×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

دیگر ادیان میں موعود آخر الزمان کا عقیدہ

مرداد 10, 1393 446

قدیم ایرانیوں کا عقیدہ تھا کہ ان کا تاریخی ہیرو "گرزاسپہ" زندہ ہے اور کابل میں زندگی بسر کررہا ہے اور ایک لاکھ فرشتے اس کی حفاظت پر

مأمور ہیں تاکہ ایک روز قیام کرکے دنیا کی اصلاح کرے۔
ایرانیوں کے ایک دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ ایران کا بادشاہ "کے خسرو" مملکت کے نظم و نسق اور فرمانروائی اپنے بیٹے کے سپرد کرنے کے بعد کوہستان چلے گئے اور اسی زمانے سے وہیں ارام کر رہے ہیں اس روز تک جب وہ ظاہر ہوں گے اور دنیا کو اہریمنوں اور طاغوتوں سے پاک کریں گے۔
برہمائیوں کا عقیدہ ہے کہ "ویشنو" نامی شخص قیام کر ے گا۔
انگلستان کے جزائر کے باشندے کئی صدیوں سے انتظار کر رہے ہیں کہ "آرتور" (آرچر) نامی شخص آلوان نامی جزیرے سے قیام کرے۔
چینیوں (اور بدھ مت کے پیروکاروں) کا عقیدہ ہے کہ "کرشنا" نامی شخص ظہور کریگا اور دنیا کو نجات دے گا۔
وہ عالم کے لئے مہدی (عج) کے وجود کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ آخرالزمان میں ظہور کریں گے اور دنیا پر تسلط پائیں گے۔
نصرانیت و مسیحیت کا بھی یہی عقیدہ ہے لیکن مہدی (عج) کے اوصاف کے حوالے سے ان میں اختلاف پایا جاتاہے اور غالبا حضرت عیسی (ع) کو ہی مصلح آخر الزمان سمجھتے ہیں۔
اور تمام مسلمین خواہ شیعہ یا سنّی اس حوالے سے متفق القول ہیں کہ ان کا نام مبارک "مہدی(عج)" ہے اور حضرت علی و حضرت فاطمہ اور امام حسین (علیھم السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔
مہدویت دین یہود میں؛ مہدی(عج) و عیسی(ع):
یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ آخر الزمان میں "ماشیح" نامی ایک نجات دہندہ ظہور کرے گا اور وہ حضرت داۆد (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام) کی نسل سے ہوگا۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کے موعود حضرت مہدی (علیہ‌السلام) کی والدہ ماجدہ کا سلسلہ نسب حضرت داۆد (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام) سے جاملتا ہے!
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments