×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

جزع اور بےچینی کے مصادیق

مرداد 10, 1393 385

سوال:جزع اور بےچینی کے مصادیق کیا ہیں؟جواب: حتی جزع اور بےچینی کے مصادیق کو بھی اس باب میں وارد ہونے والی روایات سے

سمجھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر مسمع بن عبدالملک سے روایت ہے کہ ایک روز امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا:
{أَ مَا تَذْكرُ مَا صُنِعَ بِهِ یعْنِی بِالْحُسَینِ (ع) قُلْتُ بَلَى قَالَ أَ تَجْزَعُ قُلْتُ إِی وَاللَّهِ وَ أَسْتَعْبِرُ بِذَلِك حَتَّى یرَى اهلی أَثَرَ ذَلِك عَلَی فَأَمْتَنِعُ مِنَ الطَّعَامِ حَتَّى یسْتَبِینَ ذَلِك فِی وَجْهِی فَقَالَ رَحِمَ اللَّهُ دَمْعَتَك أَمَا إِنَّك مِنَ الَّذِینَ یعَدُّونَ مِنْ اهل الْجَزَعِ لَنَا وَ الَّذِینَ یفْرَحُونَ لِفَرَحِنَا وَ یحْزَنُونَ لِحُزْنِنَا۔۔۔}۔ (1)
کیا تم امام حسین علیہ السلام کو کبھی یاد کرتے ہو اور جو مصائب آپ (ع) پر وارد ہوئے ہیں انہیں یاد کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں میرے مولا۔ فرمایا: کیا جزع اور بےچینی بھی کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں خدا کی قسم اور میں آنسو بہاتا ہوں یہاں تک کہ میرے قریبی افراد اس کا اثر میرے چہرے پر دیکھ لیتے ہیں اور میں کھانا کھانا چھوڑ دیتا ہوں یہاں تک کہ اس کا اثر بھی میرے چہرے پر نمایاں ہوجاتا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور تمہیں گریہ و بکاء کا اجر عطا فرمائے! جان لو کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جو ہماری خوشی میں شادماں و مسرور ہوتے ہیں اور ہمارے غم و ماتم میں محزون ہوجاتے ہیں۔
امام علیہ السلام کی طرف سے اس تعبیر کا مطلب یہ ہے کہ امام علیہ السلام کا منظور نظر جزع و بےچینی اہل بیت علیہم السلام کے لئے رونا اور مغموم ہونا ہے اور اہل بیت علیہم السلام کے اصحاب بھی جزع سے یہی معنی لیا کرتے تھے۔
حوالہ جات:
1۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 507؛ و کامل الزیارات، ص 101۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments