×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ہدایت کے لئے دو گرانقدر چیزیں

مرداد 10, 1393 427

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل نے انسانیت کی جس انداز سے رہنمائی  کی ، اس کے متعلق کسی کو بھی شبہ نہیں ہے ۔

ائمہ علیھم السلام صاحب عصمت اور اعلم زمانہ تھے بالخصوص وہ ائمہ جنہیں نہایت سخت حالات کا سامنا تھا جیسے حضرت امام تقی ،حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیھم السلام ۔یہ امر اس بات کا بہترین موید ہے کہ سنت (قول ،فعل اور تقریر)ائمہ علیھم السلام کو بھی شامل ہے اور یہاں پرہم خلیل ابن احمد فراہیدی کی عقلی دلیل پیش کرسکتے ہیں جو انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے بارےمیں پیش کی ہے ۔
ان(حضرت علی ) کا سب سے بےنیاز رہنا اور سب کا ان (حضرت علی )کا محتاج ہونا ان کی امامت کی دلیل ہے ۔یہ استدلال ہم سارے ائمہ کے لئے پیش کرسکتےہیں کیونکہ تاریخ گواہ ہےکہ ائمہ اھل بیت نے کسی کے سامنے زانوے ادب تہ نہیں کیا ہے۔اور وہ کسی بھی طرح سے کسی کے محتاج نہیں رہے ہیں ۔
سرکار دو عالم نے ھدایت امت کے لئے دو گرانقدر چیزیں چھوڑى ہیں،”‌قرآن اور اھل بیت علیھم السلام“اور ان دونوں کا کمال اتحاد یہ ہے کہ اھل بیت علیہم السلام کى پورى زندگى میں قرآن مجید کے تعلیمات کى تجسیم ہے اور قرآن کى جملہ آیات میں اھل بیت علیہم السلام کى زندگی کى تصویر دیکھى جا سکتى ہے۔ کہیں ان کے کردار کى توقیر ہے تو کہیں ان کے دشمنوں کی تحقیر۔کھیں ان کے مستقبل کى تمھید ہے تو کھیں ان کے ماضى کی تمجید۔
متعدد روایات ہیں جو اس بات پرتاکید کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے اھل بیت ہی ہیں جو قرآن کے حقائق ،معانی اور اھداف سے کما حقہ واقف ہیں ۔ان روایات میں سے ایک یہ ہےکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "من عندہ علم الکتاب کے بارےمیں فرمایا ہےکہ اس سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں۔ اسی طرح حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "انا ھو الذی عندہ علم الکتاب"میں ہی ہوں جس کےپاس علم کتاب ہے۔

Login to post comments