×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

منتظر نوجوانوں کے فرائض

مرداد 16, 1393 421

بےشک ایمان اور عمل صالح حقیقی منتظرین کا معیار ہے اور غیبت کے دور میں منتظرین ـ خواہ وہ عمر کے جس مرحلے میں بھی ہوں ـ

کا فریضہ وہی ہے جو قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے:
{یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}۔ (1)
اے ایمان والو! دین کے معاملے میں صبر و ضبط سے کام لو، ایک دوسرے کو صبر و استقامت کی تلقین کرو اور دشمن پر نظر رکھو اور خدا سے ڈرو تا کہ رستگار ہوجاؤ"۔
1۔ یمان تمّار کہتے ہیں: ہم امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ (ع) نے فرمایا: "صاحب الامر (عج) کے لئے ایک غیبت مقدر ہے جس کے دوران اگر کوئی دیندار رہنا چاہے تو وہ سختی اور مشقت سے دوچار ہوگا اور پھر فرمایا: صاحب الامر کے لئے ایک غیبت ہے اور بندہ خدا کو اپنے دین کے تحفظ کے لئے تقوائے الہی کا سہارا لینا چاہئے اور دونوں ہاتھوں سے دین کا دامن تھام لینا چاہئے"۔ (2)
2۔ یونس بن یعقوب روایت کرتے ہیں کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: "تمہارا کیفیت کیا ہوگی اس زمانے میں جب تم اپنے امام کو نہ پہچانو گے؟ عرض کیا گیا: اگر ایسا ہوا تو ہم کیا کریں: فرمایا: "سابقہ امام (ع) کے احکامات کی پیروی کرو حتی کہ خداوند متعال اس امام غائب کو ظاہر کردے"۔ (3)
3۔ عبداللہ بن سنان روایت کرتے ہیں کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: "شکوک و شبہات تمہارے دامن گیر ہونگے اور تم حیرت سے دوچار ہوجاؤگے، ہدایت کی نشانیاں ناپید ہونگی اور امام ہدایت بھی نہ ہوگا؛ اس حال میں کوئی بھی نجات نہ پاسکے گا سوائے ان کے جو دعائے غریق کے ذریعے خدا کی بارگاہ میں عرض گذار ہوتے ہیں؛ میں نے عرض کیا کہ دعائے غریق کیا ہے؟ فرمایا:
{یا الله یا رحمن یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینك}۔ (4)
............................
1۔ سورہ آل عمران (4) آیت 200۔
2۔ بحارالنوار ج 52 ص 135۔
3۔ وہی ماخذ ص 149۔
4۔ وہی ماخذ۔۔
5۔ "عبد العظیم الحسنی" (ع) کہتے ہیں کہ امام محمد تقی الجواد (ع) فرماتے ہیں: ہمارے قائم مہدی (عج) ہی ہیں جس کا غیبت کے دور میں انتظار کرنا چاہئے اور ظہور کے وقت اطاعت؛ اور پھر فرمایا: ہمارے شیعوں کا بہترین عمل انتظارِ  فَرَج ہے"۔  (5)
6۔ ابو خالد كابلی روایت کرتے ہیں کہ امام زین العابدین (ع) نے فرمایا: بہترین لوگ زمانۂ غیبت کے لوگ ہیں جو امام غا‏ئب (عج) کی امامت کے قائل ہیں اور ان کے ظہور کے منتظر ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں ایسی عقل و فہم و معرفت عطا کی ہے کہ غیبت کہ غیبت ان کے لئے مشاہدے کی مانند ہے اور خداوند متعال انہیں ان لوگوں کی مانند قرار دیا ہے جنہوں نے رسول اللہ (ص) کے رکاب میں تلوار کے جوہر دکھائے ہیں۔ وہ یقیناً خالص دیندار اور ـ خفیہ و اعلانیہ طور پر ـ ہمارے سچے پیروکار ہیں اور فرمایا: انتظارِ  فَرَج، عظیم ترین فَرَج و فراخی ہے"۔ (6)
8۔ زرارہ کہتے ہیں کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: "اگر میں زمانہ غیبت کو پالوں تو کیا کروں؟ فرمایا: ہمیشہ یہ دعا کیا کرو:
{اَللّهُمَّ عَرِّفْنی نَفْسَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى نَفْسَكَ، لَمْ اَعْرِفْ رَسُولَكَ، اَللّهُمَّ عَرِّفْنى رَسُولَكَ،فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى رَسُولَكَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَكَ، اَللّهُمَّ عَرِّفْنى حُجَّتَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى حُجَّتَكَ، ضَلَلْتُ عَنْ دینى}۔
خداوندا! تم مجھے اپنی ذات با برکات سے آشنا کردے، کہ اگر تو مجھے اپنی ذات سے روشناس نہ کرائے تو میں تیرے رسول (ص) کو نہ پہچان سکوں گا؛ خدا تو مجھے اپنے رسول (ص) سے آشنا کردے کیونکہ اگر تم مجھے اپنے رسول سے روشناس نہ کرائے تو میں تیری حجت کو نہ پہنچان سکوں گا؛ خداوندا! مجھے اپنی حجت سے آشنا کردے کہ اگر تم مجھے اپنی حجت سے روشناس نہ کرائے تو میں اپنے دین سے بھٹک جاؤں گا۔ (7)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ بحارالنوار ج 52 ص 156۔
6۔ وہی ماخذ ص 122۔
7۔ وہی ماخذ ص 146 و 147۔

Login to post comments