×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

بھاری چیز

مهر 11, 1392 1416

ہماری زندگی بھی کیا زندگی ہے۔ جب دیکھو۔ دوڑ دھوپ ہو رہی ہے۔ فرزانہ نے سرد آہ بھر کر کہا۔ وہ دیکھو۔ ہمارے سروں پر سیا ہ بادل آ گیا۔

دھوپ یہاں سے ہٹ گئی۔ اب ہماری زندگی دوڑ دھوپ نہیں دوڑ بادل بن گئی ہے۔ فاروق مسکرایا۔ دماغ چل گیا ہے شاید۔ محمود نے اسے گھورا۔ یہ تمہارا خیال ہے جو کہ سند نہیں فاروق بولا۔ میرا خیال ہے بہت جلد ہم کہیں الجھنے والے ہیں۔ فرزانہ نے کہا۔ فضول خیال ہے۔ الجھ کر ہی تو آ رہے ہیں اب اور کیا الجھیں گے۔ کتنے دن ہو گئے ہمیں گھر سے نکلے ہوئے۔ اب فارغ ہوئے ہیں تو تم کہ رہی ہو کہ ہم الجھنے والے ہیں کم از کم ایک بار گھر تو چلے جائیں اس کے بعد الجھ جائیں گے۔

 

اگر تقدیر نے گھر جانے کا وقت دیا تبھی جائیں گے نا وہ دیکھو ایک عمارت نظر آ رہی ہے۔ ہم کچھ دیر یہاں آرام کر کے آگے بڑھیں گے ۔ میں تو گاڑی چلا چلا کر بری طرح تھک گیا ہوں۔ محمود نے جلدی جلدی کہا۔

 

ابا جان۔ انکل خان رحمان اور پروفیسر انکل بھی ہمارے ساتھ آ جاتے تو کتنا اچھا تھا لیکن ابا جان نے ہمیں پہلے بھیج دیا ہے کوئی تک فاروق نے جل بھن کر کہا۔

 

کوئی تک ہے تبھی تو انہوں نے ہمیں پہلے بھیج دیا ہے اگر تک نہ ہوتی تو وہ کیوں بھیجتے۔

 

عمارت بہت خوبصورت لگتی ہے چاروں طرف سبزہ زار بھی ہے میں تو کہتا ہوں یہیں رک کر ابا جان اور انکلز کا انتظار کر لیتے ہیں فاروق نے کہا۔ ہرگز نہیں ابا جان کا حکم ہے کہ ہم فوراً گھر پہنچیں گھر پہنچنے سے پہلے ہم کہیں رکنا پسند نہیں کریں گے۔ یہ ان کے حکم کی خلاف ورزی ہو گی۔ عین اسی وقت ٹائر پھٹنے کی آواز گونجی۔ ساتھ ہی فاروق نے قہقہہ لگایا۔ اب بھی رکو گے یا نہیں۔

 

ہرگز نہیں ٹائر تبدیل کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔ اب شاید تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ فاروق نے منہ بنایا۔ فاروق ٹھیک کہ رہا ہے محمود۔

 

کیا ٹھیک کہہ رہا ہے ؟

 

یہ کہ تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ فرزانہ مسکرائی

 

پاگل ہو گئی ہو کیا بھلا میرا دماغ کیوں چلنے لگا دماغ کی بھی ایک ہی کہی۔ چلنے کو اس دنیا میں کیا نہیں چل سکتا۔ فاروق بولا۔ ہاں یاد آیا۔ ایک ٹائر تو پہلے ہی پنکچر ہو چکا ہے ارے باپ رے۔ خیر ہم اس عمارت والوں سے مد د مانگ لیتے ہیں شاید یہاں سے کوئی ٹائر مل جائے اس صورت میں بھی ہمیں رکنا تو پڑے گیا نا۔ اسے رکنا نہیں کہتے محمود نے فوراً کہا۔ بھئی تم شوق سے اسے رکنا نہ کہو میں کہ لیتا ہوں۔ رکنا۔ بلکہ ٹھہرنا۔ قیام کرنا۔ فاروق نے آنکھیں نکالیں۔

 

بس بس اتنی باہر نہ نکالو یہ آنکھیں کہیں بالکل ہی باہر آ کر گالوں پر نہ اٹک جائیں فرزانہ گھبرا گئی۔ پھر ان کو گالوں پر اٹکنے کی کیا ضرورت رہ جائے گی فاروق نے منہ بنایا۔ اچھا آؤ۔ ٹائر کا پتا کریں۔ محمود بولا۔ ٹائر کی بجائے کہیں ہمیں کسی اور چیز کا پتا نہ چل جائے۔ فاروق نے کہا۔ میں نے ٹائر کا پتا کرنے کی بات کی ہے۔ پتا چلنے کی نہیں۔ حد ہو گئی۔ تم دونوں تو بس ایک دوسرے سے لڑنے پر تلے رہتے ہو کوئی موقع تو خالی جانے دیا کرو۔ تمہیں خالی موقعوں کی آخر ایسی کیا ضرورت ہے۔ فاروق نے حیران ہو کر کہا اور فرزانہ اسے گھور کر رہ گئی۔ مم۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ کس سے۔ فرزانہ کی آنکھوں سے ؟

 نن۔ نہیں اس عمارت سے فاروق نے واقعی خوف زدہ ہو کر کہا۔ لو۔ اب یہ حضرت عمارتوں سے بھی ڈرنے لگے۔

 عمارتیں ہی تو ہوتی ہیں جن سے ڈرا جاتا ہے۔ تم نے نہیں سنا۔ بھوت بنگلہ ، چڑیل محل ، جنوں کا گھر۔ یہ تو شاید جھوٹے بچوں کی کہانیوں کی کتابوں کے نام ہیں۔جو فضول قسم کے لکھنے والے لکھتے رہتے ہیں

 میرا خیال ہے۔ ہم باتوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ہمیں فوراً اس عمارت میں پہنچنا چاہیے۔ اگر ٹائر مل گیا تو مزا آ جائے گا۔ فرزانہ نے کہا۔

 نہیں ملا تو زیادہ مزا آئے گا۔ فاروق مسکرا کر بولا۔ لیکن ہم مزے کے پیچھے کیوں پڑیں۔ ہمیں تو بس گھر جانا ہے۔ آؤ۔

 تینوں تیزی سے اس عمارت کی طرف قدم اٹھانے لگے اس کے گرد یہ خوب صورت باغ دیکھ کر میرا جی بے تحاشہ چاہنے لگا ہے کہ ہم کچھ دیر کے لیے یہاں رک جائیں فرزانہ بولی۔

 لیکن ابا جان کے حکم کا کیا کریں۔ محمود نے کہا۔ انہوں نے خاص طور پر تو ہم سے یہ کہا نہیں کہ سیدھے گھر جائیں۔ راستے میں کہیں نہ رکیں۔ میں پھر بھی اسے مناسب نہیں سمجھتا۔ ہو سکتا ہے۔ شہر میں ہماری شدید ضرورت ہو اور ہم یہاں رک کر رہ جائیں۔ پھر ابا جان ضرور ہم پر بگڑیں گے۔

 اچھا بابا۔ اللہ کرے ٹائر مل جائے پھر ہم سیدھے گھر ہی جائیں گے۔ بلکہ اگر تم کہو تو ہم ناک کی سیدھ میں چلے جائیں گے۔ بس خاموش۔ ہم عمارت کے نزدیک پہنچنے والے ہیں۔ لیکن اس عمارت کے نزدیک باتیں کرنا منع تو نہیں ہے۔ دھت تیرے کی محمود نے جھلا کر اپنی ران پر ہاتھ مارا لیکن اس کا ہاتھ فرزانہ کی کہنی پر لگا۔ تم تو کہنی اور ران میں پہچان بھی بھول گئے فرزانہ نے تلملا کر کہا۔ اوہ معاف کرنا فرزانہ۔ دراصل میرا ہاتھ پھسل گیا تھا۔ محمود نے گھبرا کر کہا۔

 تمہارا ہاتھ پھسل گیا۔ فاروق کی زبان پھسلتی رہتی ہے۔ آخر ہم گھر کس طرح پہنچیں گے۔ فرزانہ نے گھبرا کر کہا۔ ہاں واقعی۔ یہ بات تو قابل غور ہے محمود بولا۔ بھئی دوسرا ٹائر تو جیسے اس عمارت والے تیار لیے بیٹھے ہیں ہمارے لیے فرزانہ نے اسے گھورا

 ان کی کسی کار میں سے نکالنے کے لیے کتنا وقت لگ جائے گا۔ ارے واہ۔ یہاں تو چھے سات کاریں نظر آ رہی ہیں۔ سمجھ لو۔ بن گیا کام۔

 امید تو یہی ہے لیکن ہو سکتا ہے یہ لوگ ہماری مد د نہ کریں۔

 اس صورت میں ہم زبردستی ٹائر حاصل کریں گے۔ محمود نے کہا یہ تو شرافت نہیں۔ لیکن کسی کی مصیبت میں کام نہ آنا بھی تو شرافت نہیں۔ محمود بولا۔ وہ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ ہم ان کا ٹائر واپس کرنے نہیں آئیں گے۔

 اگر وہ یہ خیال ظاہر کریں گے تو ہم ٹائر کی قیمت انہیں دے دیں گے۔ اس صورت میں تو وہ کوئی اعتراض نہیں کریں گے نا۔ اس صورت میں بھی اگر اعتراض کریں گے تو ہم ان کے اعتراض کی ایسی کی تیسی کر دیں گے۔ ایسی کی تیسی کرنے سے یہ کہیں بہتر ہے کہ ہم ان کی تیسی کی ایسی کریں۔ فاروق نے کہا۔ وہ تم کرنا محمود نے جل کر کہا۔ اور فرزانہ کیا کرے گی۔ تم دونوں کا انتظار۔ کم از کم ٹائر مانگنے کے سلسلے میں میں تمہارا ساتھ نہیں دوں گی۔ تم ضرور اوٹ پٹانگ طریقہ اختیار کرو گے۔ فرزانہ نے گھبرا کر کہا۔

 اچھا تو پھر تم یہیں ٹھہرو۔ ہم ٹائر لے کر ابھی آتے ہیں۔ شکریہ میں بھی یہی چاہتی ہوں یہ کہہ کر فرزانہ کرک گئی۔ دونوں منہ بنا کر آگے بڑھ گئے۔ اس کا خیال ہے ہمیں ٹائر نہیں ملے گا۔ جب کہ ہم یہاں سے ایک دو نہیں پورے سات ٹائر حاصل کر سکتے ہیں فاروق نے کہا۔ لیکن یار ہم اتنے ٹائروں کا کریں گے کیا۔ محمود نے گھبرا کر کہا۔ اوہو۔ بھئی میں نے کہا ہے حاصل کر سکتے ہیں ، یہ نہیں کہا کہ حاصل کریں گے۔حاصل تو ہم صرف ایک کریں گے۔ لیکن اگر نہ کر سکے تو فرزانہ بہت مذاق اڑائے گی۔ محمود بولا۔ دونوں دروازے پر پہنچ گئے۔ گیٹ کھلا تھا وہ بے دھڑک اندر داخل ہو گئے لیکن پھر ٹھٹک کر رک گئے ساتھ ہی دیوار پر ہاتھ سے لکھا ایک پوسٹر لگا تھا اس کے الفاظ پڑھ کر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ یہ۔ یہ۔ یہ کیا ؟ فاروق نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔

 شش۔ شاید۔ ایک عدد کیس۔ محمود نے بھی ہکلا کر کہا۔

 آؤ۔ فوراً۔ یہاں سے نکل جائیں ، ورنہ یہ کیس ہمیں چمٹ جائے گا۔ کسی بھوت کی طرح۔ لل۔ لیکن ٹائر کے بغیر۔

 بھئی ٹائر کسی اور سے لے لیں گے۔ وہاں اس پوسٹر سے تو واسطہ نہیں پڑے گا۔ اچھی بات ہے۔ محمود نے کہا۔ دونوں فوراً واپس مڑے اور فرزانہ کی طرف بڑھنے لگے۔ ابھی تک انہیں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ فرزانہ نے جب انہیں خالی ہاتھ آتے دیکھا تو بھنا اٹھی۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا۔ تم ٹائر نہیں لا سکو گے۔ اب تم یہاں ٹھہرو میں ٹائر لا کر دکھاتی ہوں۔

 تم ٹائر لاؤ گی۔ میں کہتا ہوں۔ رہنے ہی دو۔ کہیں یہ عمارت ہمارے گلے نہ پڑ جائے۔ فاروق نے جلدی جلدی کہا۔ کیا باتیں کر رہے ہو۔ عمارت گلے نہ پڑ جائے۔ اس نے بوکھلا کر کہا۔

 اگر ہماری باتیں تمہیں کسی پاگل کی باتیں لگتی ہیں تو جاؤ۔ جا کر ٹائر لے آؤ۔ محمود نے جل کر کہا۔ لگتی تو خیر ہیں۔ لہذا میں جا رہی ہوں۔ اور وہ پیر پٹختی چلی گئی۔ لیکن جلد ہی اس کی بھی واپسی ہو گئی۔ تم نے وہاں دیوار پر لگا پوسٹر پڑھا؟ فرزانہ نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔ ہاں اور عمارت کے دروازے پر یا اندر کوئی نظر بھی نہیں آیا۔ ہاں اس کا مطلب ہے۔ شاید۔ اندر کوئی واردات ہو چکی ہے۔

 ارے باپ رے۔ فاروق نے کہا اور تھر تھر کانپنے لگا۔ بھئی اب تمہیں کانپنے کی اتنی بھی ضرورت نہیں۔ جتنا کہ کانپ رہے ہو۔ آؤ دیکھتے ہیں۔ کیا چکر ہے۔ فرزانہ نے کہا۔ دیکھ لو۔ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ فاروق نے کہا۔ اور ہم تینوں کو لینے کے دینے کب نہیں پڑتے۔ یہ تو ہمارا مقدر ہے۔ فرزانہ مسکرائی۔

 تینوں ایک ساتھ عمارت کے دروازے پر پہنچے ، اس سے پہلے وہ سبزہ زار کو تعریف بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے آئے تھے۔ جونہی وہ دروازے پر پہنچے۔ ایک بھاری چیز ان پر آ گری۔

 

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:02
Login to post comments