×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عصر ظہور وقت ظہور کا تعین

مرداد 13, 1393 526

بےشک عصر ظہور اسرار میں سے ہے اور اچانک نمودار ہونے والا زمانہ ہے جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ چنانچہ جس نے وقت کا تعین کیا

وہ جھوٹا ہے اور ائمہ (ع) نے ایسے شخص کو جھوٹا قرار دیا ہے جو ظہور کے لئے وقت کا تعین کرے۔
امام صادق (ع) نے فرمایا: وقت ظہور کا تعین کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں، ظہور میں تعجیل کرنے والے جھوٹے ہیں اور ہلاک ہونگے اور جو اس سلسلے میں امر رب کے سامنے سرتسلیم خم کریں گے وہ نجات پاتے ہیں اور ہم اہل بیت (ع) کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (1)  
خود امام زمانہ (ع) فرماتے ہیں: بےشک ظہور فََرَج خدا کے ارادے سے وابستہ ہے اور جو لوگ ظہور کے لئے وقت کا تعین کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ (2)۔
لیکن اگر "یہ عصر، عصر ظہور ہے" سے مراد یہ ہو کہ ظہور کی نشانیاں نمایاں ہورہی ہیں اور ظہور کے سلسلے میں انسان کی امید بڑھتی جارہی ہے تو یہ درست ہے؛ وقت کا تعین درست نہیں ہے لیکن بہرحال ظہور کے لئے زمانہ مناسب ہونا چاہئے اور ظہور خاص شرائط اور دنیا کی آمادگی سے مشروط ہے۔
مواصلات اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنا پر اس عظیم واقعے کے لئے حالات سازگار ہورہے ہیں اور لوگوں کے ذہن امام (ع) کی طرف مائل ہونے میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور آیت اللہ مکارم شیرازی سمیت بعض علماء نے اس زمانے کو ظہور اصغر کا نام دیا ہے۔
آیت اللہ مکارم فرماتے ہیں: ظہور اصغر فجر کے بعد کے اس وقت کو کہتے ہیں جب ہوا نہ روشن ہے اور نہ تاریک اور سورج ابھی طلوع نہیں ہوا ہے۔۔۔ ظہور اصغرمیں لوگوں کی توجہ امام زمانہ (ع) کی جانب ہے اور ہر جگہ امام (ع) کے ظہور کے موضوع پر بات ہورہی ہے اور ہم انشاء اللہ ظہور کے بین الطلوعین میں واقع ہوئے ہیں۔ (3)  
نتیجہ یہ کہ: عالمی حالات کا تجزیہ ہمیں اس خوش بینی تک پہنچا دیتا ہے کہ ظہور قریب ہے اور یہ ایک عقلی مسئلہ ہے جو دنیا کے موجودہ حالات کا جائزہ لینے سے سامنے آتا ہے۔ جس چیز کی مخالفت ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ وقت ظہور کا تعین غلط ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1. الغیبه نعمانی، ص 204، باب 11، حدیث 8، چاپ اول 1422، نشر انوار الهدی، قم.
2. كمال الدین و تمام النعمه، شیخ صدوق، ص 484، «نقل از یكصد پرسش و پاسخ ـ رجالی تهران ـ ص 160».
3. فصلنامة انتظار، شماره 5، ص 24 «با اندك تغییر و تخلیص».

Login to post comments