×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت مسلم اور فقاہت

مرداد 17, 1393 576

جب کبھی کسی شخصیت کے تعارف کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ تعلق کس خاندان سے ہے آپ کے والد کا کیا

نام ہے والدہ کون ہیں اور آپ کی نشو ونما کس ماحول میں ہوئی آپ کی تربیت کس نے کی اور کس سے تعلیم حاصل کی تو جب حضرت مسلم کے تعارف کی بات آتی تھی تو باپ کی طرف سے آپ کی نسبت جناب ہاشم تک پہونچتی ہے، عرب میں سب سے اونچا خاندان قریش کا اور قریش میں ہاشمی خاندان تمام خاندانی کرامتوں کا حامل ہے ۔آپ کے والد حضرت عقیل ابن ابی طالب ابن عبد المطلب ہیں،اورآپ رسول اکرم (ص) کے داماد کے بھتیجے ہیں، آپ کی والدہ محترمہ حرّیہ ہیں اور نسب عالیہ کی حامل تھیں وہی عقیل جنھوںنے جنگ صفین میں پورے خاندان کے ساتھ آکر نصرت کی خواہش ظاہر کی تھی، اور حضرت امیر المومنین نے وہیں پر رہنے کے لئے اصرار کیا تھا، شاید وجہ یہی رہی ہو کہ آپ کا ایک بیٹا اور میرا پروردہ مسلم میری خدمت میں ہے، اور شایان شان جاں نثاری کررہا ہے، لہٰذا آل ابو طالب کا محفوظ رہنا بھی اہمیت رکھتا تھا، اور آپ کی بیوی رقیہ بنت امیر المومنین علی علیہ السلام تھیں۔
اس مختصر سے تعارف کے بعد آپ کی فقاہت اور عالِمیت کی بحث آسان ہوجاتی ہے۔
سیدھے لوح محفوظ سے حکم حاصل کرنے والا معلم جبرئیل امین آپ کو علم وفقاہت کے جوہر سکھا رہا تھا تو فقاہتی اورعلمی لحاظ سے کسی کمی کا کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا، اخلاقی اعتبار سے حضرت امیر نے آپ کی تربیت کی تھی اور حضرت کی تعلیم کو حضرات حسنین کے حضور سند کمال حاصل کرلیتے اس طرح سے کہ تعلیم وتربیت مولافرماتے اور حسنین علیہما السلام نظارت فرماتے، لہٰذا خطا کا امکان بھی ختم ہوجاتا ہے، نیز حضرت مسلم پر حضرت امیر کے وثوق واطمینان کا عالم یہ تھا کہ جنگ صفین میں حضرت امیر نے آپ کو سپہ سالار بنایا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے حضرت امیر کے سامنے حضرت مسلم کی جنگی مہارت کے ساتھ علمی شخصیت بھی مسلم تھی، اور معصومین کے بعد آپ کی عملی اعتبار سے اپنی مثال آپ تھے، نیز آپ کی نشوونما کے لئے وحی کا ماحول مل گیا تھا متعدد معصومین کے درمیان آپ کی تربیت ہوئی او رماحول بھی پاک وشفاف چشمہ کی طرح مل گیا اور آپ اس کو دل ودماغ میں اتارتے چلے گئے، اور شخصیت سازی کے انمول مونگوں او رموتیوں سے جاملے جو علم ومعرفت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح اپنی گیرائی اور اپنے مستحکم کو عزم وارادہ کا اعلان کررہے تھے، اس کے علاوہ کتاب سفیر الحسین واصحاب الخمس ، محمد علی دخیل واضح انداز میں حضرت مسلم کی فقاہت کے بارے میں درج کیا ہے۔
فقہ کے معنی: الفقہ ھو الفھم، لغوی اعتبار سے فقہ کے معنی ”‌فھم“ کے ہیں۔
اصطلاح میں فقہ کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: الفقہ ھو العلم بالاحکام الشریعة الفرعیة عن ادلتھا التفصیلیہ۔(معالم الدین مرحوم حسن بن جمال الدین)
الفقیہ: من یتصدیٰ لعمل الفقہ عن اجتھادٍ۔فقیہ اس شخص کو کہتے ہیں جو بذریعہ اجتہادد احکام شرعیہ فرعیہ کوحاصل کرنے پر قدر رکھتا ہو۔
اس روشنی میں آپ ایک مسلم فقیہ تھے اس لئے کہ قرآن وسنت سے آپ بہت زیادہ نزدیک تھے مزید تشریح وتفصیل کے لئے معصوم استاد موجود تھے حضرت امیر کی زبانی آپ کے لئے احادیث وقرآن کا حصول علم ہاتھ کی پانچ انگلیوں کی طرح تھا، قرآن کی سنت کی روشنی میں بنحو احسن مسائل کا جواب دریافت کرکے لوگوں میں علوم اہلبیت (ع) کو نشر فرماتے تھے۔
حضرت مسلم کی جلالت خود رسول اکرم (ص) کی زبانی اور اظہار محبت نیز آپ پر رسول اعظم کا گریہ
حضرت مسلم کی ولادت سے دس سال قبل رسول اکرم (ص) نے حضرت مسلم کی مظلومی کو یاد کرکے اس طرح گریہ کیا کہ رسول اکرم کے آنسو سینہ پر بہہ رہے تھے او رآپ کے مقام ومنزلت کی بہت تعریف وتمجید کی نیز اپنی چاہت اور محبت کا اظہار کیا۔
ایک روز مولائے کائنات نے حضرت رسول اللہ سے دریافت کیا کہ آپ کے نزدیک میرے بھائی عقیل کتنے عزیز ہیں، پیغمبر اکرم نے جواب میں فرمایا:
ای واللہ انی لاُحِبّہ حبین حبا لہ ابی طالب لہ وان ولدہ لمقتول فی محبة ولدک فتدمہ علھی عین المومنین وتصلی علیہ ملائکة المقربون “ثم جرت دموعہ علی صدرہ ثم قال الیٰ اللہ اشکو ماتلقی عترتی من بعدی) (حضرت مسلم ابن عقیل پیشتاز شھیدان کربلا، محمد محمدی اشتھاردی)
جناب مسلم کی ولادت سے پہلے نبی کریم کا اتنی تمجید وتکریم اور اظہار محبت کرنا اور ان پر زاروقطار رونا جبکہ شہادت مسلم پچاس سال سے زیادہ زمانہ یخ خود اس بات کو بتاتا ہے کہ جناب مسلم علم وفقاہت کے اعتبار سے بھی اتنےہی غیر معمولی شخصیت تھے جس قدر شجاعت او رمہارت جنگی میں آپ اپنی مثال آپ تھے، اس کے بعد یہ فرمانا کہ میری امت میرے بعد میرے اہلبیت (ع) کے ساتھ ناروا اور غیر انسانی سلوک کرے گی، اور میں اللہ سے شکایت کرونگا، اور اس کے بعد یہ کہنا: وتصلی علیہ ملائکة المقربون مقرب ملائکہ مسلم پر ہمیشہ صلوات اور تمجید وتکریم کرتے رہیں گے۔

Login to post comments