Print this page

خورشید نہاں اور ہماری ذمہ داری

مرداد 14, 1393 509
Rate this item
(0 votes)

السّلامُ علی شَمْسِ الظَّلام و بَدْرِ التَّمام بات اس خورشید نہاں کی ہے جو امام رضا (ع) کے بقول "جب طلوع کرے گا تو زمین اس کے

نور سے روشن ہوگا"۔ (1)
پھوٹتے چشمے کی جو پیاسوں سے دور ہے؛ یزدان کی سونتی ہوئی شمشیر جو نیام میں سوئی پڑی ہے؛ خدا کے طاقتور ہاتھ کی، جو آستین کے اندر رہ گیا ہے؛ اشکوں کی نقرہ فام علامت کی، جو خشیت رب سے رخسار پر جاری ہوئے ہیں؛ اور ہاں ۔۔۔۔ بات امام زمانہ (عج) کی غیبت کی ہے جو عظیم ترین مظلوم دوران ہیں جن کی یاد عام طور پر ذہنوں سے محو ہوچکی ہے؛ وہی جس کی مہربانیوں کو کوئی دیکھے تو پھر اس کو کبھی نہ بھولے گا اور جو اس سے جاملے گا دوسروں کی محبت میں مبتلا نہ ہوگا۔ وہی جو "مومنین کے انیس و رفیق و شفیق ہیں"۔ (2)
اور ہاں! وہ جو اپنے باپ، بھائی اور دوست کو نہیں بھولتا کیا وہ اپنے زمانے کے امام کو بھول سکتا ہے؟!
کس باپ کا حق امام زمانہ (عج) کے حقوق سے بالاتر ہے؟ کونسا بھائی امام سے زیادہ مہربان ہے؟ کس دوست کی ہمدردی اس کی ہمدردی و محبت سے بڑھ کر ہے؟
وہ خود ہی تو اپنے شیعوں سے فرماتے ہیں:
"ہم کبھی بھی تمہاری رعایت کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے اور تمہیں کبھی نہیں بھولتے"۔ (3)
جب پورے عالم وجود کا ذخیرہ، تمام رسالتوں کا ثمرہ، تمام کمالات کا منبع، تمام نیکیوں اور خوبصورتیوں کا سرچشمہ ہمیں نہیں بھولتا اور ہماری رعایت میں کوتاہی نہیں کرتا تو کیا جائز ہے کہ ہم اس کو بھل جائیں؟
وہ خود فرماتے ہیں:
"اگر ہم تمہارا خیال نہ کرتے تو بلائیں تم پر نازل ہوتیں اور دشمن تمہیں نیست و نابود کرتے"۔ (4)
................
1۔ کمال الدین وتمام النعمه، شیخ صدوق، صص371 و372۔
2۔ برگرفته از سخنان امام رضا علیه السلام در وصف امام۔ (عیون اخبار الرضا علیه السلام)۔
3۔ احتجاج طبرسی، ج2، ص598۔
4۔ احتجاج طبرسی، ج2، ص598 نامه به شیخ مفید رحمه الله۔
ہاں! یہ ہمارے امام مہربان ہی تھے جنہوں نے ہمارے لئے دعا کی اور تاریخ کے فتنوں کے دوران ہمیں لائق توجہ قرار دیا اور شیعہ کی معنوی اور تاریخی حیات کی ضمانت فراہم کی اور کررہے ہیں اور بےشک جفا ہوگی اگر ہم نہ جانیں اور نہ سمجھیں اور نہ پہچانیں!
اب اے منتظر!
اپنے امام کے معنوی رتبے میں غور وفکر کرو کہ وہ کون ہیں اور ان کے کام کی عظمت کی حدود کیا ہیں؟
اگرچہ تمام معصومین (ع) ایک ہی نور، ایک ہی حقیقت اور ان کی ولایت کی نوعیت ایک ہی ہے، تا ہم صاجب الامر (عج) کی بعض انفرادی صفات اور آپ (عج) کے منصوبے اور پروگرام کی امتیازی خصوصیات ہیں جن کی بنا پر حتی انبیاء (ع) کی امیدیں بھی ان پر مرکوز ہیں اور تمام معصومین (ع) نے ان کو عظمت سے یاد کیا ہے گویا کہ تمام انبیاء و اوصیا آپ (عج) کے چشم براہ ہیں۔
سیدالشہداء (ع) کے گلے کا سدا ابلتا خون، وقت فجر، افق کے صفحے پر نام مہدی کی تصویر بناتا ہے۔
رسول اللہ (ص) امام زمانہ (عج) کی علمی مرتبت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"جان لو کہ وہ تمام علوم کے وارث اور تمام علوم پر احاطہ رکھتے ہیں"۔ (5)
امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں:
"مہدی (عج) سب سے زیادہ پناہ دینے والے اور سب سے بڑے عالم ہیں"۔ (6) اور پھر شوق دیدار و شیدائی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
{آه! آه!... شَوقاً إلی رُوْیَتِه}۔ (7)
عالم وجود کی سیدہ حضرت فاطمہ (س) اپنی مختصر سی حیات کے آخری لمحوں میں فرماتی ہیں: {مِنّا مَهْدِیُّ هذه الأُمَّةِ}۔ (8) اس امت کے مہدی ہم سے ہیں۔
علم و تعلیم کے امام حضرت صادق (ع) ان کے دیدار کی آرزو میں ان کے فراق سے آہ و فریاد کرتے ہیں جبکہ سادہ سا لباس پہنے ہوئے مٹی پر بیٹھے ہیں اور جوان مرگ بیٹے کی ماں کی مانند آنسو بہاتے ہیں اور نہ آنے والے محبوب کے ساتھ راز و نیاز کرتے ہیں۔ (9)
................
5۔ بحارالانوار، ج37، فرازی از خطبه غدیر، ص214۔
6۔ بحارالانوار، ج51، ص115، ح24۔
7۔ همان۔
8۔ بحارالانوار، ج36، ص368، ح233۔
9۔ کمال الدین وتمام النعمه، ص353۔
آخرکار امام رئوف علی بن موسی الرضا (ع) اس حجت یزدان کا وصف سن کے آنسو بہاتے ہیں اور ان کا نام مقدس سن کر تمام قد قیام کرتے ہیں؛ اور اپنے ہاتھ سر مبارک پر رکھتے ہیں اور دل سوز آہ کے ساتھ دعا کرتے ہیں:
"خداوندا! اس کی فَرَج پہنچا دے اور اس کے قیام کو آسان کردے"۔ (10)
اور ہاں! ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان کے سپاہی ہیں جبکہ امام صادق (ع) ان کی خدمت کی آرزو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اگر میں ان کا ادراک کروں تو پوری زندگی ان کی خدمت کروں گا"۔ (11)
اب جبکہ رسول اللہ (ص) ان کی تعریف و تمجید کرتے ہیں اور امیرالمومنین اور حضرت زہراء (سلام اللہ علیہما) ان کے نام سے تسلی اور سکون پاتے ہیں اور امام صادق (ع) ان کے فراق میں آنسو بہاتے اور حضرت رضا (ع) ان کا نام سن کر قیام کرتے ہیں تو ہم شیعیان اہل بیت (ع) کو بھی چاہئے کہ:
۔ ان کو یاد کیا کریں؛
۔ ان کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں؛
۔ ان کی خوشنودی حاصل کریں؛
۔ لوگوں کو ان کی طرف بلائیں؛
۔ اپنے اور لوگوں کے دلوں کو ان کی محبت سے مالامال کریں؛
۔ ان کی راہ میں جانفشانی اور جہاد کے لئے تیاری کریں؛
۔ ان کی غیبت کے زمانے میں اپنے فرائض کو پہچانیں اور اس ہدف کے لئے کوشاں رہیں؛
۔ ان کے فراق میں آنسو بہائیں تا کہ انشاء اللہ ان کے دیدار کی توفیق ہمارے نصیب بھی ہو۔
چونکہ حضرت مہدی (عج) کی معرفت اور ان کے وجود مقدس پر یقین و اعتقاد انسانوں کی تربیت و اخلاق کی اہم ترین بنیاد ہے۔ ان کے آثار و اخبار کا مطالعہ جان و فکر کی ہوشیاری اور بیداری میں کردار ادا کرتا ہے، سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے اور انسان کو مشکلات اور دشواریوں کے سامنے امیدوار اور مقتدر بناتا ہے۔
.......................
10۔ منتخب الاثر، ص506۔
11۔ تاریخ الغیبة الکبری، ص359۔

Login to post comments