×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

توبہ کی کوئی شرط نہیں ہے !

مرداد 14, 1393 519

اگر کوئی شخص حقیقت میں اپنے گناہوں پر پشیمان ہو جاؤ اور اس کی پشیمانی گناہوں سے کنارہ کشی کے ساتھ ہو خواہ اس کے گناہ

کتنے ہی زیادہ اور بڑے ہوں ، اسے یقین سے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر وہ سچے دل سے خدا تعالی سے توبہ کرے تو اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور اس سے بڑی یہ بات ہے کہ اس کی برائیوں اور کوتاہیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیا جائے گا ۔ توبہ زندگی کے کسی بھی حصہ میں کی جا سکتی ہے کیونکہ توبہ کا دروازہ کھولنے والے کا ایک یہ بھی لطف رہا ہے کہ اس نے توبہ کا دروازہ کبھی بھی اپنے بندوں پر بند نہیں کیا کیونکہ وہ یہ کبھی نہیں چاہیگا کہ اس کا بندہ دنیا سے معصیت کار اٹھے:’’ولا یفتح لعبد باب التوبہ و تعلق عنہ باب المغفرہ‘‘آیا اس نے توبہ کا دروازہ کھول نہیں رکھا ہے کہ اجابت کا دروازہ بند کر دے گا یعنی اگر توبہ کا دروازہ کھولا ہے تو اجابت کی ضمانت بھی اس قادر مطلق پروردگار نے لی ہے ۔وہ تو منتظر ہے کہ کب میرا بندہ مجھ کو پکارے اور میں اس کی آواز پر لبیک کہوں۔
قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے کہ
إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُوْلَئِكَ یُبَدِّلُ اللَّهُ سَیِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِیمًا
ترجمہ : مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل انجام دیا تو اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے اور اللہ تو بڑا غفور و رحیم ہے ۔
توبہ ایک ایسی حالت کا نام ہے جس میں انسان اپنے برے اعمال پر شرمندہ ہوتا ہے اور اس کا ضمیر اسے اس کے گناہوں پر ملامت کرتا ہے اور اس حالت کے لئے کوئی خاص شرط نہیں ہے ۔ اگر قرآن میں توبہ کے متعلق شرائط کا ذکر ہے تو وہ ایک اخلاقی سلسلے پر مشتمل نکات ہیں جن میں گناہگار انسان اپنی بری عادت کی وجہ سے اپنے گناہ سے توبہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے اور اسے احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ کس راستے پر جا رہا ہے ۔
خدا تعالی کا یہ اپنے بندے پر احسان ہے کہ جب بندہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو خدا تعالی اسے فورا سزا نہیں دیتا ہے بلکہ انسان کو مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے عمل پر پشیمان ہو اور خدا سے اس کی بخشش چاہے ۔
نہج البلاغہ میں ذکر ہے کہ
’’اس کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ عذاب و سزا میں تعجیل سے کام نہیں لیتا۔‘‘ ( نامہ31۔1ظ )
توبہ کے ارکان دل میں ندامت ، زبانی استغفار ، اصلاح کا عزم اور حقیقی معنوں میں اصلاح کی طرف رغبت ہے جس سے انسان کی توبہ قبول ہوتی ہے لیکن توبہ کا بنیادی رکن وہی دلی شرمندگی ہوتی ہے کہ اگر وہ واقعی ہو تو اس کے پیچھے باقی ارکان بھی پورے ہو جاتے ہیں یعنی اگر صرف دل میں گناہ سے ندامت پیدا ہو جائے تو انسان کی توبہ قبول ہو جاتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اپنے گناہ پر شرمندگی اختیار کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں توبہ کی جائے ۔
شریعت کی نظر میں توبہ قبول ہونے کے چار بنیادی نکات ہیں ۔
1۔ گناہ کو برا جانتے ہوے ترک کرنا۔ ’’ترک الزنب لقبحہ‘‘
2۔ گناہ کی انجام دہی پر پشیمان ہونا۔ ’’والندم علی مافرط منہ‘‘
3۔ دوبارہ گناہ کی طرف نہ پلٹنا۔ ’’والفرمۃ علی ترک المعاورۃ‘‘
4۔ ترک شدہ وظیفہ کی قضا کرنا۔ ’’وتدارک ما امکنہ ان تبدارک من الاعمال بالاعادہ‘‘ (مفردات راغب 72)
 بعض حالات میں ایسا انسان خود کو گناہگار تصوّر ہی نہیں کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں گناہ کرنے والے کو ندامت نہیں ہوتی ہے اور وہ مسلسل گناہ کا مرتکب ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ جھوٹی قسم کی ندامت کرکے خود کو تسلی دیتا رہتا ہے ۔
نہ جانے کتنے گناہ ایسے ہیں جو نزول رحمت و نعمت کا سلسلہ روک دیتے ہیں، انسان پر نعمت و رحمت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، انسان خوشگوار خوشبختی کی حالت سے نکل کر مصیبتوں اور بدبختی کی منزل میں آ جاتا ہے، انسان کے گناہ بڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ خدا کی جانب سے نازل ہونے والی ساری نعمتوں کا سلسلہ رک جاتا ہے جہاں دور دور تک امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی، سارے راستوں اور تدبیروں کا سدباب ہو جاتا ہے۔ ایسی ناگوار کیفیت و حالت میں بھی باب توبہ کھلا رہتا ہے اور بندے کو امید کی روشنی دیتا رہتا ہے۔ یہ تو خدا کی ایک خاص عنایت ہے کہ تمام دروازوں کے بند ہونے کے باوجود بھی توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
 حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خدا کے احسانوں میں ایک احسان یہ ہے کہ ارتکاب گناہ کے باوجود بھی اس نے توبہ و استغفار کا دروازہ بند نہیں کیا۔‘‘ (  نہج البلاغہ : نامہ31۔ 1ظ )
اگر کوئی شخص اپنے برے عمل سے شرمندہ نہ ہو یا اس کا گناہ کو ترک کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو یا خدا کے حکم کی فرمانبرداری نہ کرے تو ایسا شخص حقیقت میں اپنے گناہ سے نادم ہی نہیں ہے ۔
ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ توبہ کے ارکان حقیقت میں توبہ کی شرائط ہیں بلکہ توبہ کی کوئی شرط نہیں ہے اور وہ ارکان توبہ کے لئے لازم و ملزوم ہیں ۔
خدا غفور و رحیم ہے اور جب وہ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے تو اس کے سیاہ اعمال نامے کو سفید کر دیتا ہے جس کے پہلے صفحے پر توبہ کا ثواب نمایاں ہوتا ہے ۔ اس لئے انسان کے لئے ضروری ہے کہ گناہ کے سرزد ہونے سے محتاط رہے اور اگر غلطی سے وہ کسی گناہ کا مرتکب ہو بھی جائے تو اسے فورا توبہ کر لینی چاہئے اور گناہ کے تکرار سے بچے ۔ جب انسان بار بار کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس سے انسان کی بدبختی شروع ہو جاتی ہے ۔ اس لئے فوراً ہی اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اپنے پروردگار سے معافی مانگ کر ہدایت کا راستہ اپنائیں ۔ گناہ کے سرزد ہونے کے بعد توبہ کرتے وقت گناہ کا اعتراف کر لینا چاہئے اور صرف اور صرف اپنے رب سے معافی مانگنی چاہئے نہ کہ کسی غیر اللہ کے سامنے کسی کو سر جھکانے کی ضرورت ہے ۔ اگر حقوق العباد میں کسی سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے یعنی کسی دوسرے انسان سے کسی نے زیادتی کی ہے تو انسان کو چاہئے کہ اپنے رب سے مغفرت طلب کرنے کے ساتھ اس انسان سے بھی معافی مانگے جس کے حقوق کو پامال کیا گیا ہو ۔ مثال کے طور پر کسی نے کسی کی غیبت کی تو اس صورت میں خدا کے حکم کی نافرمانی کے ساتھ ساتھ بندے کی دل آزاری ہے لہٰذا خدا سے معافی طلب کرے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے بھی معافی طلب کرے۔
اگر انسان نے کسی دوسرے کے حقوق کو پامال کیا ہو تو ضروری ہے کہ اس شخص تک رسائی حاصل کی جائے اور اس شخص سے اپنے گناہ کے اعتراف کے ساتھ معافی طلب کی جائے ۔ اگر کسی صورت میں اس شخص تک رسائی ممکن نہ ہو یعنی اس شخص کی موت کی صورت میں اس کے لئے دعائے خیر کرے ۔ انشاء اللہ خدا اس کی خطاوں کو معاف کر دیگا لہٰذا اگر انسان سے کبھی بھی کسی طرح کا کوئی بھی گناہ ہو جائے تو بغیر کسی تاخیر و شرم کے بارگاہ خدا میں توبہ کے ساتھ اعتراف کرے۔
 حضرت مولا علی علیہ السلام گناہ پر اعتراف کو بندگان خدا کی ایک صفت سے تعبیر کرتے ہیں:’’اگر ان سے گناہ ہو جاتا ہے تو وہ اس کا (بارگاہ خدا میں) اعتراف کرتے ہیں۔‘ ‘( خطبہ 83۔21)
گناہوں سے توبہ اور مغفرت کے لئے نہج البلاغہ میں کچھ طریقے بیان کئے گئے ہیں کہ جن کو اختیار کرکے انسان اپنے گناہوں سے توبہ کر سکتا ہے ۔
1۔ استغفار کا ورد کرکے گناہوں کی سیاہی کو محو کرے ۔ حضرت علی عثمان بن حنیف کی جانب لکھے نامہ میں فرماتے ہیں:’’خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو راتوں کو بستروں سے فاصلہ اختیار کرتے ہیں اور ان کے لب ذکر پروردگار میں مصروف ہوتے ہیں اور گناہ کثرت و شدتِ استغفار سے معاف ہو جاتے ہیں ۔(نامہ45)یعنی تمام شرائط کے ساتھ استغفراللہ کہنے سے خدا وند عالم بندے کا گناہ معاف کر دیتا ہے۔
2۔ نماز کے ذریعہ مغفرت طلب کرنا۔ یعنی اگر انسان سے کوئی خطا یا گناہ سرزد ہو جاے تو فوراً دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے بعد پروردگار سے توبہ کی درخواست کرے انشاء اللہ خدا اس کی توبہ کو قبول کریگا ۔یہ وہی روش ہے جسکا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے : ’’واستعینوا با الصبر و الصلاۃ‘‘ نماز اور صبر کے ذریعہ خدا سے مدد مانگو۔‘‘ توبہ بھی ایک قسم کی مدد ہے جس کو بندہ بارگاہ خدا وندی سے طلب کرتا ہے۔ اس روش کو حضرت علی علیہ السلام اس طرح بیان فرماتے ہیں:’’مجھے وہ گناہ غمگین نہیں کرتا جس کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت ملے اور اپنے پروردگار سے آفیت طلب کرو‘‘ ۔(حکمت299)
مذکورہ بالا جملہ میں حضرت علی علیہ السلام کا نصب العین لوگوں کیلئے روش توبہ کوبیان کرنا ہے نہ کہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ میں گناہ کے بعد نماز کے ذریعہ اپنے پروردگار سے طلب مغفرت کرتا ہوں کیونکہ آپ کے حضور میں گناہ کیا، تصور گناہ بھی امکان نہیں رکھتا۔ یہ تو آپ کی بزرگی ہے کہ روش کو اپنے آپ پر منطبق کر کے بیان فرماتے ہیں۔
اب یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سوال آپ کے ذہن میں آئے کہ اگر توبہ کی کوئی بھی شرط نہیں ہے تو کیسے قرآن میں توبہ کی شرائط کے متعلق آیات موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر سورہ نساء کی آیت نمبر 17 اور 18 میں خدا تعالی کی طرف سے توبہ کی قبولیّت کے لئے چار شرائط کا ذکر ہوا ہے ۔
إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّهِ لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السُّوَءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِن قَرِیبٍ فَأُوْلَـئِكَ یَتُوبُ اللّهُ عَلَیْهِمْ وَكَانَ اللّهُ عَلِیماً حَكِیماً  ( سورہ نساء آیت نمبر 17 )
ترجمہ : اللہ کے ذمے صرف ان لوگوں کی توبہ (قبول کرنا) ہے جو نادانی میں گناہ کا ارتکاب کربیٹھتے ہیںپھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں، اللہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ بڑا دانا، حکمت والا ہے ۔
 اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد باری تعالی ہے کہ
وَلَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّی تُبْتُ الآنَ وَلاَ الَّذِینَ یَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُوْلَـئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِیمًا  ( سورۂ نساء آیت ۔۸)
ترجمہ : اور ایسے لوگوں کی توبہ (حقیقت میں توبہ ہی) نہیں جو برے کاموں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچتا ہے تو وہ کہ اٹھتا ہے :اب میںنے توبہ کی اور نہ ہی ان لوگوں کی (توبہ قبول ہے ) جو مرتے دم تک کافر رہتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
ان آیات میں ظاہری طور پر توبہ کی قبولیت کے لئے چار شرائط کا ذکر ہوا ہے ۔
1۔ گناہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہو
2۔ توبہ میں دیر نہ کرے
3۔ موت سے پہلے توبہ کرے
4۔ توبہ موت کے بعد نہ ہو
اس سوال کا جواب مختصر طور پر یہ ہے کہ ظاہری طور پر ان دو آیات سے جو بات سامنے آتی ہے ، اس پر مزید بحث کی ضرورت ہے اور ان آیات کی تفسیر اور وضاحت کی ضرورت ہے ۔ ان آیات میں کچھ اساسی نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کی وضاحت کی جانی چاہئے ۔
ان آیات سے ظاہری طور پر ہم جو مطلب اخذ کرتے ہیں وہ ظاہری طور پر دوسری متعدد آیات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے اور وہ گناہوں کا سامنا کرنے کے معاملے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار  علیھم السلام کی سیرت سے بھی مطابقت نہیں رکھتا ہے ۔ ہمارا عظیم دین ، دین اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ توبہ کے معاملے میں کوئی بند گلی موجود نہیں ہے ۔ توبہ کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں ۔
ترجمہ: سید اسداللہ ارسلان

Login to post comments