×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

دین یا ادیان

مرداد 10, 1393 336

عموماً مباحث دین شناسی میں لفظ ”‌دین“ جمع (ادیان) کی صورت میں استعمال کیا جاتا نیز ہر نبی کے لئے ایک مخصوص دین حساب کیا جاتاہے

جیسے دین یہودیت، دین عیسائیت یا دین اسلام لیکن قرآن مجید کے اصول و قوانین کے مطابق از آدم تا محمد، دین خدا فقط ایک ہے اور تمام انبیاء صرف ایک مکتب کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں۔
"ان الدین عند الله الاسلام"
بیشک خدا کے نزدیک دین فقط اسلام ہے۔(1)
تمام انبیاء کے اصول وبنیادیں ایک ہی ہیں لیکن ان میں دوجہتیں پائی جاتی ہیں:
الف) شرائط زمان ومکان، معاشرہ اور خصوصیات انسانی کی بنیاد پر بعض فرعی مسائل میں فرق۔
ب) مرتبہ تعلیمات میں فرق، ہربعد میں آنے والا نبی، فکر بشری کے ارتقاء وکمال کے مطابق اپنی تعلیمات کا درجہ ومرتبہ بڑھاتا رہتا تھا۔ مثلاً خدا، قیامت اور انسان وغیرہ سے متعلق موجودہ اسلامی معارف وتعلیمات گذشتہ انبیاء کی تعلیمات کے بالمقابل بے حد عمیق ووسیع ہیں۔
انسان مکتب ومدرسہ انبیاء میں اس طالبعلم کی مانند ہے جو درجہ اول سے آخری درجے تک کے علمی مراحل بتدریج طے کرتا ہے۔ اس سلسلے میں دین واحد کا ارتقاء کھنا صحیح ہے نہ کہ جدا گانہ ادیان کے طور پر پیش کرنا۔
قرآن مجید نے ہرگز لفظ ”‌دین“ کو جمع (ادیان) کی صورت میں استعمال نہیں کیا ہے بلکہ انبیائے الٰہی کو ایک دوسرے کی تائید وتصدیق کرنے والے کے طور پر پر پیش کیا ہے اور اس سلسلے میں انبیائے کرام سے سخت عہد و پیمان لیا گیا ہے۔
"واذ اخذالله میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب وحکمة ثم جائکم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ قال ااقررتم واخذتم علیٰ ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشھدوا وانا معکم من الشاھدین"
اور ( اس وقت کو یاد کرو) جب خدا نے تمام انبیاء سے عہد لیا کہ ہم تم کو جو کتاب وحکمت دے رہے ہیں اس کے بعد جب وہ رسول آجائے جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے تو تم سب اس پر ایمان لے آنا اور اس کی مدد کرنا اور پھر پوچھا کہ کیا تم نے ان باتوں کا اقرار کرلیا اورہمارے عہد کو قبول کرلیا تو سب نے کہا کہ بیشک ہم نے اقرار کرلیا۔ ارشادہوا کہ اب تم سب بھی گواہ رہنا اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔(2)
خاتم الانبیاء
یہ بھی ضرریات اسلام میں سے ہے کہ رسول اکرم ، سلسلہ انبیاء کی آخری کڑی ہیں۔ آنحضرت کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآن کریم سورہ احزاب کی 40ویں آیت میں اس حقیقت کو قاطعانہ طور پرصاف صاف بیان کررہا ہے:
"ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین وکان الله بکل شی علیماً"
محمد، تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے بھی باپ نہیں ہیں لیکن وہ خدا کے رسول اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں اور خدا ہر شے کا خوب جاننے والا ہے۔(3)

Login to post comments