×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

علامہ امینی کی حیات و خدمات کا ایک اجمالی جائزہ

مهر 21, 1393 634

خاندانی پس منظر  :  آپ کا نام شیخ عبد الحسین امینی نجفی تھا ، چوتھی پشت تک آپ کا شجرہ یوں ہے :عبد الحسین بن شیخ احمدبن شیخ

نجف علی بن شیخ عبد اللہ ( سرست ) بن الحاج محمد بن اللہ یار ۔آپ کے دادا شیخ نجف علی پر آپ کے خاندان کا نام پڑا کیونکہ ان کا لقب ’’ امین الشرع ‘‘ تھا ، وہ اپنے وقت کے عظیم علماء میں شمار کئے جاتے تھے ۔ امین الشرع شیخ نجف علی ۱۲۵۷ھ؁ میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی زندگی تبریز کے ایک دیہات ’’ سردھا‘‘ میں گذری ، پھر وہ تبریز آگئے ۔ وہاں زندگی کی آخری سانسوں تک قیام پذیر رہے ، وہیں دینی علوم کا اکتساب کیا ۔ وہیں شعری و ادبی صلاحیتیں پروان چڑھیں ، ان کے زیادہ تر شعری آثار مدح ائمہ معصومین میں ہیں ۔ مکارم اخلاق ، تقوی اور صلاح و سواد سے آراستہ تھے ۔ واثقؔ تخلص تھا ۔انہوں نے ۸۳؍سال عمر پائی اور شب جمعہ ۷؍ جمادی الاولی ۱۳۴۰ھ؁ وقت نماز صبح سے ایک ساعت قبل وفات پائی اور تبریز ہی میں دفن کئے گئے ۔علامہ امینی ؒ اپنے جد امجد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بارہ سال بعد جب ان کی لاش نجف اشرف منتقل کرنے کے لئے کھودی گئی تو جسد اطہر بالکل صحیح و سالم تھا ، یہاں تک کہ آپ کے بالوں پر بھی کوئی اثر نہ ہوا تھا ۔انہیں وادی السلام نجف اشرف میں دفن کیاگیا ۔۔۔۔۔  علامہ امینیؒ کی ولادت اور ابتدائی تعلیم و تربیت  : نازش آفریں جدو پدر کے چشم و چراغ علامہ عبد الحسین امینی نجفی ۱۳۲۰ھ؁ میں شہر تبریز میں پیدہوئے۔ ابتدائی تعلیم اولاً اپنے والد ماجد میرزا احمد بن علی سے حاصل کی ، انہوںنے اس لعل گراں بہا کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تدریس میں ہر ممکن سعی کی پھر اس شہر کے مدرسہ’’ طالبسیہ ‘‘ میں رسمی تعلیم کے لئے داخل کردیا ۔آپ نے دورۂ سطحی تک دینی علوم اسی مدرسہ میں حاصل کئے ، وہاں جن علماء کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا یا جن دوسرے علمی مراکز میں آیات عظام کے حضور علم حاصل کیا، ان کے اسماء یہ ہیں : ۔۔۔۔۔۔  ۱۔ آیۃ اللہ سید محمد بن عبد الکریم موسوی ( وفات ۱۳۶۳ھ؁ )؛ یہ تبریز میں مرجع تقلید تھے ۔۔۔۔۔۔۔۲۔ آیۃ اللہ سید مرتضی بن احمد بن محمد حسینی خسروشاہی( وفات ۱۳۷۶ھ؁ ) ؛ یہ علم کے علمبردار ، فقہ کے ماہر اور تبریز کے بزرگ علماء میں سے تھے ۔۔۔۔۔۳۔ آیۃ اللہ شیخ حسین بن عبد علی توتونچی ( وفات ۱۳۶۰ھ؁)؛ یہ فقہ و اصول اور کلام کے برجستہ عالم تھے ، علمی اور فقہی میدان میں عظیم مرتبہ حاصل تھا ۔۔۔۔۔۔۴۔ علامہ شیخ میرزا علی اصغر ملکی ؛ یہ عظیم فقیہ اور بلند مرتبہ ادیب تھے ۔   نجف اشرف کی طرف روانگی  : صاپنا دورۂ سطح علوم دینی پورا کر کے علامہ نے نجف اشرف کا رخ کیا ، آپ کا یہ عنفوان شباب تھا تاکہ   اعلی تعلیم ( درس خارج ) فقہ و اصول ،حدیث اور علوم حدیث کے اساتذہ کے سامنے جاری رکھیں اور باب مدینۃ العلم سے معنوی و روحانی علوم بھی حاصل کر سکیں ؛ اسی لئے انہوںنے علمائے فقہ و اصول کے درس میں شرکت کی اور ان کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا ؛ ان علماء میں بعض یہ ہیں :۱۔ آیۃ اللہ سید محمد بن محمد باقر حسینی فیروز آبادی ( وفات ۱۳۵۴؁ ) ۔۔۔۔۲۔ آیۃ اللہ سید ابو تراب بن ابو القاسم خوانساری (متوفی ۱۳۴۶؁ ) ۔۔۔۔۳۔ آیۃ اللہ میرزا علی بن عبد الحسین ایروانی (متوفی ۱۳۵۴؁) ۔۔۔۔۴۔ آیۃ اللہ میرزا ابو الحسن بن عبد الحسین مشکینی (متوفی ۱۳۵۷؁)۔۔۔۔علامہ امینی نجف میں دروس میں شرکت کرنے ، طلاب علوم دینی سے مباحثہ کرنے اور علوم و معارفِ شریعت سے مکمل طور پر مستفیض ہونے کے بعد ایک طویل مدت کے بعد اپنے وطن تبریز واپس آئے اور وہاں ایک مدت تک وعظ و نصیحت ، تدریس اور علمی مباحثے میں مشغول رہے ،اسی زمانے میں آپ نے سورۂ حمد کی تفسیر مکمل کی اور اس تفسیر کی تدریس کی ۔تبریز میں علامہ کا قیام بہت طولانی نہ تھا ، وہ ہمیشہ زیادہ علوم ومعارف حاصل کرنے کے مشتاق رہتے تھے ، ان کی روح ہمیشہ نجف اشرف ہی میں لگی رہی ، وہ مقدس شہر جو علم و دانش کا سرچشمہ تھا ، چنانچہ ان کا یہی اشتیاق اور والہانہ پن تھا جس نے دوبارہ نجف اشرف میں قیام پر مجبور کیا تاکہ نجف اشرف میںاپنی علمی تشنگی کو دور کرسکیں۔اجازۂ اجتہاد و روایت:  نجف اشرف میں واپس آنے کے بعد آپ نے دوبارہ حوزۂ علمیہ نجف کے دروس خارج میں شرکت کی اور بزرگ علماء سے علم حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے تاکہ درجہ ٔ اجتہاد پر پہونچ سکیں ، چنانچہ بہت سے علماء نے ان کو اجتہاد کے اجازے مرحمت فرمائے ، جن میں بعض یہ ہیں : ۱۔ آیۃ اللہ سید میرزا علی بن مجدد شیرازی ( متوفی ۱۳۵۵ ؁ ) ؛ ۔۔۔۲۔ آیۃ اللہ شیخ میرزا حسین نائینی نجفی ( متوفی ۱۳۵۵؁ ) ؛۔۔۔۳۔ آیۃ اللہ شیخ عبد الکریم بن ملا محمد جعفر یزدی حائری (متوفی ۱۳۵۵؁ ) ؛۔۔۔۴۔ آیۃ اللہ سید ابو الحسن بن سید محمد موسوی اصفہانی (متوفی ۱۳۶۵؁ ) ؛۔۔۔۵۔ آیۃ اللہ شیخ محمد حسین بن محمد حسن اصفہانی نجفی معروف بہ کمپانی ( متوفی ۱۳۶۱؁ ) ؛۔۔۔۔۶۔ آیۃ اللہ شیخ محمد حسین بن علی آل کاشف الغطاء (متوفی ۱۳۷۳؁ ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحصیل علم کے سلسلے میں بے پناہ اشتیاق اور والہانہ پن:   علامہ تحصیل علم اور علمی مباحث کے بے پناہ مشتاق رہتے تھے ، اس راہ میں وہ حتی المقدور کوشش سے فروگذاشت نہیں کرتے تھے ، دقیق مطالب کو واضح کرنے کے بہت زیادہ حریص تھے ۔ بے پناہ صبر و حوصلہ کے ساتھ ساتھ تھکن سے عاری ان کی یہ کوشش ،ذخیرہ ٔ علم اور علمی مباحث کے متعلق بحث و مناظرہ کے لئے تھی ۔
اس دعوی کی واضح دلیل یہ ہے : انہوںنے کتاب الغدیر کی تدوین و ترتیب کے وقت نجف اشرف کے اکثر کتب خانوں کی کتابوں اور علماء کی تحریروں کا مطالعہ کیا ۔اس کے لئے آپ نے کربلا ، بغداد ، کاظمین ، سامرا ، ایران ، ہندوستان ، شام اور ترکی کا سفر کیا تاکہ علمی جستجو اور ضروری معلومات فراہم کرسکیں ،نیز اہم ترین علمی مآخذ تک رسائی حاصل کریں تاکہ الغدیر کی تدوین وتالیف میں ان سے استفادہ کرسکیںاور موضوع بحث معلومات کا نوٹ بنا سکیں ۔دنیا کی کتابوں اور کتب خانوں کے سلسلے میں ان کے بے پناہ اشتیاق اور والہانہ پن کے متعلق ، انہیں سے منقول ہے کہ وہ علمی اہداف تک رسائی حاصل کرنے کی راہ میں کسی طرح کی مشکلات اور مصائب پر توجہ نہیں دیتے تھے ؛ اسی لئے ان کی زندگی میں مطالعہ کتب اور ان کے مطالب سے نتیجہ گیری کرنے سے زیادہ کوئی اور چیز  لذت بخش نہیں تھی ، وہ زندگی کے اہم ترین لذائذ سے بھی منھ موڑ چکے تھے، اپنی عمومی صحت اور اہل و عیال کی حالت کے لئے بھی خصوصی اہتمام نہیں فرماتے تھے ۔انہیں سے منقول ہے :مسلسل کئی گھنٹے گذر جاتے تھے اور وہ اپنے کھانے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور اپنے روزانہ کا کھا نا بھی تناول نہیں کرتے تھے ،ہاں ! جب دسترخوان پر بیٹھے ہوئے ان کے اہل و عیال کئی مرتبہ آواز دیتے تھے تب آکر کھانا تناول فرماتے ۔وہ کتابوں اور کاپیوں میں اتنے مستغرق رہتے کہ ان کے لئے یہ بات اہم نہیں ہوتی کہ کھانا ٹھنڈا ہوگیاہے یا جو کھانا کھا رہے ہیں وہ کل کا ہے ، بلکہ ان کے لئے یہ بھی اہم نہیں ہوتاتھا کہ کیاکھارہے ہیں اور کیا پی رہے ہیں یہاں تک کہ کھانا کھاتے ہوئے بھی روایات اور واقعات کے سلسلے میں غور و فکر کے سمندر میں غوطہ زن رہتے تھے ۔وہ خطی نسخوں سے منقول مطالب پر اعتماد نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اوپر ضروری سمجھتے تھے کہ ان علمی مآخذکوخود ہی دیکھیں تاکہ اس کے ذریعہ عذرتراشیاں ختم ، شک و تردید باطل اور اہل تشکیک کے تمام دعوئوں کا قلع قمع کیاجاسکے ۔عظیم مجاہدین بھی اپنے کاندھے پر ایسا سنگین عملی بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں ؛ اس لئے کہ واضح بات ہے کہ علمی مآخذ و منابع دنیا کے مختلف گوشوں کے کتب خانوں میں بکھرے پڑے ہیں ، لیکن یہ مشکل بھی شیخ کے لئے چنداں اہمیت کی حامل نہیں تھی ، اسی لئے ضروری منابع و مآخذ کے حصول اور اسلام کے فکری میراث سے فیضیاب ہونے کے لئیدنیا کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا ۔اس سلسلے میں ان سے منقول ہے کہ انہوںنے ہندوستان کا سفر کیا اور کافی دنوں تک وہاں کے عظیم کتب خانوں کی چھان بین کی ، کتابوں سے ضروری نوٹ بنائے اوران کتابوں کا تجزیہ و تحلیل کیا جو صرف ہندوستان ہی میں دستیاب ہوسکتی تھیں۔۔۔۔۔۔ایک اہم واقعہ :جوعلامہ امینی کے بعض قریبی افراد سے منقول ہے :  
   جو بحث و تحقیق کے سلسلے میں ان کی بے پناہ جد و جہد کی نشاندہی کر تاہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے :ایک دن علامہ گریہ کررہے تھے ؛ اس لئے کہ ان کی ضرورت کی بعض اہم کتابیں دستیاب نہیں ہوپائی تھیں، علامہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مصادر و مآخذ کے لئے امیر المومنین حضرت علی ؑ سے متوسل ہوتے تھے ۔ ایک دن امیر المومنین سے متوسل ہوئے اور کہا : یہ کتاب ’’ الغدیر ‘‘ آپ کی کتاب ہے ، غدیر آپ کاہے ، لہذا آپ کو اس مقام و مرتبہ کا واسطہ جو خدا کی بارگاہ میں ہے ، جن کتابوں کی مجھے ضرورت ہے اسے فراہم کرنے میں مدد کریں ۔ علامہ امینی کابیان ہے : مختصر سی نیند کے بعد میں بیدار ہوا ، احساس ہوا کہ کوئی دق الباب کررہاہے ، میں نے دروازہ کھولا دیکھا کہ میرا پڑوسی ’’بنیا‘‘ ہے ، اس نے کہا : میں نے ایک نیا گھر خریدا ہے جو میرے گھر سے بہت بڑا ہے ، جب ہم گھر کے وسائل کو وہاں منتقل کر رہے تھے تو دیکھا کہ ایک پرانے گوشہ میں یہ کتاب پڑی ہے ، میری زوجہ نے کہا : یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں، اسے شیخ امینی کو ہدیہ کردیں ۔ علامہ نے وہ کتاب دیکھی ، معلوم ہوا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کی تلاش میں وہ مہینوں سے سرگرداں تھے ۔۔۔دوسرا حیرت انگیز واقعہ : کتاب کی فراہمی کی مشکل کے سلسلے میں ایک دوسرا واقعہ بھی منقول ہے جو پہلے والے واقعہ سے کم حیرت انگیز نہیں ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ علامہ امینی کو زمخشری کی کتاب ’’ربیع الابرار‘‘ کی شدید ضرورت تھی ، یہ کتاب طباعت سے پہلے بہت نادر و نایاب تھی اور اس کے تین ہی خطی نسخے موجود تھے ، ایک نسخہ یمن میں موجود امام یحیی کے پاس تھا ، دوسرا شام کے کتب خانہ ٔ ظاہریہ میں اور تیسرا نجف اشرف کے ایک کے پاس تھا ، جن کے انتقال کے بعد ان کا کتب خانہ ان کے فرزندتک منتقل ہوگیاتھا ۔علامہ امینی اس عالم کے گھر پہونچے ، علامہ نے ان کے فرزند سے صرف تین دن کے لئے اس کتاب کو عاریۃً مانگا لیکن انہوںنے دینے سے انکار کردیا ، علامہ نے خواہش کی کہ صرف دو دن کے لئے دے دیں لیکن انہوںنے اس سے بھی منع کردیا ، حتی ایک دن کے لئے دینے سے منع کردیا۔ علامہ کا بیان ہے : میں نے ان سے کہا :صرف تین گھنٹے کے لئے عاریۃً دے دیں لیکن انہوںنے اس کی بھی ممانعت کردی ، میں نے کہا : اس بات کی اجازت دے دیں کہ میں آپ ہی کے گھر میں آپ کے سامنے اس کتاب کا مطالعہ کر لوں لیکن انہوںنے یہ بھی قبول نہ کیا ، چنانچہ میں ان سے اور کتاب کے حصول سے پوری طرح مایوس ہوگیا ۔علامہ کا بیان ہے : اس کے بعد میں مرجع عالی قدر آیۃ اللہ سید ابوالحسن اصفہانی سے ملاقات کے لئے گیا تاکہ وہ اس کتاب کے لئے میری سفارش کردیں ، لیکن صاحب کتاب نے پھربھی کتاب دینے سے انکار کردیا ، اس کے بعد میں آیۃ اللہ شیخ محمد حسین کاشف الغطا کے پاس گیا تاکہ ان کے احترام میں وہ کتاب عاریۃً مل جائے لیکن پھربھی انہوںنے کتاب دینے سے انکار کردیا ، اس کے بعد تو میں کتاب سے بالکل مایوس ہوگیا ، امیر المومنین کے حرم مطہر گیا اور اس سارے واقعہ کی شکایت کی ، اس کے بعد پریشاں حال اپنے گھر پہونچا ، اس پریشاں حالی میں میری نیند بھی اڑ گئی تھی ،تھوڑی دیرسویاتھا کہ خواب میں امام کو دیکھا ، کتا ب کے سلسلے میں جو رنج و غم اٹھائے تھے اس کی شکایت کی ، امام نے جواب دیا : ان جواب سوالک عند ولدی الحسین ’’ تمہارے سوال کا جواب میرے فرزند حسین کے پاس ہے ‘‘۔میں فوراً ہی بیدار ہوا ، وضو کیا اور طلوع فجر کے وقت سید الشہداء امام حسین کے حرم کی زیارت کی غرض سے کربلا کے لئے روانہ ہوگیا ، نماز صبح اور زیارت پڑھنے کے بعد میں نے امام حسین سے ان پریشانیوں کی شکایت کی جو کتاب کے حصول کے سلسلے میں اٹھائی تھیں، پھر وہاں سے حضرت عباس کے حرم کی زیارت کے لئے نکلا ،زیارت کے بعد ان کے اور ان کے عظیم بھائی کے حق کا واسطہ دے کر خدا سے دعا کی اور ایک صحن میں بیٹھ کر سوچ رہا تھا کہ اچانک شیخ محسن ابو الحب جو اس وقت کربلا کے برجستہ خطیب تھے ، میری طرف آئے اور احوال پرسی کے بعد گھرمیں آکر آرام اور ناشتہ کرنے کی دعوت دی ، میں نے ان کی دعوت قبول کرلی ، وہ گرمی کا زمانہ تھا ۔میں ان کے گھر کے پائیں باغ میں بیٹھا تھا ، تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد ان سے کہا : آپ کا کتب خانہ کہاں ہے ، مجھے اپنے کتب خانے تک راہنمائی کریں ، دیکھا کہ ان کے کتب خانے میں بہت زیادہ اور نفیس کتابیں موجود تھیں، میں ان کی کتابیں دیکھتارہا اچانک مطلوبہ کتاب ’’ ربیع الابرار ‘‘ دستیاب ہوئی،کتاب اٹھائی اور مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ بالکل وہی کتاب ہے ، ناچاہتے ہوئے بھی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے،میں بلند آواز سے رونے لگا ، شیخ ابوالحب حیران و پریشان میرے پاس آئے اور رونے کی وجہ پوچھی ، میں نے پورا واقعہ ان کے گوش گذار کیا ، پورا واقعہ سننے اور یہ بات کہ امیرالمومنین نے یہاں تک آنے کی راہنما ئی فرمائی ہے ، سننے کے بعد شیخ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ، مجھ سے کہا : یہ خطی نسخہ کمیاب ہے ، قاسم محمد رجب اس کتاب کی خرید و طباعت کے لئے مجھے ایک ہزار دینار دینا چاہتے تھے لیکن میں نے ان کی فرمائش رد کردی ، پھر شیخ نے اپنا قلم نکال کر اس کتاب پر علامہ امینی کے لئے ہدیہ لکھ دیا اور کہا  :  یہ  د و ائمہ امام علی اور امام حسین ( علیہما السلام ) کا جواب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔تقریر و بیان :
علامہ امینیؒ کی ذاتی خصوصیات میں ان کا حیرت انگیز طرز بیان بھی شامل ہے ، حتی جب وہ عالم اور معمولی محفلوں سے بھی خطاب کرتے تو ان کا اخلاص ، منطق کی گہرائی اور ان کی شعلہ بیانی محفل پر چھائی رہتی ۔ جب وہ منبر پر جاتے تو ایک قوی اور بے مثال خطیب کی حیثیت سے گرجتے تھے ۔ان کی تقریر سننے کے لئے ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار کا مجمع ہوا کرتا تھا ، ان کی تاریخی تقریروں میں ہمدان ، اصفہان ، مشہد ، کرمانشاہ ، تہران کے علاوہ ہندوستان کے شہر کانپور اور حیدر آباد دکن وغیرہ میں کی گئی تقریریں ناقابل فراموش ہیں ۔                 
 ۔۔۔۔۔۔سلسلہ جاری۔۔۔۔۔۔
                         [زیر نظر:سید شمع محمد رضوی،مدیر قرآن و عترت فائونڈیشن]
   [ رابطہ کیجئے: ۱۱ جلدی الغدیر بہ زبان اردو: قرآن و عترت فاونڈیشن: ایران 00989191600338     
         ہندوستان [07352758474] [09833105026.mumbai.].[08521260415.houza.elmia.aytullah.khamnai.bhikpur]

Last modified on دوشنبه, 21 مهر 1393 11:03
Login to post comments