×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

مٹھی بھر اصحاب کے ساتھ دنیا کی تسخیر!

مرداد 11, 1393 367

سوال: یہ کیسے ممکن ہے کہ امام عصر (عج) معدود افراد کی مدد سے دنیا کو تسخیر کردیں؟ کیونکر ممکن ہے کہ پوری دنیا مٹھی بھر

اصحاب مہدی (عج) کے سامنے سر تسلیم خم کریں اور اپنی عادات و اخلاقیات اور روایات کو ترک کردیں؟
روایات میں ہے کہ جب صاحب الامر (عج) مکہ میں ظہور کریں تو ابتداء میں 313 اصحاب خاص ان کی خدمت میں حاضر ہونگے اور جب اجتماع کرنے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچے تو مکہ سے خارج ہونگے۔
ممکن ہے کہ امام (عج) کا غلبہ اعجاز کے ذریعے ہو، ممکن ہے ظاہری اسباب کے ذریعے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ذریعوں سے ہو؛ جس طرح کہ رسول اللہ (ص) کی پیشقدمی اور کامیابی میں دونوں عناصر کا کردار تھا۔
اعجاز کے ذریعے چونکہ خداوند متعال کی مشیت ان کے شامل حال ہوگی، لہذا فتح کا امکان ظاہر و آشکار ہے اور اس کی بشارتیں قرآن اور حدیث میں فراوان ہیں۔ اور خداوند متعال بسا اوقات تھوڑی سی جماعت کو ایک عظیم قوت پر نصرت عطا فرماتا ہے؛ ارشاد ہوتا ہے:
{كَم مِّن فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیرَةً بِإِذْنِ اللّهِ وَاللّهُ مَعَ الصَّابِرِینَ}۔ (1)  
"کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو بڑی جماعتوں پر غالب آ جا تی ہیں،  اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر کر نے والوں کے ساتھ ہے"۔
امام مہدی (ع) اور ان کے اصحاب اور اللہ کے شائستہ بندے سب پر غالب و حاکم اور زمین کے وارث و مالک بنیں گے:
{وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ}۔ (2)
"اور بے شک ہم نے ذکر (تورات) کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث  میرے صالح بندے ہوں گے"۔
اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے بھی اس طرح کی فتح اور حکومت الہیہ کی تشکیل ممکن ہے کیونکہ جس وقت امام (عج) ظہور کریں گے دنیا معاشرتی، اخلاقی اور سیاسی حالات بالکل مساعد ہونگے۔
حوالہ جات:
1۔ سورہ بقرہ (2) آیت 149۔
2۔ سورہ انبیاء (21) آیت 105۔
اس زمانے میں دنیا کی اقوام اور ملتیں معنوی اور اخلاقی زندگی سے محروم اور دشمنیوں اور منافرتوں میں جکڑے ہوئے اور ظلم و جارحیت، ایک دوسرے کی نسبت بدگمان اور افتراق و انتشار سے دوچار کئے جاچکے ہونگے؛ کسی صالح امام و قائد کے ہاتھوں معاشروں کی قیادت سے مایوس ہوچکے ہونگے؛ ظاہری طور پر اہل دانش و فکر کی طرف سے مختلف قسم کے مکاتب کو آزما چکے ہونگے اور سب سے مایوس ہوچکے ہونگے اور سب تبدیلی اور حالات کی تغییر کے منتظر ہونگے۔
ایسے ہی حالات میں حضرت مہدی (ع) اور ان کے اصحاب قوت ایمانی، اخلاق حسنہ اور نجات بخش ترین ترقیاتی اور معاشی پروگراموں اور سماجی انصاف کے قابل عمل منصوبے لے کر میدان میں آئیں گے اور الہی تحریک اور روحانی و سیاسی دعوت کا آغاز کریں گے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلائیں گے اور برابری، اخوت، عدل و امن اور خلوص و وفا، صداقت اور درستکاری اور صحیح نظم و ضبط کی طرف بلائیں گے؛ وہ خود اور ان کے اصحاب بشری فضائل کا اعلی ترین نمونہ ہیں اور ایمانی قوت اور استقامت، ہمت و محنت ـ جو صاحبان ایمان کا خاصہ ہے ـ کے ساتھ اپنے مشن کی انجام دہی اور مقصد کے حصول کے لئے کوشش کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ مختصر سی جماعت ان منصوبوں اور پروگراموں اور طریقہ ہائے کار اور حکمت عملیوں کے ذریعے اس پر آشوب دنیا میں رہنے والے حیرت زدہ انسانوں کی توجہ اپنی جانب مبذوں کرائے گی اور کامیاب و کامران و فاتح و منصور ہوگی اور کوئی بھی قوت اس کے سامنے قدم نہیں جماسکے گی۔
اس حقیقت کا عملی ثبوت رسول اللہ (ص) کا ظہور پر نور اور دین اسلام کی تیز رفتار ترقی ہے؛ اور مسلمانوں کی پےدرپے فتوحات اور عظیم سلطنتوں کی طاقتور ترین افواج کی ہزیمتوں کا ایک سبب، سماجی برائیاں اور ایران و روم کی سلطنتوں کی سرکاری مشینریوں کے اندر بدعنوانیوں کا دور دورہ تھا چنانچہ ان ملکوں کے عوام ایک صحیح دعوت پر لبیک کہنے اور عدل و انصاف پر مبنی حکومت کے قیام کے لئے تیار تھے۔
معاصر دور اس مسئلے کی بہترین مثال حضرت امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) کا قیام تھا؛ امام نے دین دشمنی اور دین سے دوری کے دور میں اسلام کو زندہ کیا اور تمام قوتیں ان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہوئیں۔
منبع: پایگاه اطلاع رسانی دفتر آیةالله العظمی صافی گلپایگانی۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments