلند نہ کرنا۔ اس کے بعد بابا، پھوپھی کو لے کر میرے پاس آئے اور انہیں میرے قریب بٹھایا اور خود اصحاب و انصار کے پاس تشریف لے گئے۔۔۔ (1)
فطری امر ہے کہ عقیلہ بنی ہاشم جیسی بے مثل شخصیت امام عالی مقام کی توہیں و اہانت کا تصور تک نہیں کرسکتیں خواہ یہ توہیں ادبی صنائع و بدائع کے عنوان سے ہی کیوں نہ ہو۔
اور چوتھی بات یہ ہے کہ اگر فرض کریں کہ یہ داستان درست ہے اور حضرت زینب (س) نے اس بحرانی کیفیت میں ۔ جبکہ آپ (س) اپنے بھائی کا سر مبارک پہلی مرتبہ نوک سناں پر دیکھ رہی تھیں ۔ سیدہ (س) نے اپنا سر محمل پر مارا ہو، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ (س) شدید غم و الم میں مبتلا تھیں اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ (س) نے اپنا سر توڑنے کی نیت سے محمل پر مارا ہو۔ اور پھر وہ ایک نہایت بحرانی کیفیت تھی اور عام حالت میں بدن پر زخم لگانے کے جواز کی دلیل نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کسی پر ایسی حالت طاری ہوئی اور اس نے شدت جذبات میں اپنے آپ کو زخمی کردیا تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے (البتہ ایسا نہ ہو کہ پہلے سے اس نے اپنے قریب زخمی کردینے والا آلہ تیار کرکے رکھا ہو اور پہلے سے اس کے لئے منصوبہ بندی کی ہو) اس بات کی دلیل یہ ہے کہ سیدہ زینب (س) اور حرم اہل بیت (ع) کی دیگر سیدانیوں نے امام (ع) کی شہادت کی برسی کے موقع پر کبھی بھی ایسا عمل نہیں کیا اور تاریخ و روایات میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ امام سجاد (ع) اور دیگر امامان ہدایت علیہم السلام نے امام حسین (ع) کی عزاداری میں خدش اور زخم وارد کرنے کا کبھی بھی کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ حالانکہ تمام امامان ہدایت نے عزاداری اور سوگواری اور گریہ اور ندبہ کا اپنے زمانے میں بھرپور اہتمام کیا ہے۔
حوالہ جات:
1۔ الکامل فی التاریخ، ج4، ص59؛ البدایة والنهایة، ج 8، ص 177؛ تاریخ الیعقوبی، ج2، ص244؛ بحارالانوار، ج 45، ص2؛ انساب الاشراف، ج 3، ص 185، چاپ زکار، ج 3، ص 392؛ المنتظم فی التاریخ الملوک والامم، ج 5، ص 338؛ تاریخ الطبری، ج5، ص420۔
سوال:
کیا یہ درست ہے کہ سیدہ زینب نے کوفہ میں داخلے کے وقت اپنا سر محمل پر مارا تھا؟
جواب:
اگر فرض کریں کہ (اونٹ پر محمل کا انتظام تھا اور سیدہ محمل میں بیٹھی تھیں اور) شدت غم میں آپ (س) کا سر محمل پر لگا ہو تو کیا ہم اس کو دلیل شرعی قرار دے سکتے ہیں؟ فقہ امام جعفر صادق (ع) کے مطابق ہم اس فعل کو دلیل شرعی قرار نہیں دی سکتے۔۔۔ بہرحال میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جعلی شعائر کو اس افراطی اور انتہاپسندانہ انداز سے قائم و دائم رکھنے اور ان کو شریعت سے منسوب کرنے میں قطعی طور پر «بدعت» کا شائبہ گذرتا ہے۔ (1)
اب ہم لوٹتے ہیں سوال کی طرف اور اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ نہایت شدید آشوب و اضطراب و اضطرار کی حالت میں ۔ یقیناً خواتین اور بیبیوں کے افعال بخوبی سمجھ میں بھی آتے ہیں ۔ امام سجاد علیہ السلام جو اسیر بھی تھے اور بحکم خداوند علیل بھی تھے ۔ کیا تقریر (اور تأئید افعال کا اظہار کرنے) کے قابل تھے؟ اگر بفرض محال، یہ روایت درست ہو بھی تو قمہ زنوں اور زنجیر زنوں کا عمل حضرت زینب (س) کے عمل سے کلی طور پر مختلف ہے۔ (2) اپنے اختیار اور مرضی سے قمہ‏زنی اور زنجیرزنی کا یہ عمل ۔ اس زمانے میں جبکہ دنیا والے مسلمانوں کو دہشت گرد، خونریز اور تشدد پسند کی حیثیت سے متعارف کرنے پر بضد ہیں ۔ خاص حالت میں اضطرار شدید اور شدید دباؤ کی حالت میں سر محمل پر مار کر زخمی کرنے جیسے عمل سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا۔ (3) اگرچہ مندرجہ بالا سطور میں واضح کیا گیا کہ اس ضعیف روایت کی بنیاد پر اس عمل کو حضرت زینب (س) سے منسوب کرنا سیدہ (س) کے حق میں جفا سے کم نہیں ہے۔
حوالہ جات:
1۔۔۔ یا أخی قلبک الشفیق علینا۔ ما له قسی و صار صلیبا۔ یہ وہ نامعقول شعر ہے جو عقیلہ بنی ہاشم (س) سے منسوب کیا گیا ہے۔
2۔ آیت اللہ محمد ہادی معرفت کا انٹرویو، موضوع: عاشورا، عزاداری، تحریفات، ص 528۔
3۔ محمد صحتی سردرودی، «تحریف شناسی عاشورا و تاریخ امام حسین»، عاشورا، عزاداری، تحریفات، ص 209.
سوال:
سیدہ (س) کے محمل پر سر مارنے کی روایت کس حد تک معتبر ہے؟
جواب:
شیخ عباس قمی اس کے بعد لکھتے ہیں: اور مقاتل کی معتبر کتب سے ثابت ہے کہ سیدہ اور بنو ہاشم کے اسیروں کو بغیر کجاؤوں کے اونٹوں پر بٹھایا گیا تھا جن کے اوپر کسی قسم کا ہودج یا حتی جُلّ یا کمبل تک نہ تھا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ سیدہ نے ایسے ہودج کی لکڑی پر سر مار کر زخمی کیا ہو جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا!؟
سند کے حوالے سے یہ بھی ایک نقص ہے کہ کسی بھی ماخذ میں بھی اس روایت کا سلسلۂ سند ذکر نہیں ہوا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ مذکورہ بالا روایات میں بیان ہوا حضرات معصومین علیہم السلام نے ان اعمال سے باز رہنے کا حکم دیا ہے؛ بالخصوص امام حسین (ع) نے کربلا کے مصیبت زدگان کو ان اعمال و افعال سے منع فرمایا ہے۔ یہاں جو سوال اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر امام حسین (ع) نے اپنی ہمشیرہ کو قسم دی اور یادآوری فرمائی کہ «کہیں شیطان آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ کردے»،(3) تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت زینب (س) نے اپنا سر توڑ دیا ہو؟ کیا ثانی زہراء (س) شب عاشور کو امام (ع) کا حکم بھول گئی تھیں؟! اس میں شک نہیں ہے کہ سیدہ زینب (س) اللہ کے خاص اولیاء میں سے ہیں اور علم لدنی کی مالک ہیں (عالمہ غیر معلَّمہ ہیں) اور یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ امام (ع) کے حکم کو نظر انداز کرکے اس عمل کی مرتکب ہوئی ہوں چنانچہ ان روایات کے مطابق ۔ جن میں حضرت زینب (س) کو صبر و رضا کی مثال قرار دیا گیا ہے ۔ یہ بات قبول نہیں کی جاسکتی کہ آپ (س) نے ایسا عمل انجام دیا ہو۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس روایت کا مضمون ضعیف ہے اور اس سے استناد نہیں کیا جاسکتا اور ہماری اس بات کے اثبات کے لئے یہی کافی ہے کہ جو اشعار اس روایت میں حضرت زینب (س) سے منسوب کئے گئے ہیں ان میں سے ایک شعر میں امام حسین (ع) پر (معاذاللہ) سنگدلی کا الزام لگایا گیا ہے۔
حوالہ جات:
3۔ شیخ عباس قمی، منتھی الآمال، ج 1، ص75

Login to post comments