×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

منتظرین کو کیا کرنا چاہئے

مرداد 16, 1393 606

حضرت مہدی (عج) سے عقیدت کا اظہار، بھی منتظرین کا فریضہ ہے اور یہ اظہار امام (عج) کی طرف سے صدقہ دینے، واجب اور مستحب اعمال

کا ثواب امام (عج) کو تحفتاً پیش کرنے وغیرہ جیسے اعمال کے ذریعے ممکن ہے۔
عقیدت کا اظہار درحقیقت معرفت و محبت میں اضافہ کرنے کا وسیلہ ہے اور معرفت و محبت بھی ایک گذرگاہ ہے امام (عج) کا تقرب حاصل کرنے کے لئے؛ اور ہم اس بحث کو اظہار عقیدت کے دو مصداقوں سے مختص کردیتے ہیں:
اول۔ امام عصر (عج) کی سلامتی کی خاطر صدقہ دینا ان اہم ترین فرائض میں سے ہے جو عصر غیبت میں منتظرین پر عائد ہیں۔ بےشک امام عصر (عج) بے نیاز ہیں ہمارے صدقے کے محتاج نہیں ہیں لیکن یہ اظہار عقیدت اور ان کی پیروی کا اعلان ہے اور اظہار عقیدت اور پیروی کے اپنے لوازمات ہیں جن میں سے ایک امام (عج) کی سلامتی سے دلچسپی، ہے اور جس طرح کہ ہماری اپنی زندگی میں سلامتی صدقے سے حاصل ہوتی ہے، امام زمانہ (عج) کی سلامتی میں بھی صدقہ مؤثر ہے۔
رسول اللہ (ص) فرماتے ہیں:
"کوئی بھی بندہ ایمان نہیں لاتا مگر یہ کہ وہ مجھ سے زیادہ محبت کرے اور میرا خاندان اس کے نزدیک اس کے خاندان سے محبوبتر ہو اور میری عترت اس کے نزدیک اس کی اپنی عترت سے محبوبتر ہو اور میری ذات اس کو، اپنی ذات سے محبوبتر ہو"۔ (1)
چنانچہ ہم اگر اپنی اور اپنے گھرانے کی سلامتی کے لئے صدقہ دیتے ہیں یہ صدقہ اس خاندان کے لئے زیادہ شائستہ ہوگا جو ہم اور ہمارے خاندان سے عزیزتر ہے اور اس زمانے میں حضرت مہدی (عج) سے عزیز تر اور محبوبتر کون ہوسکتا ہے؟ چنانچہ سید بن طاؤس اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہیں:
"۔۔۔ پس آنحضرت (عج) کی پیروی کرو اور پیروی میں اس طرح سے رہو جس طرح کہ خداوند متعال اور رسول خدا (ص) اور امام عصر (عج) کے آباء و اجداد تم سے تقاضا کرتے ہیں اور اس بزرگوار کے حوائج کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھو، جب نماز واجب بجا لاتے ہو، اپنے اور اپنے عزیزوں کے لئے صدقہ دینے سے قبل، امام عصر (عج) کی طرف سے صدقہ دو"۔ (2)
روایات کے مطابق ہمارے اعمال امام (عج) کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں اور جب وہ ہماری وفاداری کا اظہار دیکھیں گے ہم سے خوشنود ہونگے اور کونسی توفیق اس سے برتر و بالاتر ہوسکتی ہے کہ امام عصر (عج) کے چہرے پر ایک مسکراہٹ، منتظرین کے حصے میں آئے؟
دوئم۔ اپنے مستحب اعمال کا ثواب امام (عج) کو اہداء کرنا، اظہار عقیدت کا دوسرا مصداق ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں ہدیہ دوستی کے اعلان اور نفرتوں کے خاتمے کا وسیلہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ مكیال المكارم، ترجمه، ج‏2، ص‏297۔
2۔ مكیال المكارم ص ‏288/ النجم الثاقب، ترجمه، ص‏773۔
رسول اللہ (ص):
"ایک دوسرے کو تحفے دو تاکہ تمہاری محبت کے رشتے مضبوط اور استوار ہوں کیونکہ ہدیہ محبت میں اضافہ کرتا ہے اور کینہ و کدورت کا خاتمہ کرتا ہے"۔ (3)
"کسی کو بھی اپنے (دینی) بھائی کا تحفہ رد نہیں کرنا چاہئے، اور اگر ہوسکے کہ تو تحفے کا معاوضہ دے"۔ (4)
امام عصر (عج) کو پسندیدہ اعمال کا تحفہ دیں جس سے محبت اور وفاداری کا اظہار ہوتا ہے۔ گوکہ امام (عج) کو ہمارے اعمال کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں مودت اور محبت کے اظہار کے لئے اس کی ضرورت ہے۔
صدرالاسلام ہمدانی اپنی کتاب "تكالیف الانام فى غیبة الامام" میں لکھتے ہیں: "غیبت کے زمانے میں بندگان خدا کے فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا ثواب تحفے کے طور امام عصر (عج) اور ان کے آباء و اجداد کی خدمت میں پیش کرے کیونکہ اس طرح انسان کے تمام اعمال قبول ہونگے اور طاعت و عبادت کی مزید توفیق ملے گی"۔
سید بن طاؤس کی ایک روایت نقل کرتے ہیں:
"جو اپنی نماز ـ خواہ واجب خواہ مستحب ـ کا ثواب رسول اللہ (ص)، امیرالمومنین (ع) اور اوصیائے گرامی (ع) کے لئے قرار دے خداوند متعال اس کی نماز پر کئی گنا زیادہ ثواب قرار دیتا ہے۔۔۔ اور روح کی بدن سے مفارقت سے قبل ہی اس سے کہا جائے گا: اے فلاں! تیرا دل خوش اور تیری آنکھیں روشن ہوں اس عظیم پاداش کی خاطر جو خدا نے تیرے لئے مہیا فرمائی ہے"۔ (5)
امام عصر (عج) کو اعمال کا ثواب تحفتاً پیش کرنا نماز تک محدود نہیں بلکہ تمام اعمال کا ثواب اس قاعدے میں شامل ہوسکتا ہے جیسا کہ "سید محمد تقى موسوى اصفهانى" نے تلاوت قرآن کو بھی اس نکتے کے ذیل میں شمار کیا ہے۔ (6)
نیز مرحوم طبرسى "النجم الثاقب" میں لکھتے ہیں کہ حج بھی امام عصر (عج) کی نیابت میں بجا لاسکتا ہے اور یہ عمل قدیم الایام سے شیعیان آل رسول (ص) میں مرسوم رہا ہے۔ (7)
اعمال کا ثواب تحفتاً امام (عج) کی خدمت میں پیش کرنا، کوئی پیچیدہ عمل نہیں ہے بلکہ اس کے لئے صرف نیت ہی کافی ہےجیسا کہ راوی نے امام (ع) سے پوچھا: انسان اپنی نماز کا ثواب کیونکر امام (عج) کی خدمت میں پیش کرسکتا ہے؟ امام (ع) نے فرمایا:
"نیت کرتا ہے کہ اس کی نماز کا ثواب رسول اللہ (ص) یا کسی بھی امام کے لئے، ہو اور سلام کے بعد کہتا ہے:
{اللهم انت السلام و منك السلام یا ذاالجلال و الاكرام، صلى الله على محمد و آل محمد}۔ یہ چند رکعت نماز تیرے بندے "محمد بن عبداللہ (ص) کے لئے ہدیہ تھی۔ (8) (ختم شد)
....................
3۔ نهج ‏الفصاحه،حدیث 1189۔
4۔ نهج ‏الفصاحه، حدیث 2536۔
5۔ صدرالاسلام همدانى، پیوند معنوى با ساحت قدس مهدوى، ص ‏225۔
6۔ سید محمد تقى اصفهانى، در دوران غیبت امام مهدى علیه‏السلام، چه كنیم؟ ص‏11۔
7۔ النجم‏الثاقب، ترجمه، ص‏774۔
8۔ مهر محبوب، سید حسین حسینى، ص‏86۔

Login to post comments