×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فلسفۂ انتظار کی تصویر کشی!

مرداد 11, 1393 351

ابتداء میں ـ متواتر روایات میں "مہدی" کہلانے والی ایک مقدس الہی شخصیت کے توسط سے ـ ایمان اسلامی کے عالمی فروغ، انسانی اقدار

کے مکمل اور ہمہ جہت نفاذ، مدینہ فاضلہ اور مطلوبہ معاشرے کی تشکیل اور اس انسانی اور عمومی نظریئے کے نفاذ کے مفہوم کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ ایک تفکر ہے جو تقریبا تمام اسلامی مکاتب اور فرقوں میں بھی ـ کم و بیش ـ پایا جاتا ہے۔
یہ تفکر زیادہ سے زیادہ نظام فطرت کی طبیعی حرکت اور مستقبل کی نسبت اطمینان اور بنی نوع بشر کے انجام کے حوالے سے بدگمانی سے دوری کے عنصر پر استوار ہے؛ اسلامی روایات میں اس عام عالمی نوید کو "انتظارِ فَرَج" کہا گیا ہے اور رسول خدا (ص) نے اس کو اپنی امت کی بہترین عبادت قرار دیا ہے۔
انتظارِ فَرَج اصولی طور پر ایک دوسرے اسلامی اصول سے حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ رَوح اللہ سے مایوسی حرام ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
"اور رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا کہ اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا ہے"۔ (1)
با ایمان لوگ کسی حالت میں بھی "امید" کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور کبھی بھی ناامیدی اور بےمقصدیت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ انتظار فَرَج اور رَوح اللہ سے عدم مایوسی کا تعلق ذاتی یا جماعتی نہیں بلکہ ایک عمومی اور انسانی عنایت کے حوالے سے ہے؛ اور یہ عنایت خاص قسم کی بشارتوں کے ساتھ ساتھ ہے، جنہوں نے اس کو خاص انداز سے منظم کیا ہے۔ (2)
بہرحال یہ انتظار فَرَج اور مستقبل سے دلبستگی کی دو قسمیں ہیں:
وہ انتظار جو تعمیری ہے، وہ محرک ہے، انسان کو متعہد (Committed) بناتا ہے، یہ نہیں بلکہ "با فضیلت ترین عبادت ہے"۔
وہ انتظار جو تباہ کن ہے، وہ روک دیتا ہے، مفلوج کرتا ہے اور ایک قسم کی مادر پدر آزادی سمجھا جاتا ہے۔
حوالہ جات:
1۔ سورہ یوسف (12) آیت 87۔
2۔ قیام و انقلاب مهدی، استاد مطهری، ص14۔13۔
امر مسلّم یہ ہے کہ انتظار فَرَج سے مراد اول الذکر انتظار ہے نہ کہ دوسری قسم کا انتظار جو تباہ کن اور مفلوج کن ہے۔
استاد شہید مطہری انتظار کی ان دو قسموں کے بارے میں فرماتے ہیں:
مہدویت اور قیام و انقلاب مہدی (عج) کے بارے میں عوامی اور تنگ نظرانہ تاثر یہ ہے کہ یہ ایک دھماکہ خیز کیفیت کا حامل ہے اور صرف ظلم و امتیازی رویوں، گھٹن، حق کشی، فساد اور بر راہرویوں سے معرض وجود میں آتا ہے؛ ایک قسم کا منظم ہونا ہے، جس کا سبب افراتفری اور پریشان حالی ہے۔ جب صلاح اور نیکی صفر کے درجے تک پہنچے، حق و حقیقت کا کوئی حامی نہ ہو، باطل ہی میدان میں جولانیوں دے رہا ہو۔۔۔ یہ دھماکہ رونما ہوگا۔ اور غیب کا ہاتھ ـ اہل حقیقت کی نجات کے لئے نہیں بلکہ ـ حقیقت کی نجات کے لئے ظاہر ہوگا، کیونکہ حقیقت کا کوئی حامی نہیں ہے۔ چنانچہ [ظہور مہدی (عج) سے پہلے] ہر قیام اور ہر تحریک مذموم ہے ۔۔۔ اس کے برعکس ہر گناہ، ہر ظلم اور ہر امتیازی رویہ، ہر حق کشی اور ہر پلیدی ـ چونکہ کلی مصلحت کی تمہید ہے ـ لہذا ظہور میں تعجیل کے لئے بہترین مدد ہے اور انتظار کی بہترین شکل فساد اور گناہ کی ترویج ہے ۔۔۔ مہدی موعود (عج) کے ظہور اور قیام کا یہ تصور اور تاثر، کسی صورت میں بھی اسلامی معیاروں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ تفکر ـ جس کی جڑیں قرآن میں پیوست ہیں اور احادیث میں ان ہی آیات سے استناد کیا گیا ہے ـ مذکورہ بالا تصور سے تضاد رکھتا ہے۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق و باطل کے درمیان جنگ کے حلقوں میں سے ایک حلقہ ہے جو حق کی آخری فتح پر منتج ہوگا۔ اس سعادت میں ایک فرد کی حصہ داری اس امر پر موقوف ہے کہ وہ فرد عملی طور پر اہل حق کی جماعت میں ہو۔ (3)
حوالہ جات:
3۔ قیام و انقلاب مهدی، استاد مطهری، ص54۔58۔
جن یات سے اسلامی روایات میں استناد کیا گیا ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی منتظر (عج) ایک نوید کا مظہر ہیں جو صاحبان ایمان اور عمل صالح کو دی گئی ہے، در حقیقت اہل ایمان کی خری فتح کا مظہر ہے۔
"اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین پر اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح کہ اس نے پہلے والوں کو خلیفہ بنایا تھا اور ان کے لئے اس دین کو  جو ان کے پہلے تھے اور ضرور اقتدار عطا کرے گا ان کے اس دین کو جو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ضرور بدل دے گا انہیں ان کے ہر اس کے بعد امن و اطمینان وہ میری عبادت کریں گے اس طرح کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے"۔ (4)
اسلامی روایات میں ایک برگزیدہ جماعت کی بات ہورہی ہے جو امام (عج) کے ظہور کے ساتھ ہی پ (عج) سے جا ملیں گے؛ ظاہر ہے کہ یہ جماعت ناگہانی  اور حادثاتی طور پر معرض وجود نہیں ئے گی ۔۔۔ ظاہر ہوتا ہے کہ ظلم و فساد کے پھیلاؤ کے باوجود اس قسم کے افراد کی پرورش کے لئے اعلی سطحی ماحول موجود ہے۔
پس، مہدی (عج) کا منتظر و ناصر وہ ہے جو اپنی منتظرانہ زندگی میں مادگی کا دور گذار چکا ہو اور راہ خدا میں جان و مال کی قربانی کے مرتبے تک پہنچا ہو، عدل عظیم کے نفاذ اور انسان مظلوم اور محروم انسانیت کی نجات کی راہ میں اپنے قدموں کو ایمان و ایثار کے ذریعے استوار کرے اور پھر اس تحریک کی مدد و نصرت کے لئے بےچینی سے جہاد کا منتظر ہو، جو دنیا میں ظلم کی جڑیں اکھاڑ پھینک کر عدل و قسط کو قائم کرنا چاہتی ہے۔  (5)
 حوالہ جات:
4۔ سورہ نور (24) یت 55۔
5۔ چشم به راهی مهدی، جمعی از نویسندگان مجله حوزه، ص224
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

Login to post comments