Print this page

مدینہ میں حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہ کی ولادت

مرداد 11, 1393 611
Rate this item
(0 votes)

حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلّی اللہ علیہ و آلہ اللہ تعالی کے آخری پیامبر ہیں جنہوں نے دنیا میں لوگوں کو اللہ تعالی کی یگانگیت

اور سماجی مساوات کی طرف اور آخرت میں جاودانی زندگی کی طرف دعوت دی اور گذشتہ آسمانی ادیان کو اپنی نبوت اور رسالت سے مکمل کردیا۔(1)
شیعہ روایات کے مطابق آپ (ص) نے عام الفیل کے پہلے سال، 17 ربیع الاول میں شہر مکہ میں ایک پارسا عورت (آمنہ بنت وہب) کی کوکھ سے جنم لیا اور اپنے عہد کی اندھیری دنیا کو روشن کردیا۔
اہل سنت کی روایات کے مطابق آپ (ص) کی پیدایش ربیع الاول میں ہوئی مگر ان کا پیغمبر (ص) کے ولادت کے دن سے اتفاق نہیں۔ مختلف روایات میں دو، آٹھ، دس، بارہ اور بائیس ربیع الاول کو  آنحضرت کی ولادت کا دن بتایا گیاہے۔ ان کا خیال ہے کہ پیامبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کی ولادت، آپ کا معراج، ہجرت اور انتقال سب ایک ہی دن میں ہوئی ہے۔(2)
انتقال کے وقت آپ کی عمر 63 سال تھی اور آپ کی رسالت کا دورانیہ 23 سال تھا۔ آپ چالیس سال کی عمر میں اللہ کی طرف سے پیغمبری کے لیے منتخب ہوئے۔ آپ نے ابتدا میں مکہ میں تین سال چپکے سے اور پھر دس سال کھلم کھلا لوگوں کو توحید اور اسلام کی طرف دعوت دی۔ اس راستے میں کامیابی حاصل کرنے کےلیے آپ کو مشرکوں سے بہت سی جسمانی اذیتیں اور تکالیف اٹھانا پڑیں اور جب مشرکین ِ مکہ نے آپ کو قتل کرنے کی سازش کی تو آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکمِ الہی سےمدینہ منورہ( یثرب) کی طرف ہجرت فرمائی اور اسی شہر کو اپنی تبلیغات اور رسالت کا مرکز مقرر کیا۔ اسی طرح حکومت اسلامی کی بنیادیں اسی شہر میں استوار ہوگئیں۔ اس کے بعد دس سال کےلیے اس شہر میں قیام کیا اور مشرکینِ مکہ اور دیگر دشمنانِ دین کی مختلف سازشوں کا سامنا کیا اور ان کی ایک بہت بڑی تعداد کو راہ ِ اسلام پرلے آئے اور عربستان کے اہم علاقے جیسے مکہ، طائف، یمن کو اسلامی نظام میں شامل کردیا۔
آپ صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 63 سال کی عمر میں حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کرکے غدیر خم میں حضرت علی علیہ السّلام کو اپنا جانشین منتخب کرنے کے بعد بیماری کی وجہ سے دار فانی کو وداع کرکے دار بقا کو چلے گئے۔
پیغمبر (ص) کے سال وفات سے متعلق بھی شیعہ اور اہل سنت کےدرمیاں اتفاق نہیں۔ شیعہ مورخین نے اہل بیت علیہم السلام کی پیروی میں دوشنبہ 28 صفر سنہ گیارہ ہجری کو پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تاریخ وفات قرار دیاہے لیکن اہل سنت کے علما ء آپ کے تاریخ انتقال کو ماہِ ربیع الاول میں مانتے ہیں مگر اس کے دن میں ان کے درمیان اختلاف ہے چنانچہ بعض ایک ربیع الاول، اور بعض جیسے واقدی(3) بارہ ربیع الاول کو اور باقی ربیع الاول کے کسی اور دن کو آنحضرت کے تاریخ وفات بتاتے ہیں۔(4)
پیامبر صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب مہاجرین اور انصار سقیفہ بنی ساعد میں جمع ہوکر حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین کے بارے میں بحث اور گفتگو کررہے تھے، حضرت علی علیہ السّلام اپنے چند چچا زاد بھائیوں کے ساتھ آنحضرت کو غسل دینے میں مصروف تھے۔
اہل بیت علیہم السّلام اور کئی بزرگ صحابہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی تدفین کی جگہ کے بارے میں گفتگو کی اور ہر ایک نے اپنی رائے سنائی۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: إ نّ اللّه لم یقبض روح نبیّه إ لّا فى اءطهر البقاع و ینبغى اءن یدفن حیث قبض ؛(5) ۔۔۔ اللہ تعالی، پیامبر کی جان نہیں لیتاہے مگر سب سے پاک جگہ پر ،تو یہی اچھا ہے کہ ان کو وہاں دفن کیاجائے جہاں ان کا انتقال ہواہے۔
حضرت علی کی یہ بات سب کو پسند آئی اور آنحضرت کو وہیں دفن کیا گیا۔ طبری نے اس بات کو ابوبکر پر منسوب کیاہے اور ان سے نقل کیا ہے کہ: ما قبض نبىُّ إ لّا یدفن حیث قبض(161)؛ کسی پیامبر کا انتقال نہیں ہوتاہے مگر یہ کہ جہاں اس کی تدفین کی گئی ہو ،ان کی جان اس کے بدن سے نکل گئی ہو ۔
اب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مزار مسجد النبوی کے اندر ہی ہے اور دنیا بھر کے مسلمان وہاں ان کی زیارت کےلیے آتے ہیں۔
1۔ اشاره به آیه 3، سوره مائده (اَلْیَومَ اَكْمَلْتُ دینَكُم وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتى وَ رَضیتُ لَكُمُ الْإ سْلامَ دینا)۔
2۔ كشف الغمه ، ج 1، ص 17 و تاریخ ‌الطبرى ، ج 3، ص 217۔
3۔ المغازى ، ج 2، ص 1120۔
4۔ كشف الغمه ، ج 1، ص 26؛ منتهى الا مال ، ج 1، ص 100 و بحارالانوار، ج 22، ص 528 و ص 514۔
5۔ كشف الغمه ، ج 1، ص 26۔
6۔ تاریخ ‌الطبرى ، ج 3، ص 213۔

Login to post comments