×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

انسان کے لئے کتاب ہدایت

مرداد 13, 1393 603

قرآن کریم ہدایت و رحمت کا سرچشمہ ہے بہترین کلام وکتاب ہے،انسان کے کمال کے آخری مرحلہ تک پہنچنے ،خدا سے نزدیک ہونے ،اس کو

نیکی اور سعادت کی طرف ہدایت کرنے والے مربی ّکی نشان دہی کراتی ہے اس کا اصل ہدف آدمی کو انسان بنانا اور اس کی تربیت کرنا ہے اس کے علاوہ یہ ہرطرح کے فوائد سے سرشار ہے ۔
قرآن مجید کے سلسلے میں امت کے اندر دو تصورات پائے جاتے ہیں۔ پہلا تصور یہ ہے کہ وہ ایک کتاب تلاوت ہے۔ دوسرا تصور یہ ہے کہ وہ ایک کتاب ہدایت ہے۔پہلے تصور سے تلاوت قرآن کا مقصد حصول برکت ہے جب کہ دوسرے تصور کے ساتھ قرآن کا مطالعہ برائے حرکت ہوتا ہے۔ اس مقدّس کتاب کو پڑھنے کا ہی بہت زیادہ ثواب ہے ۔ تلاوت قرآن ہر مسلمان کی زندگی میں بہت زیادہ برکتوں کا باعث ہے ۔ بعض روایات میں نقل ہے کہ قرآن کے سوروں کی تلاوت کرنے کے بہت سے فائدے ہیں :
امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے : " جو شخص ہر روز سورہ (عم یتسائلون )کی تلاوت کرے توسال ختم ہونے سے پہلے ہی خانہ خدا کی زیارت سے مشرف ہو گا ۔
اور یہ بھی فرمایا:
جو شخص ہمیشہ سورہ مریم کی تلاوت کرے گا خداوندعالم اس سورہ کی برکت سے اس کے نفس کو غنی اور مال واولاد کے لحاظ سے بے نیاز بنائے بغیر اسے دنیا سے نہیں اٹھائے گا۔
 ان روایات کا مطلب صرف قرآن کی آیات کا پڑھ لینا نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کے درک وفہم اورمحقق انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی کے قوام واستحکام کا پیش خیمہ بن جائے اگر ہر مسلمان اپنی زندگی میں قرآن سے الہام حاصل کرے تو وہ اس سے دنیا و آخرت کی تمام ترجائز خواہشیں پوری، اور زندگی کے ہرتقاضے کا جواب حاصل، کر لے گا ۔
1۔  قرآن کی تلاوت خدا کا ذکرہے ،خدا کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور روح وقلب کا سکون انسان کی روز مرہ کی زندگی میں اسے خوش بختی کی طرف لے جاتا ہے ۔
2۔  چونکہ قرآن اسلام کا بنیادی قانون ہے ممکن ہے اس کے پڑھنے اور اس کے معانی پر غور کرنے سے زندگی کا صحیح طریقہ معلوم ہو جائے ۔
3۔  قرآن کی تلاوت اسلام کا نعرہ اور اس کی آواز ہے اسی لئے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیھم السلام نے قرآن کو مختلف جگہوں اور خاص ایام میں اچھی اور بلند آواز سے پڑھنے کی تاکید کی ہے، کیونکہ تلاوت قرآن دین اور مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی تقویت اور مضبوطی کا پیش خیمہ ہے۔
4۔قرآن کی تلاوت اور اس کے حفظ کرنے سے حافظہ قوی اور مضبوط ہوگا جس سے انسان کی زندگی میں اس کا اثر بھی ہو گا اوراس کے علمی کاموں میں اس کی ترقی کا باعث ہو گا ۔
قرآن مجید کے مسلمانوں پر چار بنیادی حق ہیں: (1) قرآن کی تلاوت،(2) قرآن کی تفہیم، (3) قرآن پر عمل،(4) قرآن کی تبلیغ۔ یہ چاروں حقوق باہم مربوط و منسلک ہیں اور ان میں سے کسی کو دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ مثلاً قرآن کے تعارف کے لیے اس کی تلاوت ضروری ہے۔ تلاوت کے بغیر قرآن کی تفہیم ممکن نہیں۔ قرآن کی تفہیم کے بغیر قرآن پر عمل کا امکان نہیں۔ اور قرآن پر عمل کے بغیر قرآن کی تبلیغ موثر نہیں ہوسکتی۔ تاہم ان حقوق میں سب سے زیادہ اہم حق قرآن کی تفہیم ہے۔ اس لیے کہ قرآن کی درست تفہیم ہی اہلِ ایمان کو درست عمل تک لے جا سکتی ہی، اور قرآن پر صحیح معنوں میں عمل کرکے ہی انسان تبلیغ کے تقاضے پورے کرسکتا ہے ۔
 انسان کتاب اللہ کی تلاوت محض ثواب جمع کرنے کے لیے نہیں پڑھتا بلکہ نفس اور زمین میں انقلاب برپا کرنے کے لیے پڑھتا ہے۔ کتاب تلاوت کی حیثیت پر یقین رکھنے والوں کے لیے فہم کی راہ کھلتی ہی نہیں۔ ہاں جو اس کتاب کے ہدایت نامہ ہونے پر یقین رکھتے ہوں ان کے لیے اس کا فہم حاصل کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ کی نازل کردہ اس کتاب مقدس کا اعجاز یہ ہے کہ ہر زمانے میں ہر سطح کے افراد کے لیے زندگی کے ہر مسئلے میں مشکلات کے بیچ راہ کھولتی ہے اور مسائل کے ہجوم میں زندگی کی شاہراہ کو منور کر دیتی ہے۔ لہٰذا ہر خاص و عام کے لیے اس میں غور و فکر کرنا اور فی زمانہ اس کے مفاہیم کو سمجھنا از حد ضروری ہے۔ فہم قرآن کے لیے جن علوم کی ضرورت ہے وہ بدقسمتی سے دو خانوں میں تقسیم شدہ ہے۔ زبان و ادب، فصاحت و بلاغت، نحوی ترکیب اور لسانی علوم کی پیچیدہ بحثوں سے واقفیت ایک طرف فہم قرآن کی اساس ہے، تو دوسری طرف کائنات ، حیات، انسان، سماج کے بارے میں انسانی علم نے آج جہاں تک ترقی کی ہے ان سے آگہی کے بغیر قرآن کے بیشتر مضامین اپنی رفعت اور وسعت کے ساتھ ہم پر نہیں کھلتے۔
قرآن مشعل نور اور کتاب ہدایت ہے اس کا نورہرجگہ اپنی شعاعوں کو پھیلا سکتا ہے البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس قرآن کے ذریعے ہوائی جہاز کی ساخت،کسی بیماری کو کشف کرنا یا میزائیل اور راکٹ کے بنانے کے چکرمیں لگ جائیں اس لئئے کہ قرآن کوئی ہوائی جہاز یا میزائیل بنانے کی تعلیم دینے والی کتاب نہیں ہے لیکن اس میں ہر چیز کے متعلق باتیں موجود ہیں اسی لئے سب سے پہلے انسانوں کو اسے پڑھنے کی دعوت وتاکیدکی جا رہی ہے:اقرا باسم ربک الذی خلق .... (سورہ علق،آیت ،1)پڑھو اپنے پروردگار کے نام سے ....
آج انسانوں کی سب بڑی مشکل جدید ٹکنالوجی کا رکھنا یا بنانا نہیں ہے بلکہ انسان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کو یہ نہیں معلوم کہ ان آلات کو استعمال کیسے کیا جائے، قرآن انسان کو ہر چیز کے صحیح استعمال کا طریقہ بتاتا ہے ،قرآن لوہا کشف کرنے اور اس کو لوگوں کے منافع کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے :
(وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْس شَدِیْد وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ) ”‌ ( سورہ حدید،آیت52)
 ہم نے لوہا بنایا ۔ اس میں لوگوں کے لئے فوائد ہیں۔ نہ یہ کہ اس کے ذریعے لوگوں کا قلع قمع کیا جائے :ولا تقتلوا النفس الّتی حرّم اللّٰہ .... (سورہ انعام، آیت 151)اس کو قتل نہ کرو جس کے قتل کوخدا نے حرام قرار دیا ہے۔
اگر ابتداء سے انتہاء تک قرآن کے سوروں پردقیق وعمیق نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے انسانوں کو سعادت اور خوش بختی کے ساتھ دنیاوی زندگی گزارنے کیلئے بہترین راہ کی نشاندہی کی ہے کہ عزت وسربلندی ،بھائی چارگی اورشان و شوکت کے ساتھ زندگی گزارو ظلم وستم اور استبداد کے ساتھ نہیں زندگی کہ یہ شیطانی زندگی ہے۔

Login to post comments