Print this page

39۔ طلب عفو و رحمت کی دعا

آبان 02, 1392 712
Rate this item
(0 votes)

بار الہا! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہر امر حرام سے میری خواہش (کا زور) توڑ دے اور ہر گناہ سے میری حرص کا رخ

موڑ دے اور ہر مومن اورمومنہ مسلم اور مسلمہ کی ایذا رسانی سے مجھے باز رکھ۔اے میرے معبود ! جو بندہ بھی میرے بارے میں ایسے امر کا مرتکب ہو جسے تو نے اس پر حرام کیا تھا اور میری عزت پر حملہ آور ہوا جس سے تو نے اسے منع کیا تھا، میرا مظلمہ لے کر دنیا سے اٹھ گیا ہو یا حالت حیات میں اس کے ذمہ باقی ہو تو اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے اسے بخش دے اور میرا جو حق لے کر چلا گیا ہے اسے معاف کر دے اور میری نسبت جس امر کا مرتکب ہوا ہے اس پر اسے سرزنش نہ کر اور مجھے آزردہ کرنے کے باعث اسے رسوا نہ فرما اورجس عفو ودرگزر کی میں نے ان کے لیے کش کی ہے اور جس کرم وبخشش کو میں نے ان کے لیے روا رکھا ہے اسے صدقہ کرنے والوں کے صدقہ سے پاکیزہ تر اور تقرب چاہنے والوں کے عطیوں سے بلند تر قرار دے اور اس عفو ودرگزر کے عوض تو مجھ سے درگزر کر اور ان کے لیے دعا کرنے کے صلہ میں مجھے اپنی رحمت سے سرفراز فرما تاکہ ہم میں سے ہر ایک تیرے فضل وکرم کی بدولت خوش نصیب ہو سکے اور تیرے لطف واحسان کی وجہ سے نجات پا جائے ۔ اے اللہ ! تیرے بندوں میں سے جس کسی کو مجھ سے کوئی ضرر پہنچا ہو یا میری جانب سے کوئی اذیت پہنچتی ہو یا مجھ سے یا میر ی وجہ سے اس پر ظلم ہوا ہو اس طرح کہ میں نے اس کے کسی حق کو ضائع کیا ہو یا اس کے کسی مظلمہ کی داد خواہی نہ کی ہو ۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اپنی غنا و تونگری کے ذریعہ اسے مجھ سے راضی کر دے اور اپنے پاس سے اس کا حق بے کم وکاست ادا کر دے ۔ پھر یہ کہ اس چیز سے جس کا تیرے حکم کے تحت سزاوار ہوں ، بچا لے اور جو تیرے عدل کا تقاضا ہے اس سے نجات دے ۔ اس لیے کہ مجھے تیرے عذاب کے برداشت کرنے کی تاب نہیں اورتیری ناراضگی کے جھیل لے جانے کی ہمت نہیں ۔ لہذا اگر تو مجھے حق وانصاف کی رو سے بدلہ دےگا۔ تو مجھے ہلاک کر دے گا اور اگر دامن رحمت میں نہیں ڈھانپے گا تو مجھے تباہ کردے گا۔اے اللہ ! اے میرے معبود! میں تجھ سے اس چیز کا طالب ہوں جس کے عطا کرنے سے تیرے ہاں کچھ کمی نہیں ہوتی اور وہ بارتجھ پر رکھنا چاہتا ہوں جو تجھے گرانبار نہیں بناتا۔ اور تجھ سے اس جان کی بھیک مانگتا ہوں جسے تو نے اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اس کے ذریعہ ضرر و زیاں سے تحفظ کرے یا منفعت کی راہ نکالے بلکہ اس لیے پیدا کیا تاکہ اس امر کا ثبوت بہم پہنچائے اور اس بات پر دلیل لائے کہ تو اس جیسی اور اس طرح کی مخلوق پیدا کرنے پر قادر وتوانا ہے اورتجھ سے اس امر کا خواستگار ہوں کہ مجھے ان گناہوں سے سبکبار کر دے جن کا بار مجھے ہلکان کیے ہوئے ہے اور تجھ سے مدد مانگتا ہوں اس چیز کی نسبت جس کی گرانباری نے مجھے عاجز کر دیا یے تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اور میرے نفس کو باوجودیکہ اس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے بخش دے اورا پنی رحمت جو میرے گناہوں کا بارگراں اٹھانے پر مامور کر اس لیے کہ کتنی ہی مرتبہ تیری رحمت گنہگاروں کے ہمکنار اورتیرا عفو ووکرم ظالموں کے شامل حال رہا ہے تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان لوگوں کے لیے نمونہ بنا جنہیں تو نے اپنے عفو کے ذریعہ خطا کاروں کے گرنے کے مقامات سے اوپر اٹھا لیا اور جنہیں تو نے اپنی توفیق سے گنہگاروں کے مہلکوں سے بچا لیا ۔ تو وہ تیرے عفو وبخش کے وسیلہ سے تیری ناراضگی سے بندھنوں سے چھوٹ گئے اور تیرے احسان کی بدولت عدل کی بندشوں سے آزاد ہو گئے۔ اے میرے اللہ ! اگر تو مجھے معاف کر دے تو تیرا یہ سلوک اس کے ساتھ ہو گا جو سزاوار عقوبت ہونے سے انکاری نہیں ہے اور نہ مستحق سزا ہونے سے اپنے کو بری سمجھتا ہے یہ تیرا برتاؤ اس کے ساتھ ہوگا۔ اے میرے معبود ! جس کا خوف امید عفو سے بڑھا ہوا ہے اورجس کی نجات سے ناامیدی ، رہائی کی توقع سے قوی تر ہے ۔ یہ اس لیے نہیں کہ اس کی نا امیدی رحمت سے مایوسی ہو یا یہ کہ اس کی امید فریب خوردگی کا نتیجہ ہو بلکہ اس لیے کہ اس کی برائیاں نیکیوں کے مقابلہ میں کم اور گناہوں کے تمام موارد میں عذر خواہی کے وجوہ کمزور ہیں ۔ لیکن اے میرے معبود تو اس کا سزا وار ہے کہ راستباز لوگ بھی تیری رحمت پر مغرور ہو کر فریب نہ کھائیں اورگنہگار بھی تجھ سے نا امید نہ ہوں اس لیے کہ تو وہ رب عظیم ہے کہ کسی پر فضل واحسان سے دریغ نہیں کرتا اور کسی سے اپنا حق پورا پورا وصول کرنے کے درپے نہیں ہوتا ۔ تیرا ذکر تمام نام آوروں (کے ذکر ) سے بلند تر ہے اور تیرے اسماء اس سے کہ دوسرے حسب ونسب والے ان سے موسوم ہوں منزہ ہیں ۔ تیری نعمتیں تمام کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں لہذا اس سلسلہ میں تیرے ہی لیے حمد وستائش ہے اے تمام جہان کے پروردگار۔

اللهم صل علي محمد و آله ، و اكسر شهوتي عن كل محرم ، و ازو حرصي عن كل ماثم ، و امنعني عن اذي كل مؤمن و مؤمنة ، و مسلم و مسلمة .اللهم و أيما عبد نال مني ما حظرت عليه ، و انتهك مني ما حجزت عليه ، فمضي بظلامتي ميتا ، أو حصلت لي قبله حيا فاغفر له ما الم به مني ، واعف له عما ادبر به عني ، و لا تقفه علي ما ارتكب في ، و لا تكشفه عما اكتسب بي ، و اجعل ما سمحت به من العفو عنهم ، و تبرعت به من الصدقة عليهم ازكي صدقات المتصدقين ، و اعلي صلات المتقربين .و عوضني من عفوي عنهم عفوك ، و من دعائي لهم رحمتك حتي يسعد كل واحد منا بفضلك ، و ينجو كل منا بمنك .اللهم و أيما عبد من عبيدك ادركه مني درك ، أو مسه من ناحيتي اذي ، أو لحقه بي أو بسببي ظلم ففته بحقه ، أو سبقته بمظلمته ، فصل علي محمد و آله ، و ارضه عني من وجدك ، و أوفه حقه من عندك .ثم قني ما يوجب له حكمك ، و خلصني مما يحكم به عدلك ، فإن قوتي لا تستقل بنقمتك ، و إن طاقتي لا تنهض بسخطك ، فانك إن تكافني بالحق تهلكني ، و إلا تغمدني برحمتك توبقني .اللهم إني استوهبك - يا الهي - ما لا ينقصك بذله ، و استحملك ما لا يبهظك حمله .استوهبك - يا الهي - نفسي التي لم تخلقها لتمتنع بها من سوء ، أو لتطرق بها الي نفع ، و لكن انشأتها اثباتا لقدرتك علي مثلها ، و احتجاجا بها علي شكلها .و استحملك من ذنوبي ما قد بهظني حمله ، و استعين بك علي ما قد فدحني ثقله .فصل علي محمد و آله ، و هب لنفسي علي ظلمها نفسي ، و وكل رحمتك ، باحتمال اصري ، فكم قد لحقت رحمتك بالمسيئين ، و كم قد شمل عفوك الظالمين .فصل علي محمد و آله ، و اجعلني أسوة من قد أنهضته بتجاوزك عن مصارع الخاطئين ، و خلصته بتوفيقك من ورطات المجرمين ، فاصبح طليق عفوك من اسار سخطك ، و عتيق صنعك من وثاق عدلك .إنك إن تفعل ذلك - يا الهي - تفعله بمن لا يجحد استحقاق عقوبتك ، و لا يبرئ نفسه من استيجاب نقمتك .تفعل ذلك - يا الهي - بمن خوفه منك اكثر من طمعه فيك و بمن يأسه من النجاة أوكد من رجائه للخلاص ، لا أن يكون يأسه قنوطا ، أو أن يكون طمعه اغترارا ، بل لقلة حسناته بين سيئاته ، و ضعف حججه في جميع تبعاته .فأما أنت - يا الهي - فاهل أن لا يغتر بك الصديقون ، و لا ييأس منك المجرمون ، لأنك الرب العظيم الذي لا يمنع احدا فضله ، و لا يستقصي من احد حقه .تعالي ذكرك عن المذكورين و تقدست اسماؤك عن المنسوبين ، و فشت نعمتك في جميع المخلوقين ، فلك الحمد علي ذلك يا رب العالمين .
Last modified on چهارشنبه, 22 مرداد 1393 15:18
Login to post comments