×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اہل بیت کے فضائل اور قرآن

مرداد 10, 1393 643

اہل بیت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید کى بے شمار آیات ہیں جو اہل بیت اطہارعلیہم السلام کے فضائل

و مناقب کے گرد گھوم رہى ہیں اور انہیں حضرات معصمومین علیہم السلام کے کردار کے مختلف پہلووں کى طرف اشارہ کر رہى ہیں بلکہ بعض روایات کى بنا پر تو کل قرآن کا تعلق ان کے مناقب، ان کے مخالفین کے نقائص ومثالب، ان کے اعمال و کردار اور ان کى سیرت و حیات کے آئین و دستور سے ہے لیکن ذیل میں صرف ان آیات کى طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جن کى شان نزول کے بارے میں عام مسلمان مفسرین بھى اقرار کیا ہے کہ ان کا نزول اھل بیت اطہارعلیہم السلام کے مناقب اى ان کے مخالفین کے نقائص کے سلسلہ میں ہوا ہے۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ "نحن الذین عندناعلم الکتاب و بیان مافیہ"ہم اھل بیت ہی ہیں جن کے پاس علم کتاب اور اسمیں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا علم ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ "علی یعلم الناس من بعدی تاویل القرآن و مالایعلمون "علی میرے بعد لوگوں کو تاویل قرآن اور جوکچھ نہیں جانتے اس کی تعلیم دینگے۔
حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام تاکید کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ "سلونی عن کتاب اللہ فانہ لیس میں آیۃ الا وقد عرفت بلیل نزلت ام بنھار فی سھل ام جبل "مجھ سے کتاب خدا کےبارےمیں سوال کرو ،میں ہرآیت کے بارےمیں جانتاہوں خواہ وہ رات میں نازل ہوئی ہویا دن میں، دشت میں نازل ہوئی ہو یا پہاڑی پر ۔
عبداللہ ابن مسعود نے روایت کی ہےکہ "ان القرآن نزل علی سبعۃ احرف مامنھا حر‌ف الا لہ ظہرو بطن و ان علی ابن ابی طالب عندہ علم الظاہرو الباطن۔
قرآن سات حرفوں پرنازل ہوا ہے اور انمیں ایسا کوئی حرف نہیں جسکا ظاہر اور باطن نہ ہواور علی ابن ابی طالب کے پاس ظاہر اور باطن کا علم ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن سے پوچھو،سوال کرو ،آپ کا ارشاد ہے "ذالک القرآن فاستنطقوہ ،ولن ینطق ،ولکن اخبرکم ،الا ان فیہ علم ما یاتی ۔ یہ قرآن ہے اس سے سوال کرو تاکہ وہ تم سے کلام کرے وہ ہرگز کلام نہیں کرے گالیکن میں میں تمہیں بتاتاہوں، جان لوکہ قرآن میں آیندہ کا علم ہے ۔
قرآن ایک مکمل کتاب ہے اور انسان کی رہنمائی کے لئے اس کتاب میں قیامت تک کے لئے ہر طرح کی رہنمائی موجود ہے ۔ انسان کو بہتر زندگی گزارنے کے لئےقرآن کی سمجھ بوجھ ہونی چاہئے اور اس علم کی آگاہی کے لئے انسان کو کوشش کرنا چاہیئے ۔ اہل بیت علیھم السلام کویہ امتیاز حاصل ہےکہ ان کے پاس علم قرآن ہے اور اگر کسی کو علم قرآن حاصل کرنا ہوتواسے در اھل بیت علیھم السلام پرآنا ہو گا۔ قرآن مجید کى بے شمار آیات ہیں جو اھل بیت اطہارعلیہم السلام کے فضائل و مناقب کے گرد گھوم رہى ہیں اور انہیں حضرات معصمومین علیہم السلام کے کردار کے مختلف پہلووں کى طرف اشارہ کر رہى ہیں بلکہ بعض روایات کى بنا پر تو کل قرآن کا تعلق ان کے مناقب، ان کے مخالفین کے نقائص ومثالب، ان کے اعمال و کردار اور ان کى سیرت و حیات کے آئین و دستور سے ہے ۔
علماء حق نے اس سلسلہ میں پورى پورى کتابیں تالیف کى ہیں اور مکمل تفصیل کے ساتھ آیات اور ان کى تفسیر کا تذکرہ کیا ہے لیکن اس کام پر صرف ایک اقتباس درج کیا جا رہا ہے تاکہ اردو داں طبقہ کے ذھن میں بھى یہ آیات اور ان کے حوالے رہیں اور زیر نظر کتاب کى عظمت و برکت میں اضافہ ہو جائے۔
1۔ ”‌اھدنا الصراط المستقیم“ (خدایا ہمیں صراط مستقیم کى ہدایت فرما)۔ یہ محمد و آل محمد کا راستہ ہے۔(شواہد التنزیل ج/1ص/51)
2۔ ” ھدیً للمتقین الذین یومنون بالغیب“ (قرآن ان متقین کے لئے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں) (بقرہ/2۔3)
یہ ان مومنین کا ذکر ہے جو محبت قائم آل محمد پر قائم رہیں۔ رسول اکرم(ص)(ینابیع المودّة ص/443)
3۔ ”‌وبشر الذین آمنو و عملوا الصالحات ان لہم جنّات تجرى من تحتہا الانہار“۔(بقرہ۔25)
پیغمبر آپ صاحبان ایمان و عمل کو بشارت دے دیں کہ ان کہ لئے وہ جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جارى ہوگی۔ (شواہد التنزیل)
4۔ ”‌فتلقیٰ ادم من ربّہ کلمات فتاب علیہ“۔ (بقرہ۔37)
آدم علیہم السلام نے پروردگار سے کلمات حاصل کرکے ان کے ذریعہ توبہ کی۔ (غایة المرام ص/393)
5۔ ”‌واذ قلنا ادخلواھذہ القریة فکلو منہا حیث شئتم رغداً و ادخلوا الباب سجّداً و قولوا حطة نغفر لکم خطٰیا کم“۔(بقرہ۔ 58)
اھل بیت علیہم السلام کى مثال سفینہ نوح اورباب حطّہ کى ہے۔پیغمبراکرم(ص)۔(درمنثور،ج1)
قرآن کریم میں اھل بیت(ع) کی شان میں متعدد آیات نازل ہوئی ہیں جن میں ان کے سید و آقا امیر المو منین(ع) بھی شامل ہیں اُن میں سے بعض آیات یہ ہیں:
1۔خداوند عالم کا ارشاد ہے:"ذَلِکَ الَّذِی یُبَشِّرُاللهُ عِبَادَہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ قُلْ لاَاَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًاإِلاَّالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی وَمَنْ یَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَہُ فِیہَاحُسْنًاإِنَّ اللهَ غَفُورٌشَکُورٌ"۔[1]
”‌یہی وہ فضل عظیم ہے جس کی بشارت پروردگار اپنے بندوں کو دیتا ہے جنھوں نے ایمان اختیار کیا ہے اور نیک اعمال کئے ہیں ،تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کو ئی اجرنہیں چا ہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو اور جو شخص بھی کو ئی نیکی حاصل کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کر دیں گے کہ بیشک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدر داں ہے “۔
تمام مفسرین اور راویوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں پر جن اہل بیت(ع) کی محبت واجب کی ہے ان سے مراد علی(ع) ،فاطمہ ،حسن اور حسین علیھم السلام ہیں ،اور آیت میں اقتراف الحسنہ سے مراد اِن ہی کی محبت اور ولایت ہے اور اس سلسلہ میں یہاں پردوسری روایات بھی بیان کریں گے جنھوں نے اس محبت و مودت کی وجہ بیان کی ہے:
ابن عباس سے مروی ہے :جب یہ آیت نازل ہو ئی تو سوال کیا گیا :یارسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اللہ آپ کے وہ قرابتدارکو ن ہیں جن کی آپ نے محبت ہم پر واجب قرار دی ہے؟
آنحضرت (ص) نے فرمایا :”‌علی(ع) ،فاطمہ(س)اور ان کے دونوں بیٹے “۔[2]
جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے :ایک اعرابی نے نبی کی خدمت میں آکر عرض کیا :مجھے مسلمان بنا دیجئے تو آپ نے فرمایا:”‌تَشْھَدُ اَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ،وَاَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ“”‌تم خدا کی وحدانیت اور محمد کی رسالت کی گو اہی دو میں قرابتداروں کی محبت کے علاوہ اور کچھ نھیں چا ہتا “۔
اعرابی نے عرض کیا :مجھ سے اس کی اجرت طلب کر لیجئے ؟رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: ”‌إِلا َالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی“۔
اعرابی نے کہا :میرے قرابتدار یا آپ کے قرابتدار ؟فرمایا :”‌ میرے قرابتدار “۔اعرابی نے کھا:
میں آپ کے دست مبارک پر بیعت کرتا ہوں پس جو آپ اور آپ کے قرابتداروں سے محبت نہ کرے اس پر اللہ کی لعنت ھے ۔۔۔نبی نے فوراً فرمایا :”‌آمین “۔[3]

Login to post comments