×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

انتظار مہدی اور مہدویت کے دعویدار

مرداد 11, 1393 438

تاریخ اسلام گواہ ہے کہ متعدد اقتدار پرست اور منفعت طلب لوگوں نے مہدویت کے دعوے کئے ہیں یا پھر بعض نادان افراد نے کسی ایک خاص فرد

کو مہدی سمجھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدویت کا موضوع اور ایک غیبی اور الہی نجات دہندہ کا اعتقاد مسلمانوں کے درمیان مسلّمات میں سے ہے اور چونکہ بعض افراد کے نام یا بعض خصوصیات حضرت مہدی (عج) کے نام اور اوصاف سے مشابہت رکھتے تھے لہذا ان لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور اپنے آپ کو مہدی کے عنوان سے متعارف کرایا ہے؛ بسا اوقات ان لوگوں نے کوئی دعوی نہیں کیا ہے لیکن بعض عوام الناس نے نادانی یا پھر حکومتوں کے ظلم و ستم کی بنا پر ـ یا پھر ظہور مہدی میں عجلت کی خواہش یا دوسرے امور کے بموجب حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے قطعی اور حتمی علائم میں غور کئے بغیر ـ انہیں مہدی موعود تصور کر بیٹھے ہیں۔
مثال کے طور پر: مسلمانوں کی ایک جماعت نے امیرالمومنین (ع) کے فرزند محمد بن حنفیہ کو ـ رسول اللہ (ص) کے ہم نام اور ہم کنیت ہونے کے بموجب ـ مہدی قرار دیا اور ان کا خیال ہے کہ محمد دنیا سے رخصت نہیں ہوئے بلکہ غائب ہوئے ہیں اور بعد میں ظاہر ہوکر دنیا پر حکومت کریں گے۔
اسماعیلیوں میں سے بعض کا خیال تھا کہ اسمعیل بن امام صادق (ع) نہیں مرے بلکہ ان کی موت کا اعلان ایک مصلحت کی بنا پر ہوا تھا اور وہ نہیں مریں گے بلکہ وہی قائم موعود ہیں جو قیام کرکے دنیا پر مسلط ہونگے۔
امام حسن (ع) کے فرزندوں میں محمد بن عبداللہ بن حسن (ع) ـ المعروف نفس زکیہ ـ نے عباسی بادشاہ منصور دوانیقی کے دور میں قیام کیا اور چونکہ ان کا نام محمد تھا ان کے والد نے دعوی کیا کہ وہ مہدی موعود ہیں ہیں اور اسی دعوے سے اپنے بیٹے کے لئے افرادی قوت فراہم کی۔
نفس زکیہ کے قیام کے دور میں مدینہ کے فقیہ و عابد محمد بن عجلان نے ان کی مدد کی لیکن جب وہ جنگ کے دوران مارے گئے تو مدینہ کے عباسی گورنر جعفر بن سلیمان نے انہیں بلوایا اور کہا: تو نے اس قیام میں اس جھوٹے شخص کا کیوں ساتھ دیا؟ اور حکم دیا کہ ان کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
مدینہ کے فقہاء اور اشراف نے جعفر بن سلیمان سے ابن عجلان کے لئے عفو و درگذر کی درخواست کی اور کہا: اے امیر! محمد بن عجلان مدینہ کے فقیہ و عابد ہیں اور موضوع ان پر مشتبہ ہوا ہے اور انھوں نے گمان کیا ہے کہ گویا محمد بن عبداللہ مہدی موعود ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آئی ہے۔
یہی مسئلہ مدینہ کے مشہور عالم و محدث عبداللہ بن جعفر کے لئے بھی پیش آیا اور انھوں نے مدینہ کے حاکم کی بازخواست کے جواب میں کہا:
میں نے محمد بن عبداللہ کا ساتھ دیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ وہ وہی مہدی موعود ہیں جن کی بشارت ہماری حدیثوں میں آئی ہے؛ وہ جب تک زندہ تھے مجھے اس سلسلے میں کوئی شک نہ تھا اور جب وہ قتل ہوئے تو میں سمجھ گیا کہ وہ مہدی نہیں ہیں، اور اس کے بعد کسی کے دھوکے میں نہیں آؤں گا۔
منصور کا نا بھی عبداللہ اور اس کے بیٹے کا نام محمد تھا چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کو مہدی کا لقب دیا اور دعوی کیا کہ "مہدی موعود نفس زکیہ نہیں بلکہ میرا بیٹا ہے"۔
نیز بعض فرقے بعض سابقہ ائمہ (ع) کی مہدویت پر یقین رکھتے تھے؛ مثال کے طور پر فرقہ ناؤوسیہ کا خیال تھا کہ امام صادق (ع) مہدی اور زندہ ہیں اور غائب ہوئے ہیں۔
فرقہ واقفیہ امام موسی کاظم (ع) کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ (ع) زندہ رہیں گے حتی کہ دنیا کے مشرق و مغرب پر مسلط ہوجائیں اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں جس طرح کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی اور آپ (ع) قائم المہدی ہیں۔ اور بالآخر بعض لوگوں نے امام حسن عسکری (ع) کی شہادت کے بعد آپ (ع) کی شہادت کا انکار کیا اور کہا کہ آپ (ع) ہی قائم المہدی ہیں۔
یہ وہ نمونے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیدہ مہدویت رسول اللہ (ص) کے زمانے سے مسلمہ اسلامی عقیدہ تھا اور مسلمان ابتداء ہی سے منتظر تھے اس شخصیت کے جو ظلم کے خلاف جدوجہد کرے اور عدل و انصاف کا پرچم لہرائے۔
ظاہر ہے کہ بعض بازیگروں نے تاریخ کے بعض حصوں میں اگر اس اسلامی عقیدے سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تو اس کا مطلب انکار مہدویت نہیں ہونا چاہئے کیونکہ بہت سوں نے الوہیت اور نبوت کے دعوے کئے لیکن ان کے دعوے خدا اور انبیاء کے انکار کا جواز نہ بن سکے؛ جیسا کہ علم و دانش اور صنعت اور سائنس و ٹیکنالوجی سے بھی ہمارے زمانے میں غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے اور انہیں انسانیت کے خلاف استعمال کیا گیا ہے لیکن کسی نے بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی نفی روا نہیں رکھی ہے۔

Login to post comments